نیو منی میں قیام سے سنت چھوٹ جائے گی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نیو منی میں قیام اور پانچ نمازوں کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے نیو منی (مزدلفہ کی حدود) میں خیمہ ملا ہے، تو جن حاجیوں کے خیمے نیو منی (یعنی مزدلفہ) میں ہیں، وہ پانچ نمازیں اور رات کا قیام اگر اپنے خیمے میں ہی کریں، تو ان کے لئے کیا حکم ہوگا؟
جواب
اجمالی حکم یہ ہے کہ آٹھ (8) ذو الحجہ کی نمازِ ظہر سے لے کر نو (9) ذو الحجہ کی نمازِ فجر تک پانچ نمازیں (حقیقی) منیٰ میں پڑھنا اور آٹھ اور نو ذوالحجہ کی درمیانی رات مِنیٰ میں گزارنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ اگر کوئی شخص انہیں بلا عذرِ شرعی ترک کردے، تو وہ عتاب کا مستحق ہوگا، البتہ اگر کسی صحیح عذر کی بناء پر ایسا کیا، تو اس کے وبال سے بری الذمہ تو ہو جائے گا، لیکن سنت کی ادائیگی سے محروم بہرحال رہے گا۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ منی، عرفات، مزدلفہ وغیرہ مشاعرِ مقدسہ کی حدود شارع کی طرف سے متعین ہیں، لہذا از خود کسی جگہ کو منی، مزدلفہ یا عرفات قرار دینا شرعاً درست نہیں ہے اور قرار دینے سے وہ حقیقتاً ان مشاعر مقدسہ کی حدود میں شامل نہیں ہو جائے گی اور حاجی کے لئے منی میں پانچ نمازیں ادا کرنے اور رات قیام والی سنتِ مؤکدہ کا تعلق حقیقی منی سے ہے، تو جن افراد کے خیمے نیو منی (یعنی مزدلفہ) میں ہیں اور وہ اِسی جگہ رات کے قیام اور نمازوں کا اہتمام کریں، تو ان کی یہ سنتِ مؤکدہ چھوٹ جائے گی۔ پھر اگر یہ ترکِ سنت بغیر کسی عذر کے ہو، مثلاً حقیقی منی میں رات کا قیام اور پانچ نمازوں کا اہتمام بآسانی ممکن ہو، اس کے باوجود چھوڑے، تو عتاب کا مستحق ہو گا، البتہ کسی صحیح عذر کے سبب ہو، مثلاً سامان خیمے میں موجود ہے، جسے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے اور وہاں چھوڑنے میں چوری یا ضائع ہونے کا اندیشہ ہے یا پھر گروپ سے جدا ہونے یا فیملی کو منی ساتھ لے جانے اور اگلے دن عرفات پہنچنے میں دشواری ہو، وغیرہ تو پھر ایسی صورت میں بامرِ مجبوری اس سنت کے ترک پر عتاب سے تو بری الذمہ ہو جائیں گے، لیکن سنت بھی ادا نہیں ہو گی، لہذا جس بھی گروپ کے ذریعے حج پر جائیں، حتی الامکان دیگر ضروری امور کے ساتھ یہ بھی طے کرلینا چاہئے کہ منی میں قیام کے لئے خیمہ اولڈ (یعنی حقیقی) منی میں ہی ہو۔
یہاں یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ایامِ رمی کی راتوں کا اکثر حصہ منی میں گزارنا بھی سنتِ مؤکدہ ہے۔ بعض لوگ محض آرام طلبی کے لئے ایامِ رمی کی راتیں منی کے علاوہ عزیزیہ یا اپنے ہوٹل میں گزارتے ہیں، وہ ضرور عتاب کے مستحق ہوں گے کہ محض آرام طلبی رخصت کی وجہ نہیں ہے۔
حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اعمالِ حج بیان کرتے ہوئے منی جانے اور وہاں قیام کرنے کے متعلق فرماتے ہیں: ’’فلما كان يوم التروية توجهوا الى منى، فاهلوا بالحج و ركب رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، فصلى بها الظهر و العصر و المغرب و العشاء و الفجر، ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس‘‘ ترجمہ: جب آٹھویں ذو الحجہ آئی، تو لوگ منی کی طرف متوجہ ہوئے، پس حج کا احرام باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر منی میں ادا فرمائیں، پھر کچھ دیر ٹھہرے حتی کہ سورج طلوع ہو گیا۔۔الخ۔ (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم، جلد 2، صفحہ 886، مطبوعہ بیروت)
منی میں پانچ نمازیں اور رات قیام سنتِ مؤکدہ ہے۔ البحر العمیق میں ہے: ’’فاذا نزلو بمنی، فالسنۃ ان یصلو بھا الظھر والعصر و المغرب و العشاء و الفجر فی مواقیتھا و ان یبیتوا بھا اقتداءً بسیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم‘‘ یعنی حاجی جب منی میں پہنچیں، تو سنت یہ ہے کہ منی میں نمازِ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر ان کے اوقات میں ادا کریں اور رات منی میں گزاریں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے۔ (البحر العمیق، جلد 3، صفحہ 1411، مکتبۃ مکیہ)
علامہ ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ علیہ سننِ حج اور ان کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اما سنن الحج: ۔۔۔ و ازانھا ست ادا کردن پنج نماز را در منا اعنی ظھر و عصر ومغرب وعشاء و فجر کہ آن فجر روزِ عرفہ است و ازانھا بیتوتہ نمودن اکثر شب عرفہ در منا نہ در مکہ و نہ در عرفات مکر آنکہ بضرورت باشد‘‘ ترجمہ: بہرحال سنن حج:۔۔۔ اور وہاں پر پانچ نمازیں منی میں ادا کرنا یعنی ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کہ وہ یومِ عرفہ کی فجر ہے اور وہیں پر اکثر شبِ عرفہ کا منی میں گزارنا، نہ مکہ میں اور نہ میدانِ عرفات میں مگر ضررورت کے پیشِ نظر۔
پھر مزید سنن ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’مسئلہ این سنن کہ مذکور شدند ھمہ مؤکدہ اند و سنن مؤکدہ بسیار نداز آنچہ مذکور شد ندو در اینجا اکتفا برھمین قدر نمودہ شد و بقیہ سنن مؤکدہ ذکر آنھا در ابواب آئندہ خواھد آمد انشاءاللہ تعالی، مسئلہ حکم سنن مؤکدہ لزوم اساءت است بترک یکی ازانھا عمدا و عدم وجوب چیزی از دم و صدقہ بر تارک آن‘‘ ترجمہ: مسئلہ: یہ تمام سنتیں جن کا ذکر کیا گیا ہے، وہ تمامِ سننِ مؤکدہ ہیں اور سننِ مؤکدہ فقط اتنی نہیں ہیں جن کا ذکر کیا گیا، اس مقام پر ہم اسی قدر پر اکتفاء کرتے ہیں اور بقیہ سننِ مؤکدہ کا ذکر ان شاء اللہ آئندہ ابواب میں آرہا ہے۔ مسئلہ: سننِ مؤکدہ کا حکم: ان میں سے کسی ایک کے عمداً ترک سے اساءت لازم ہے اور اس کے تارک پر دم اور صدقہ سے کوئی چیز واجب نہیں ہوتی۔(حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمہ، فصل سیوم، صفحہ 11، مخطوطہ غیر مطبوعہ)
ایامِ تشریق کی راتیں منی میں گزارنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ چنانچہ علامہ ہاشم ٹھٹھوی رحمۃ اللہ علیہ حج کی مزید سنن (مؤکدہ) بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’و ازانھا بیتوتہ نمودن اکثر شب در منا در شب یاز دھم و دوازدھم و ھمچنین در شب سیز دھم۔۔ الخ‘‘ ترجمہ: وہاں پر اکثر شب منی میں گزارنا گیارھویں اور بارھویں شب اور اسی طرح تیرھویں شب بھی۔۔الخ‘‘۔ (حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمہ، فصل سیوم، صفحہ 11، مخطوطہ غیر مطبوعہ)
ترکِ سنتِ مؤکدہ کسی عذرِ شرعی کی بناء پر ہو، تو وبال نہیں ہوتا۔ فتاوی رضویہ میں ہے: یہ سنت بھی اگرچہ باقی سننِ مؤکدہ کے مثل ہے، جس کا ترک بیشک باعثِ کراہت، مگر حالتِ عذر ہمیشہ مستثنیٰ ہوتی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 577، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مال کی حفاظت عذر ہے۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مال مویشی کی حفاظت کے لئے چرواہوں کو ایامِ تشریق کی راتیں منی سے باہر گزارنے کی اجازت مرحمت فرمائی، جبکہ یہ سنت مؤکدہ ہے۔ چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے: ’’رخص رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم لرعاء الابل في البيتوتة‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ چرانے کے لئے رات گزارنے کے معاملے میں رخصت عنایت فرمائی۔ (سنن ابن ماجہ، صفحہ 602، مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت)
علامہ شرف الدین حسین بن عبد اللہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’رخص لهم ان يتركوا المبيت بمنى في ليالي ايام التشريق لاشتغالهم بالرعي‘‘ ترجمہ: چرواہوں کو رخصت دی گئی کہ وہ ایام تشریق کی رات منی میں نہ گزاریں، کیونکہ وہ جانور چرانے میں مشغول تھے۔ (شرح مشکاۃ للطیبی، کتاب المناسک، جلد 6، صفحہ 2023، مطبوعہ ریاض)
گروپ سے جدا ہونا حرج کا باعث ہو، تو یہ بھی عذر ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ کا اصول ہے: ’’الحرج مدفوع بالنص‘‘ یعنی حرج کا مدفوع ہونا نص سے ثابت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 217، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک مقام پر امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’مطوفون کو اگر اہل قافلہ مل کر یا ایک ہی شخص جو ان کے نزدیک ذی وجاہت ہو مجبور کریں تو ان کو ماننا پڑتا ہے، فقیر کو اس کا تجربہ ہے اور اگر نہ مانیں اور مجبوری ہو تو نویں رات منٰی میں صبح تک ٹھہرنا اور آفتاب چمکنے پر عرفات کو چلنا سنت ہے، مجبورانہ اس کے ترک سے حج میں کوئی نقص نہ آئے گا۔۔۔
باب و شرح لباب سنن حج میں ہے: ’’و الخروج من مکۃ الی عرفۃ یوم الترویۃ و البیوتۃ بمنی لیلۃ عرفۃ الا لحادث من الضروریات و الدفع منہ الی عرفۃ بعد طلوع الشمس‘‘ ترجمہ: یوم ترویہ کو مکہ سے عرفات کی طرف حاجی نکلے اور عرفہ کی رات منٰی میں بسر کرے بشرطیکہ کوئی مانع اور مجبوری نہ ہو اور پھر منٰی سے طلوع آفتاب کے بعد عرفات جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 667، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7459
تاریخ اجراء: 06 ذو الحجۃ الحرام 1445ھ / 13 جون 2024ء