logo logo
AI Search

حج کرنے سے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا حج کرنے سے حاجی تمام گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حج کرنے کے بعد، حاجی  تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے، جیسے کہ زنا ،سود اور حقوق العباد، وغیرہ وغیرہ۔کیا ایسے گناہ بھی ہیں، کہ حاجی کے حج کرنے کے بعد بھی معاف نہیں ہوتے؟

جواب

حاجی کہ قبولیت حج کی تمام شرائط بجالائے (پاک مال، پاک کمائی، پاک نیت سے حج کرے، اور اس میں لڑائی جھگڑے اور عورتوں کے سامنے تذکرہ جماع اور ہر قسم کے گناہ و نافرمانی سے بچے)، تو بشرطِ قبول اس وقت تک جتنے گناہ کیے تھے،سب معاف ہوجاتے ہیں، اور اس کے بعد اگر زندہ رہا، اور جن حقوق کا تدارک ممکن ہو (جیسے قضا نمازیں، روزے، اور زکوۃ وغیرہ، اور لوگوں کا کوئی مالی مطالبہ ذمے پر تھا،کسی کو تکلیف پہنچائی  تھی)، ان کا تدارک اپنی طاقت بھر کرلیا (نماز، روزوں وغیرہ کی قضا کرلی، زکوۃ وغیرہ ادا کردی، جن کو تکلیف پہنچائی تھی، ان سے معافی مانگ لی، جن کا مالی مطالبہ تھا، وہ ادا کردیا، وہ نہ رہے، توان کے ورثا کو دے دیا، وہ بھی نہ رہے، یا ان کا علم نہیں، تو ان کی طرف سے صدقہ کردیا وغیرہ)، تو حقوق تو تدارک کرنے سے ادا ہوجائیں گے، اور نافرمانی کا گناہ حج کی وجہ سے معاف ہوجائے گا، اور اگر تدارک پر قدرت ہونے کے باوجود تدارک نہ کیا، تو وہ حقوق ذمے پر رہیں گے،اور اب مزید تاخیر و کوتاہی کرنا یہ تازہ گناہ ہوگا، اور وہ حج ان کے ازالے کو کافی نہ ہوگا۔

حج مقبول کی فضیلت کے متعلق صحیح بخاری حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما، والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے اور حجِ مقبول کی  جزا ء جنت کے سوا کچھ نہیں۔ (صحیح البخاری ، صفحہ 322، رقم الحدیث 1773، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اس حدیثِ مبارک کے تحت حج کے ذریعے کبیرہ گناہوں کی معافی کے متعلق مراۃ المناجیح میں ہے”علماء فرماتے ہیں کہ دو عمروں کے درمیان کے گناہ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں اور حج مقبول میں گناہ کبیرہ کی معافی کی بھی قوی امید ہے۔“ (مراۃالمناجیح ، جلد 4، صفحہ 88، نعیمی کتب خانہ،گجرات)

حج کے بعد گناہوں کی معافی کی تفصیل کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے "حاجی کہ پاک مال، پاک کمائی، پاک نیت سے حج کرے، اور اس میں لڑائی جھگڑے اور عورتوں کے سامنے تذکرہ جماع اور ہر قسم کے گناہ و نافرمانی سے بچے، اس وقت تک جتنے گناہ کئے تھے بشرطِ قبول سب معاف ہوجاتے ہیں۔۔۔یوہیں اگر بعد کو زندہ رہا اور بقدرِ قدرت تدارک حقوق ادا کرلیا یعنی زکوٰۃ دے دی نماز روزہ کی قضا ادا کی جس کا جو مطالبہ آتا تھا دے دیا جسے آزار پہنچا تھا معاف کرالیا جس مطالبہ کا لینے والا نہ رہا یا معلوم نہیں اس کی طرف سے تصدق کردیا بوجہِ قلتِ مہلت جو حق ﷲ عزوجل یابندہ کا ادا کرتے کرتے رہ گیا اس کی نسبت اپنے مال میں وصیت کردی، غرض جہاں تک طرقِ براءت پر قدرت ملی تقصیر نہ کی تو اس کے لئے امید اور زیادہ قوی کہ اصل حقوق کی یہ تدبیر ہوگئی اور اثمِ مخالفت حج سے دُھل چکاتھا، ہاں اگر بعدِ حج باوصفِ قدرت ان اُمور میں قاصر رہا تو یہ سب گناہ از سرِنو اس کے سر ہوں گے کہ حقوق تو خود باقی ہی تھے ان کی ادا میں پھرتا خیر و تقصیر گناہ تازہ ہوئے اور وہ حج ان کے ازالہ کو کافی نہ ہوگا کہ حج گزرے گناہوں کو دھوتا ہے آئندہ کے لئے پروانہ بیقیدی نہیں ہوتا بلکہ حجِ مبرور کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھاہو کر پلٹے۔" (فتاوی رضویہ ، جلد 24، صفحہ 467، 466، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5041
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 08 مئی 2026ء