logo logo
AI Search

کس حج میں قربانی واجب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کس حج میں قربانی واجب اور کس میں واجب نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا حج کی ہر قسم (قِران، تَمَتُّع اور اِفراد) میں قربانی کرنا واجب ہے؟ نیز جن صورتوں میں قربانی واجب ہو، کیا اسے پاکستان یا کسی اور ملک میں ادا کیا جا سکتا ہے، یا اس کے لیے حدودِ حرم ہی میں جانور ذبح کرنا ضروری ہے؟

سائل: (مظہر شاہ، سمندری)

جواب

حج کی دو قِسموں یعنی حج قِران اور حج تَمَتُّع میں قربانی واجب ہے، جبکہ حج اِفراد میں قربانی واجب نہیں، البتہ اگر کوئی کرے، تو بہتر و مستحب ہے۔ نیز حج کی قربانی کا حدودِ حرم میں ہی ہونا ضروری ہے، اگر کوئی شخص حدودِ حرم سے باہر قربانی کر لے، تو اس سے قربانی کا وجوب ادا نہیں ہوگا، بلکہ اس پر لازم ہوگا کہ ایامِ نحر کے اندر حدودِ حرم میں دوبارہ قربانی کرے اور اگر ایامِ نحر گزر جائیں اور اس نے اعادہ نہ کیا ہو، تو پھر حدودِ حرم میں قربانی کرنے کے ساتھ تاخیر کی وجہ سے دَم دینا بھی واجب ہوگا۔

حج کے واجبات بیان کرتے ہوئے علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں: ”و ذبح الشاة للقارن، أو المتمتع“ ترجمہ: حج قِران اور تمتع کرنے والے پر قربانی (واجب ہے)۔ (بحر الرائق، جلد 02، صفحہ 332، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: قارِن ومتمتع کا شکر کی قربانی حلق سے پہلے رمی کے بعد ایامِ نحر میں کرنا (واجب ہے)۔ اس کے تحت فوائدِ رضویہ میں ہے: مُفرِد (یعنی حجِ افراد کرنے والے) کو یہ قربانی مستحب ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 791، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے: قارِن اور متمتع پر(قربانی) واجب اگرچہ فقیر ہو اور مفرد کے لیے مستحب اگرچہ غنی ہو۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1140، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حج کی قربانی کا حدودِ حرم میں ہونا ضروری ہے، جیساکہ النھایۃ فی شرح الھدایۃ میں ہے: ”و ذلك مخصوص بالحرم بالاتفاق؛ لأن إراقة الدم لا يكون قربة إلا في وقت مخصوص كالتضحية، و هدي المتعة، و القران في أيام النحر، أو مكان مخصوص، و هو الحرم كما في دماء الكفارات، وهذا الدم مختصًا بالمكان، و هو الحرم؛ ليتحقق في معنى القربة فيه“ ترجمہ: اور یہ (جانور ذبح کرنا) بالاتفاق حرم کے ساتھ خاص ہے؛ کیونکہ خون بہانا (یعنی جانور ذبح کرنا) اس وقت تک عبادت (قربت) نہیں بنتا جب تک وہ کسی خاص وقت میں نہ ہو، جیسے قربانی اور حجِ تمتع و قِران کی ہدی جو ایامِ نحر میں ہوتی ہے، یا کسی خاص جگہ میں ہو اور وہ حرم ہے، جیسا کہ کفارات کے دم کا حکم ہے۔ اور یہ (مذکورہ) دم جگہ کے ساتھ خاص ہے اور وہ حرم ہے؛ تاکہ اس میں عبادت (قربت) کا معنی متحقق ہو جائے۔ (النھایۃ فی شرح الھدایۃ، جلد 06، صفحہ 163، طبع مركز الدراسات الإسلامية بكلية الشريعة، ملتقطاً)

حدودِ حرم کے علاوہ کسی اور جگہ حج کی قربانی کرنا، جائز نہیں، جیساکہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”ولا یجوز ذبح الھدایا الا فی الحرم“ یعنی حرم کے علاوہ میں قربانی کا جانور ذبح کرنا جائز نہیں۔ (فتاویٰ ھندیہ، جلد 1، صفحہ 261، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

اگر کسی نے حج کی قربانی حدودِ حرم سے باہر کی، تو اس پر دوبارہ حدودِ حرم کے اندر قربانی کرنا ضروری ہے، جیسا کہ فتح باب العنایہ و شرح لباب المناسک میں ہے: و النظم للآخر و لو ذبح شیئا من الدماء الواجبۃ ای کدم القران و التمتع و النذر (فی الحج و العمرۃ خارج الحرم لم یسقط عنہ و علیہ ذبح آخر) ترجمہ: اور اگر حج و عمرہ میں واجب دم میں سے کوئی شے حرم سے باہر ذبح کی یعنی جیسا کہ قران اور تمتع اور نذر (منت) کا دم وغیرہ تو اس پر سے وہ ساقط نہیں ہوگی اور اس پر دوسرا جانور ذبح کرنا ہوگا۔ (شرح لباب المناسک، صفحہ 506، مطبوعہ مکۃ المکرمہ)

حج کی قربانی کا ایامِ نحر میں ہونا ضروری ہے اور اگر ایامِ نحر گزرنے کے بعد قربانی کی، تو اس پر اس واجب کی تاخیر کے بدلے دم دینا لازم ہوگا، جیسا کہ شرح لباب المناسک میں ہے: ”و لو اخر القارن او المتمتع الذبح عن ایام النحر فعلیہ الدم“ ترجمہ: اور اگر حجِ قران یا تمتع کرنے والے نے ذبح کرنے میں ایامِ نحر سے تاخیر کردی، تو اس پر دَم لازم ہے۔ (شرح لباب المناسک، صفحہ 506، مطبوعہ مکۃ المکرمہ، ملتقطاً)

واضح رہے کہ:

حج قران اور حج تمتع کرنے والے پر جو قربانی واجب ہوتی ہے، وہ بطورِ شکر ہے، جو حج کے ساتھ خاص ہے، اس کے علاوہ اگر مُتَمَتِّع یا قارِن صاحبِ نصاب بھی ہو اور ایامِ عیدالاضحیٰ میں مقیم (غیر مسافر) ہو، تو اس پر عید الاضحیٰ کی مستقل قربانی بھی الگ سے واجب ہوگی، کیونکہ یہ دونوں قربانیاں اپنے سبب اور حکم کے اعتبار سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہیں۔

اس مسئلے کی مزید تفصیل اور دلائل کے لیے دار الافتاء اہلسنت کا یہ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9972
تاریخ اجراء: 17 ذو القعدہ 1447ھ / 05 مئی 2026ء