logo logo
AI Search

محصر قربانی نہ کرسکے تو کیا کرے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام باندھنے کے بعد جس کو حج یا عمرے سے روک دیا جائے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ تفصیلی فتوی

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ محصر شخص اگر قربانی نہ کرسکتا ہو، تو کیا وہ قربانی کے بدلے صدقہ دے سکتا ہے، یا روزے رکھ سکتا ہے؟

جواب

مُحصَر شخص کو اِحرام سے باہر ہونے کے لیے حدودِ حرم میں قربانی کرنا لازم ہوتا ہے۔ اگر محُصَر شخص قربانی کرنے سے عاجز ہو، یوں کہ وہ فقیر ہو اور اُس کے پاس اتنا مال ہی نہ ہو جس سے وہ قربانی کرسکے یا مال تو ہو، لیکن کوئی ایسا باعتماد شخص میسر نہ ہو، جسے رقم دے کر حدودِ حرم میں قربانی کروا سکے، تو ایسی صورت میں وہ اِحرام ہی میں رہے گا، یہاں تک کہ قربانی کرلے، یا مکہ مکرمہ پہنچ کر افعالِ حج یا افعالِ عمرہ ادا کرکے احرام سے باہر ہو۔ قربانی کے بدلے صدقہ دینا یا روزہ رکھنا کافی نہیں ہوگا اور وہ احرام سے باہر نہیں ہوگا۔ یہی امام اعظم، امام محمد اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہم کا مؤقف ہے۔ کتب فقہ و مناسک میں اِسے ہی احناف کا مشہور و معروف اور معتمد مذہب بیان کیا گیا ہے۔

احصار میں صدقہ کرنے اور روزے سے احرام سے باہر نہیں ہوگا، یہاں تک کہ قربانی کرلے، یا افعالِ حج و افعالِ عمرہ کی ادائیگی کرلے، یہی احناف کا مشہور قول ہے، چنانچہ تحفۃ الفقہاء میں ہے: أن المحصر إذا لم يجد الهدي و لا ثمن الهدي لا يحل بالإطعام و الصوم بل يبقى محرما إلى أن يجد الهدي فيذبح عنه في الحرم بأمره أو متى زال الإحصار فيذهب إلى مكة فيحج إن بقي وقت الحج و إن فات وقت الحج فيتحلل بأفعال العمرةهذا هو المشهور من قولنا وقال عطاء بن أبي رباح يحل بالإطعام ثم بالصوم بأن يقوم الهدي طعاما فيتصدق به على المساكين و إن لم يجد الطعام يصوم لكل نصف صاع يوما و به أخذ أبو يوسف في رواية و قال الشافعي في قول يحل بالصوم و يصوم ثلاثة أيام في الحج و يصوم سبعة أيام بعدها كما في المتمتع و القارن

ترجمہ: بے شک محصر اگر قربانی نہ پائے اور اس کی قیمت بھی نہ پائے تو وہ کھانا کھلانے اور روزے رکھنے کے ذریعے حلال نہیں ہوگا، بلکہ وہ اسی حالتِ احرام میں رہے گا یہاں تک کہ قربانی مل جائے، پھر اس کے حکم سے حرم میں ذبح کی جائے، یا جب رکاوٹ ختم ہو جائے تو وہ مکہ چلا جائے اور اگر حج کا وقت باقی ہو تو حج کرے، اور اگر حج کا وقت فوت ہو جائے تو عمرہ کے افعال کے ذریعے حلال ہو جائے۔ یہی ہمارے احناف کا مشہور قول ہے۔ اور عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ وہ کھانا کھلانے کے ذریعے حلال ہو جائے گا، پھر روزے کے ذریعے، اس طرح کہ قربانی کی قیمت لگا کر اسے کھانا بنایا جائے اور مساکین کو صدقہ کیا جائے، اور اگر کھانا بھی نہ ملے تو ہر نصف صاع کے بدلے ایک دن روزہ رکھے۔ اسی کو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روایت میں اختیار کیا۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ایک قول یہ ہے کہ وہ روزے کے ذریعے حلال ہو جائے گا، اور وہ حج میں تین دن روزے رکھے گا اور سات دن بعد میں رکھے گا، جیسے متمتع اور قارن کرتے ہیں۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، صفحہ 418، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

مبسوط سرخسی میں ہے: (قال) و إن كان المحصر معسرا لم يحل أبدا إلا بدم لأن الدم متعين لإحلاله بالنص كما أن طواف الزيارة متعين لإحلاله في حق النساء فكما لا يحصل الإحلال بغيره هناك فكذلك هذا، و كان عطاء - رحمه اللہ تعالى - يقول إذا عجز عن الهدي نظر إلى قيمة الهدي فجعل ذلك طعاما يطعم به المساكين، كل مسكين نصف صاع، أو يصوم مكان طعام كل مسكين يوما فيتحلل به بمنزلة الهدي في جزاء الصيد قال أبو يوسف - رحمه اللہ تعالى - في الأمالي، و هذا أحب إلي وللشافعي - رحمه اللہ تعالى - فيه قولان أحدهما هكذا، و الثاني أنه إذا عجز عن الهدي صام مكانه عشرة أيام على قياس هدي المتعة لكنا نقول هذا كله قياس المنصوص على المنصوص، و لا يجوز ذلك بل المرجع في كل موضع إلى ما وقع التنصيص عليه، و لا يجوز العدول عنه إلى غيره

 ترجمہ: (فرمایا): اگر محصر تنگ دست ہو تو وہ کسی صورت حلال نہیں ہوگا مگر دم (قربانی) کے ذریعے؛ کیونکہ نص کے مطابق اس کے حلال ہونے کے لیے دم ہی متعین ہے، جیسے عورتوں کے حق میں حلال ہونے کے لیے طوافِ زیارت متعین ہے، پس جس طرح وہاں اس کے بغیر حلال ہونا حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح یہاں بھی نہیں ہوگا۔ اور عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب وہ ہدی (قربانی) سے عاجز ہو جائے تو ہدی کی قیمت کا اندازہ کرے، پھر اس کو کھانے کی شکل میں مساکین کو کھلائے، ہر مسکین کو نصف صاع دے، یا ہر مسکین کے کھانے کے بدلے ایک دن کا روزہ رکھے، تو اس کے ذریعے وہ حلال ہوجائے گا، شکار کے کفارے میں قربانی کے بدلے کی طرح۔ امام ابو یوسف نے "الامالی" میں فرمایا: یہ قول مجھے زیادہ پسند ہے، اور امام شافعی کے بھی اس بارے میں دو قول ہیں: ایک یہی ہے، اور دوسرا یہ کہ جب ہدی سے عاجز ہو جائے تو ہدیٔ تمتع پر قیاس کرتے ہوئے اس کے بدلے دس روزے رکھے گا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ سب منصوص کو منصوص پر قیاس کرنا ہے، اور یہ جائز نہیں؛ بلکہ ہر مقام میں اسی چیز کی طرف رجوع کیا جائے گا جس پر نص وارد ہوئی ہے، اور اس کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف عدول کرنا جائز نہیں۔ (مبسوط سرخسی، جلد 4، صفحہ 113، دار المعرفۃ، بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے: و لو أراد أن يتحلل بالهدي فلم يجد هديا يبعث، و لا ثمنه هل يحل بالصوم و يكون الصوم بدلا عنه؟ قال أبو حنيفة و محمد: لا يحل بالصوم و ليس الصوم بدلا عن هدي المحصر، و هو ظاهر قول أبي يوسف. و يقيم حراما حتى يذبح الهدي عنه في الحرم، أو يذهب إلى مكة فيحل من إحرامه بأفعال العمرة و هو: الطواف بالبيت، و السعي بين الصفا و المروة. و يحلق أو يقصر كما يفعله إذا فاته الحج، و هو: أحد قولي الشافعي. و قال عطاء بن أبي رباح في المحصر لا يجد الهدي: قوم الهدي طعاما وتصدق به على المساكين، فإن لم يكن عنده طعام صام لكل نصف صاع يوما، و هو مروي عن أبي يوسف. و قال الشافعي في قول: إن الهدي للإحصار بدلا، و اختلف قوله في ماهية البدل فقال في قول: البدل هو الصوم مثل صوم المتعة، و في قول: البدل هو الإطعام و هل يقوم الصوم مقامه؟ له فيه قولان: وجه قول من قال: إن له بدلا أن هذا دم يقع به التحلل، فجاز أن يكون له بدل كدم المتعة.ولنا قوله تعالى {ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله} [البقرة: 196] أي: حتى يبلغ الهدي محله فيذبح، نهى الله عن حلق الرأس ممدودا إلى غاية ذبح الهدي. و الحكم الممدود إلى غاية لا ينتهي قبل وجود الغاية، فيقتضي أن لا يتحلل ما لم يذبح الهدي، سواء صام، أو أطعم، أو لا

 ترجمہ: اگر وہ ہدی (قربانی) کے ذریعے حلال ہونا چاہے مگر اسے ایسی قربانی نہ ملے جسے وہ بھیج سکے، اور نہ اس کی قیمت ہو، تو کیا وہ روزے کے ذریعے حلال حاصل ہوسکتا ہے اور کیا روزہ اس کا بدل بنے گا؟ امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں: وہ روزے سے حلال نہیں ہوگا، اور روزہ محصر کے ہدی کا بدل نہیں ہے، اور یہی امام ابویوسف کے قول کا ظاہر ہے۔ اور وہ بدستور احرام میں رہے گا یہاں تک کہ اس کی طرف سے حرم میں ہدی ذبح کی جائے، یا وہ خود مکہ جا کر عمرہ کے افعال کے ذریعے احرام سے نکلے، اور وہ یہ ہیں: بیت اللہ کا طواف کرنا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا، پھر سر منڈوائے یا بال کٹوائے، جیسا کہ وہ اس وقت کرتا ہے جب اس کا حج فوت ہو جائے اور یہی امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک ہے۔اور عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ محصر اگر ہدی نہ پائے تو ہدی کی قیمت کا اندازہ لگا کر اسے کھانے کی صورت میں مسکینوں کو صدقہ کرے، اور اگر اس کے پاس کھانا بھی نہ ہو تو ہر نصف صاع کے بدلے ایک دن روزہ رکھے۔ اور یہ امام ابو یوسف سے بھی مروی ہے اور امام شافعی ایک قول میں فرماتے ہیں کہ احصار کی ہدی کا بدل ہے، لیکن اس بدل کی نوعیت میں ان کا اختلاف ہے: ایک قول میں بدل روزہ ہے، جیسے ہدیٔ تمتع کے روزے، اور ایک قول میں بدل کھانا کھلانا ہے، اور کیا روزہ اس کے قائم مقام ہو سکتا ہے؟ اس میں بھی ان کے دو قول ہیں۔ جن لوگوں نے کہا کہ اس کا بدل ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ ایسا دم ہے جس کے ذریعے حلال ہونا حاصل ہوتا ہے تو جائز ہے کہ اس کا بدل بھی ہو، جیسے دمِ تمتع (سے عاجز ہونے کی صورت میں اس) کا بدل ہوتا ہے۔ اور ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور اپنے سروں کو نہ منڈواؤ جب تک کہ ہدی اپنی جگہ (حرم) نہ پہنچ جائے" یعنی جب تک ہدی اپنی جگہ پہنچ کر ذبح نہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے سر منڈوانے سے روکا ہے اور اس کو ہدی کے ذبح ہونے تک معلق رکھا ہے۔ اور جو حکم کسی غایت تک معلق کیا جائے وہ اس غایت کے پائے بغیر ختم نہیں ہوتا، لہٰذا اس سے لازم آتا ہے کہ جب تک ہدی ذبح نہ ہو، حلال ہونا حاصل نہیں ہوگا، خواہ وہ روزہ رکھے، یا کھانا کھلائے، یا نہ کھلائے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 180، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صدقہ اور روزے کا بدل نہ ہونا ہی احناف کا معروف مذہب ہے، چنانچہ فتح القدیر اور لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: و اللفظ للثانی: (وان عجز المحصر عن الھدی بان لم یجدہ) أی عینہ اصلاً (أو لا یجدہ ثمنہ) أی و لا یکون عندہ عینہ (أو من یبعث بیدہ، بقی محرما حتی یجدہ فیتحلل بہ، أو یذھب الی مکۃ فیتحلل بافعال العمرۃ کالفائت) أما إن استمر لا يقدر على وصول مكة، و لا على الهدي، بقي محرما أبدا، لا يحل بالصوم و لا بالصدقة، و ليسا ببدل عن هدي المحصر عند أبي حنيفة و محمد، و هذا هو المذهب المعروف، و هو ظاهر قول أبي يوسف، و بنى عليه قوله: (و لا يجزئ عن الهدي بدل لا صوم و لا صدقة) و روي عن أبي يوسف في المحصر أنه إن لم يجد هديا قوم الهدي طعاما، فیتصدق به على كل مسكين نصف صاع، و إن لم يكن عنده طعام صام لكل نصف صاع يوما، فيتحلل به، قال في "الأمالي" و هذا أحب إلى يعني؛ لأن فيه مخلصا عما فيه الحرج العظيم

ترجمہ: اور اگر محصر قربانی (ہدی) پر قادر نہ ہو اس طرح کہ اسے اصل میں قربانی کا جانور ہی نہ ملے، یا اس کی قیمت نہ ملے، یعنی اس کے پاس اس کی قیمت بھی نہ ہو، اور نہ ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کے ہاتھ وہ بھیج سکے، تو وہ بدستور احرام میں رہے گا یہاں تک کہ قربانی حاصل کر لے اور اس کے ذریعے حلال ہو، یا مکہ جا کر عمرہ کے افعال کے ذریعے حلال ہو جائے جیسے فوت ہونے والا (حاجی) کرتا ہے۔ اور اگر وہ مسلسل اس پر قادر نہ ہو کہ مکہ پہنچ سکے اور نہ ہی قربانی پر قادر ہو، تو وہ ہمیشہ احرام ہی میں رہے گا، نہ روزہ کے ذریعے حلال ہوگا اور نہ صدقہ کے ذریعے۔ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک یہ دونوں (یعنی روزہ اور صدقہ) محصر کی قربانی کا بدل نہیں ہیں، اور یہی معروف مذہب ہے، اور یہی امام ابو یوسف کے قول کا ظاہر بھی ہے، اور اسی پر ان کا یہ قول مبنی ہے کہ: (قربانی کے بدلے میں نہ روزہ کافی ہے اور نہ صدقہ)۔ اور امام ابو یوسف سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ محصر اگر قربانی نہ پائے تو قربانی کی قیمت کا غلے کے ساتھ اندازہ کرے، پھر ہر مسکین کو نصف صاع کے حساب سے صدقہ دے، اور اگر اس کے پاس غلہ بھی نہ ہو تو ہر نصف صاع کے بدلے ایک دن روزہ رکھے، اور اس کے ذریعے احرام سے حلال ہو جائے۔ "الامالی" میں کہا کہ یہی بات مجھے زیادہ پسند ہے؛ کیونکہ اس میں شدید تنگی سے نکلنے کی صورت موجود ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، صفحہ 592، 593، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

علامہ ابو البقاء محمد بن احمد ضیاء مکی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے البحرا لعمیق میں، امام محمد بن مکرم کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے المسالک فی المناسک میں اور علامہ علی بن بلبان فارسی رحمۃ اللہ علیہ نے عمدۃ السالک فی المناسک میں احناف کے مشہور و معروف مذہب کے مطابق قربانی کے ذریعے ہی احرام سے باہر ہونا بیان کیا ہے اور صدقہ یا روزے کو بدل بیان نہیں کیا۔

چنانچہ بحر العمیق ہے: أن التحقق بالدم قبل إتمام موجب الإحرام عرف بالنص بخلاف القياس، فلا يجوز إقامة غيره مقامه بالرأي. و عن أبي يوسف: إذا لم يجد المحصر الهدي قوم الهدي طعاماً و تصدق به على المساكين، فإن لم يكن عنده طعام عام لكل نصف صاع يوماً، رواه أبو يوسف عن عطاء و هو أحد أقوال الشافعي. و قال في قول: يصوم ككفارة الحلق، و قال في قول يصوم كما في المتعة عشرة أيام، حكى هذه الأقوال عن الشافعي صاحب المجمع و شراح المنظومة کحافظ الدين في المصفى، و صاحب الحقائق، و الكرماني، و غيرهم". و في منسك الطرابلسي قال التمرتاشي: و لو لم يجد شاة بقي محرماً، و قيل: يصوم عشرة أيام ثم يتحلل، و قيل: ثلاثة أيام، و قيل: بازاء أكل نصف صاع من قيمة شاة وسيط يوماً، و كذا ذكر قاضيخان في شرح الجامع الصغير التهي. و هذه الأقوال التي ذكرها التمرتاشي و قاضيخان إنما هي أقوال الشافعي كما قدمناه آنفاً، و لم أن من عزاها إلى أصحابنا۔ و المذھب: ان المحصر المعسر لا یحل بالصوم، و اللہ اعلم

ترجمہ: احرام کے تقاضے کو مکمل کرنے سے پہلے دم (قربانی) کے ذریعے حلال ہونا خلاف قیاس نص سے ثابت ہے؛ لہٰذا رائے کے ذریعے کسی اور چیز کو اس کے قائم مقام بنانا جائز نہیں۔ اور امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ جب محصر کو ہدی نہ ملے تو وہ ہدی کی قیمت کا اندازہ کرے، پھر اس کو کھانے کی صورت میں مساکین پر صدقہ کرے، اور اگر اس کے پاس کھانا بھی نہ ہو تو ہر نصف صاع کے بدلے ایک دن روزہ رکھے۔ عطاء بن ابی رباح سے امام ابو یوسف نے یہی روایت نقل کی ہے، اور یہ امام شافعی کے اقوال میں سے ایک ہے۔ اور ایک قول میں ہے کہ وہ حلق (سر منڈوانے) کے کفارہ کی طرح روزے رکھے، اور ایک قول میں ہے کہ ہدیٔ تمتع کی طرح دس روزے رکھے۔ یہ تمام اقوال امام شافعی سے صاحب مجمع کے مصنف اور منظومہ کے شارحین جیسے حافظ الدین نے اپنی کتاب مصفی میں، اور صاحب حقائق اور امام کرمانی وغیرہ نے نقل کیے ہیں۔ اور "منسک الطرابلسی" ہے کہ امام تمرتاشی نے فرمایا: اگر اسے بکری نہ ملے تو وہ بدستور احرام میں رہے گا، اور ایک قول یہ ہے کہ وہ دس روزے رکھ کر حلال ہوجائے، اور ایک قول یہ ہے کہ تین روزے رکھے، اور ایک قول یہ ہے کہ بکری کی اوسط قیمت کے بدلے ہر نصف صاع کے حساب سے ایک دن روزہ رکھے۔ اسی طرح قاضی خان نے بھی "جامع الصغیر کی شرح" میں ذکر کیا ہے۔ اور یہ تمام اقوال جو امام تمرتاشی اور علامہ قاضی خان نے ذکر کیے ہیں، دراصل امام شافعی ہی کے اقوال ہیں جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا، اور ہم نے نہیں دیکھا کہ کسی نے انہیں ہمارے (احناف) کے ائمہ کی طرف منسوب کیا ہو۔ اور (احناف کا) مذہب یہ ہے کہ تنگ دست محصر روزے کے ذریعے حلال نہیں ہوگا۔ (البحر العمیق، الباب الخامس عشر فی الاحصار، صفحہ 2102، 2103، مؤسسۃ الریان) (المسالک فی المناسک، جلد 2، صفحہ 950، 951، دارالبشائر الاسلامیۃ) (عمدۃ السالک فی المناسک، صفحہ 604، داراللباب)

احصار میں صدقہ یا روزہ قربانی کا بدل نہیں، یہی احناف کا معتمد مذہب بھی ہے، چنانچہ موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ’’و قال أبو حنيفة و محمد، و هو قول عند الشافعية و هو المعتمد في المذهب الحنفي لا بدل للهدي فإن عجز المنحصر عن الهدي بأن لم يجده، أو لم يجد ثمنه، أو لم يجد من يبعث معه الهدي إلى الحرم بقي محرما أبدا، لا يحل بالصوم، ولا بالصدقة، و ليسا ببدل عن هدي المحصر.‘‘ ترجمہ: اور امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہما نے فرمایا، اور یہی شافعیہ کے نزدیک ایک قول ہے، اور یہی مذہبِ حنفی میں معتمد ہے کہ ہدی کا کوئی بدل نہیں ہے۔ پس جو محصر ہدی سے عاجز ہو جائے، اس طرح کہ اسے ہدی نہ ملے، یا اس کی قیمت نہ ملے، یا کوئی ایسا شخص نہ ملے جس کے ساتھ ہدی حرم بھیجے، تو وہ ہمیشہ احرام ہی میں باقی رہے گا، نہ روزے کے ذریعے حلال ہوگا اور نہ صدقہ کے ذریعے، اور یہ دونوں (روزہ اور صدقہ) محصر کے ہدی کا بدل نہیں ہوں گے۔ (موسوعہ فقھیہ کویتیہ، جلد 2، صفحہ 212، دار السلاسل - الكويت)

در مختار میں ہے: ’’فإن لم يجد بقي محرما حين يجد أو يتحلل بطواف و عن الثاني أنه يقوم الدم بالطعام و يتصدق به فإن لم يجد صام عن كل نصف صاع يوما‘‘ ترجمہ: پھر اگر اسے (ہدی) نہ ملے تو وہ بدستور احرام میں رہے گا یہاں تک کہ اسے (ہدی) مل جائے، یا طواف کے ذریعے حلال ہوگا۔ اور امام ابو یوسف کے قول کے مطابق وہ دم کی قیمت کا اندازہ لگا کر اسے کھانے (طعام) میں تبدیل کرے اور مساکین پر صدقہ کرے، اور اگر طعام بھی نہ پائے تو ہر نصف صاع کے بدلے ایک دن روزہ رکھے۔ (در مختار، جلد 4، صفحہ 7، دار المعرفۃ، بیروت)

صاحبِ فتح القدیر علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے صدقہ یا روزہ رکھنے والے قول کو اس بنیاد پر رد کیا کہ وہ نص کے خلاف ایک قیاس ہے حالانکہ اس مسئلہ میں نص موجود ہے اور وہ قرآن پاک کی یہ آیت مبارکہ ہے: ’’فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ- وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ‘‘ ترجمہ کنز العرفان: پھر اگر تمہیں (مکہ سے) روک دیا جائے تو (حرم میں) قربانی کا جانور بھیجو جو میسر آئے اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ: 196)

لہذا قیاس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی در المحتار میں اسی کو نقل کرکے برقرار رکھا۔ لیکن علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کی تائید میں فرمایا:

اولاً: اگر محصر قربانی نہ کرسکے تو کیا حکم ہے؟ اس مسئلے میں تو سِرے سے قرآن و سنت سے کوئی صریح نص موجود ہی نہیں، اس لیے اسے نص کے خلاف قیاس کہنا درست نہیں۔

ثانیاً: جب اس مسئلے پرنص موجود نہیں اور اُسے جن مسائل پر قیاس کیا ہے ان کے بارے میں شرعی حکم موجود ہے، جیسے: شکارِ حرم کا کفارہ حلق بعذر کا کفارہ اورقارن و متمتع کے قربانی پر قادر نہ ہونے پر کفارہ۔ تو اب ایسے قیاس کو ضرور قبول کیا جائے گا، اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔

ثالثاً: ایسا قیاس رد بھی کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ کسی عام فقیہ کا قیاس نہیں ہے، بلکہ یہ ایسے مجتہدین کا اجتہاد ہے جو اصولِ دین کے قواعد سے واقف ہیں، جیسے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ، اور ان کی تائید امام شافعی نے بھی کی ہے۔

عبارات ملاحظہ ہوں:

چنانچہ صاحب فتح القدیر نے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو نص کے خلاف کہہ کر رد کردیا۔ فرمایا: ’’قلنا: هذا قياس يخالف النص في عين المقيس فلا يقبل‘‘ ترجمہ: ہم نے کہا کہ یہ ایسا قیاس ہے جو عین مقیس میں نص کے خلاف ہے، لہٰذا اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ (فتح القدیر، جلد 3، صفحہ 127، مطبوعہ مصر)

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کو برقرار رکھا اور اس پر کچھ کلام نہ کیا، چنانچہ در مختار کی عبارت ’’و عن الثانی‘‘ کے تحت فرمایا: ’’رده في الفتح بأنه مخالف للنص‘‘ ترجمہ: اس کو فتح القدیر میں نص کے مخالف کہہ کر رد فرمادیا۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 7، دار المعرفۃ، بیروت)

علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط میں صاحب فتح القدیر کی اس بات کی مخالفت کرتے ہوئے تفصیلاً کلام کیا اور فرمایا کہ یہ نص کے مخالف کیسے ہوسکتا ہے، جبکہ خاص عین مقیس میں کتاب و سنت سے کوئی نص موجود ہی نہیں۔ چنانچہ فرمایا: قلت: لانص في المسألة عن الشارع، لا من الكتاب و لا من السنة، و المقيس عليه موجود في الشريعة، و هو كفارة صيد الحرم بطريق التخيير، و كفارة الحلق بعذر على الترتيب، فيقبل و كيف لا يقبل، و هو اجتهاد بعض المجتهدين المطلعين على قواعد أصول الدين، كأبي يوسف و قد تبعه الشافعي أيضا مع جلالته، ففي المرغيناني و التحفة: عند الشافعي يصوم عشرة أيام، و هذا قول أبي يوسف آخرا، أقول و لعلهما قاسا على من لم يجد الهدي، ممن كان قارنا أو متمتعا، كما نزل به القرآن أيضا، و الحاصل أن هذا وجه ما قيل يصوم عشرة أيام، ثم يتحلل، وقياس كفارة الحلق بعذر وجه ما قيل: يصوم ثلاثة أيام، و كفارة صيد الحرم وجه ما قيل يصوم بإزاء كل نصف صاع يوما، فلكل وجهة و طريقة غير خارجة عن قواعد الشريعة، فكن متأدبا في حق الأئمة، و لا تقس المملوك بالصعلوك في غمة السلوك

ترجمہ: میں کہتا ہوں: اس مسئلہ میں شارع کی طرف سے کوئی نص نہیں، نہ کتاب میں اور نہ سنت میں، البتہ جس پر قیاس کیا گیا ہے وہ شریعت میں موجود ہے، جیسے حرم کے شکار کاکفارہ جس میں اختیار ہوتا ہے، اور عذر کے ساتھ سر منڈانے کا کفارہ جس میں ترتیب ہوتی ہے، لہٰذا یہ قیاس قابلِ قبول ہے۔ اور کیوں نہ قابلِ قبول ہو، جبکہ یہ بعض ایسے مجتہدین کا اجتہاد ہے جو اصولِ دین کے قواعد سے واقف ہیں، جیسے امام ابو یوسف، اور امام شافعی نے بھی اپنی جلالتِ شان کے باوجود ان کی پیروی کی ہے۔چنانچہ "المرغینانی" اور "التحفہ" میں ہے کہ امام شافعی کے نزدیک دس دن روزہ رکھے گا، اور یہ امام ابو یوسف کا آخری قول بھی ہے۔ میں کہتا ہوں: غالباً دونوں (امام ابو یوسف اور امام شافعی) نے اس شخص پر قیاس کیا ہے جو قربانی نہ پائے، جبکہ وہ قارن یا متمتع ہو، جیسا کہ قرآن میں بھی اس کا حکم نازل ہوا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دس دن روزہ رکھنے اور پھر احرام سے نکلنے کی جو بات کہی گئی ہے، اس کی یہی وجہ ہے۔ اور عذر کے ساتھ سر منڈانے کا کفارہ پر قیاس کی بنا پر یہ کہا گیا کہ تین دن روزہ رکھے، اور حرم کے شکار کے کفارہ پر قیاس کی بنا پر یہ کہا گیا کہ ہر نصف صاع کے بدلے ایک دن روزہ رکھے۔ پس ہر ایک کی ایک جہت اور طریقہ ہے جو شریعت کے قواعد سے باہر نہیں۔ لہٰذا ائمہ کے حق میں ادب اختیار کرواور غلام کو فقیر کے ساتھ مشقت کے وقت قیاس نہ کرو۔ (لباب المناسک مع شرحہ، صفحہ 592، 593، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ بحث کو علامہ عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے طوالع الانوار شرح درمختار (جلد 4، صفحہ 329، مخطوط) میں برقرار رکھا ہے۔ چنانچہ حاشیہ ارشاد الساری میں فرمایا: ’’و قولہ: (قلت: لا نص) ھذا قول العلامۃ القاری، و قد اقرہ العلامۃ السندی فی طوالع الانوار کما ذکرہ العلامۃ الرافعی‘‘ ترجمہ: اور ان کا یہ قول: (میں نے کہا: کوئی نص نہیں) یہ علامہ قاری کا قول ہے، اور علامہ سندی نے بھی "طوالع الانوار" میں اس کو برقرار رکھا ہے، جیسا کہ علامہ رافعی نے ذکر کیا ہے۔ (ارشاد الساری، صفحہ 593، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

بہرحال کتب فقہ و کتب مناسک میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے قربانی کے بدلے میں صدقے اور روزے والا قول نقل کیا گیا ہے لیکن اس پر بَر بنائے ضرورت فتوی دینے اور عمل کرنے کا کوئی واضح حکم نہیں۔ ہاں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے قربانی سے عاجز محصر شخص کو حرج عظیم سے بچانے کے لئے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کی تائید کرتے ہوئے اس کی طرف اپنا میلان ظاہر کیا ہے۔ ہمارا فتوی وہی ہے جو احناف کا معتمد قول ہے، البتہ امام ابویوسف کے دوسرے قول کی تفصیل اس لئے بیان کی ہے کہ مستقبل میں شاید کسی بڑے معاملے کے وقت اس پر عمل کی ضرورت پڑے اور ویسے ماضی قریب میں چند حنفی فقہاء اس کے مطابق فتوی دے چکے ہیں۔

اسی قول کی مزید تفصیل بھی یہاں ذکر کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ حضرت عطا بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے اِحصار میں قربانی سے عاجز ہونے کی صورت میں قربانی کے بدلے دس (10) دن كے روزے رکھنے كا قول بھی مروی ہے، اور اِسے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا آخری قول بھی بیان کیا گیا ہے۔ جانور کی قیمت کا صدقہ فطر سے اندازہ کرکے پھر ہر صدقہ فطر کے بدلے ایک روزہ رکھنے والے قول کے مقابلے میں دس دن کے روزے رکھنے والےقول پر عمل کرنے میں مزید آسانی ہے۔ لہذا اگر کوئی جانور کی قیمت کے مطابق صدقہ فطر کا اندازہ کرکے ہر مسکین کو ایک صدقہ فطر، یا اس کی قیمت ادا نہ کرسکتا ہو تو دس دن کے روزے رکھ کر بھی احرام سے باہر ہونے کی گنجائش ہوگی۔

چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے: ’’عن ابن جريج عن عطاء قال: يصوم عشرة أيام‘‘ ترجمہ: ابن جریج سے روایت ہے، وہ عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: وہ (یعنی قربانی سے عاجز محصر شخص) دس دن روزے رکھے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 3، صفحہ 277، رقم الحدیث: 14169، مطبوعۃ المدينة المنورة)

علامہ علی بن حسین سغدی رحمۃ اللہ علیہ النتف فی الفتاوی میں لکھتے ہیں: ’’اذا لم يقدر على الهدى بقي على احرامه في قول الفقهاء و في قول عطاء بن ابي رباح يصوم عشرة أيام و يحل‘‘ ترجمہ: اگر وہ ہدی پر قادر نہ ہو تو فقہاء کے قول کے مطابق وہ اپنے احرام میں باقی رہے گا، اور عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق وہ دس دن روزے رکھے گا اور حلال ہوجائے گا۔ (النتف فی الفتاوی، جلد 1، صفحہ 214، مؤسسة الرسالة – بيروت)

علامہ بد الدین محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ البنایۃ شرح الہدایہ میں لکھتے ہیں: إذا لم يجد هديًا يبقى محرمًا، ولا بدل له عندنا، و به قال الشافعي، و مالك - رحمهما الله - في أحد قوليه. و في قول آخر: يصوم عشرة أيام، و هو قول أحمد و أشهب - رحمهما اللہ -. و في " المرغيناني"، و "التحفة": هو قول أبي يوسف رحمه اللہ آخرًا. و كان عطاء رحمه اللہ يقول: إذا عجز عن الهدي نظر إلى قيمته فيطعم بذلك كل مسكين نصف صاع من بر أو يصوم، و قال أبو يوسف في "الأمالي": و هذا أحب إلي

 ترجمہ: اگر (محصر) ہدی نہ پائے تو وہ محرم ہی رہے گا، اور ہمارے نزدیک اس کا کوئی بدل نہیں، اور یہی امام شافعی اور امام مالک رحمہما اللہ نے دو قولوں میں سے ایک قول میں فرمایا۔ اور دوسرے قول میں ہے کہ وہ دس دن روزے رکھے گا، اور یہی امام احمد بن حنبل اور اشہب بن عبدالعزیز رحمہما اللہ کا قول ہے۔ اور ’’مرغینانی‘‘ اور ’’تحفہ‘‘ میں ہے کہ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا آخری قول ہے۔ اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ جب وہ ہدی سے عاجز ہو جائے تو اس کی قیمت کا اندازہ کرے، پھر اس کے بدلے ہر مسکین کو آدھا صاع گندم کھلائے یا روزے رکھے۔ اور امام ابو یوسف نے ’’الامالی‘‘ میں کہا: یہی بات مجھے زیادہ پسند ہے۔ (البنایہ شرح الھدایہ، جلد 4، صفحہ 437،دار الكتب العلمية - بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1171
تاریخ اجراء: 06 ذی القعدۃ الحرام 1447ھ / 24 اپریل 2026ء