احرام کی چادر کیسے پاک کریں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی چادر ناپاک ہو جائے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں پرسوں حج پر جا رہا ہوں، دریافت یہ کرنا ہے کہ اگر احرام کی چادر ناپاک ہو جائے تو اسے پاک کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟
جواب
احرام کی چادر اگر ناپاک ہو جائے تو اس کو عام کپڑوں ہی کی طرح پاک کرنا ہوتا ہے، یعنی نجاست چند اقسام کی ہے، ہر قسم کے احکام مختلف ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
(1) لگنے والی نجاست اگر مرئیہ ہو (یعنی سوکھ جانے کے بعد جس کی جسامت کپڑے کی سطح سے ابھری ہوئی نظر آئے، جیسے پاخانہ وغیرہ) تو ایسی نجاست کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو اتنا دھویا جائے کہ اس کا عین و اثر (رنگ، بو) زائل ہو جائے، جب اس کا عین و اثر زائل ہو جائے گا، تو وہ کپڑا پاک ہو جائے گا، اس کے لیے کوئی خاص تعداد مقرر نہیں، اگر ایک بار دھونے میں ہو جائے، تو ایک دفعہ میں ہی کپڑا پاک ہو جائے گا، اور اگر تین سے زائد بار دھونے میں زائل ہو، تو تین سے زائد بار دھونے میں پاک ہوگا۔ ہاں! ایسا اثر جس کا زائل ہونا دشوار ہو، وہ معاف ہو جائے گا، اسے صابون یا گرم پانی سے دور کرنا ضروری نہیں۔ علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ” قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها و لو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل و لا عصر“ ترجمہ: آپ جان چکے ہیں کہ نجاست مرئیہ کو پاک کرنے میں نجاست کے عین کا زائل ہونا معتبر ہے، خواہ ایک ہی بار دھونے سے ہو جائے، اگرچہ کسی برتن میں (دھونے سے ہی) ہو جائے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ پس اس میں تین بار دھونا اور نچوڑنا شرط نہیں ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، جلد 1، صفحہ 596، دار المعرفۃ، بیروت)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: "نجاست اگر مرئیہ ہو یعنی خشک ہونے کے بعد بھی نظر آئے تو اس کی تطہیر میں عدد اصلا شرط نہیں، بلکہ زوال عین درکار ہے، خواہ ایک بار میں ہو جائے یا دس بار میں، مگر بقائے اثر بقائے عین پر دلیل، تو زوال اثر مثل رنگ و بو ضرور، لیکن وہ اثر جس کا زوال دشوار ہو معاف کیا جائے گا، صابون یا گرم پانی وغیرہ سے چھڑانے کی حاجت نہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
(2) اور اگر نجاست غیر مرئیہ ہو (یعنی سوکھ جانے کے بعد جس کی جسامت کپڑے کی سطح سے ابھری ہوئی نظرنہ آئے، جیسےعام پیشاب وغیرہ) اس کو پاک کرنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
(الف) ایک طریقہ یہ ہے کہ کپڑے کے صرف اُس ناپاک حصے کو تین مرتبہ دھوئیں اور ہر مرتبہ اتنی قوت سے نچوڑیں کہ مزید نچوڑنے سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے، تیسری بار میں طاقت بھر نچوڑنے سے کپڑے کا وہ حصہ پاک ہو جائے گا۔
(ب) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی بار کپڑے کے اُس ناپاک حصے پر اتنا زیادہ پانی بہادیں کہ نجاست کے زائل ہونےکا غالب گمان ہو جائے، اس طرح بھی کپڑے کا وہ حصہ پاک ہو جائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے "و إن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات. كذا في المحيط و يشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر" ترجمہ: اور اگر نجاست غیر مرئیہ ہو تو اسے تین مرتبہ دھوئے گا، اسی طرح محیط میں ہے اور جو چیز نچوڑی جا سکتی ہو اسے ہر مرتبہ نچوڑنا شرط ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 42، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بہت زیادہ پانی بہاکر غالب گمان کرکے بھی پاک کیا جاسکتا ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(و) یطھر محل (غیرھا) أی غیر مرئیۃ۔۔۔ (بغسل و عصر ثلاثا فیما ینعصر) مبالغا حیث لا یقطر وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر و تجفيف و تكرار غمس هو المختار“ ترجمہ: اور غیر مرئی نجاست کے لگنے کی جگہ کو تین بار دھونے اور نچوڑنے کے ساتھ پاک کیا جائے گا، ان چیزوں میں جن کو نچوڑا جاسکتا ہو، (نچوڑنے میں) مبالغہ کرتے ہوئے یہاں کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے۔۔۔ یہ سب (تین مرتبہ دھونا اور نچوڑنا) اس صورت میں ہے جبکہ اسے برتن میں دھویا جائے، لیکن اگر تالاب میں دھویا جائے، یا اس پر بہت زیادہ پانی ڈالا جائے، یا اس پر پانی جاری ہو تو بغیر نچوڑے، بغیر خشک کیے اور بار بار ڈبوئے بغیر مطلقا پاک ہو جائے گا، یہی مختار ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 593، 597، دار المعرفۃ، بیروت)
(3) منی اگر تر ہو تو اسے دوسری نجاستوں کی طرح دھو کر ہی پاک کیا جائے گا اور اگر منی (خواہ گاڑھی ہو یا پتلی، مرد کی ہو یا عورت کی) کپڑے یا بدن کے کسی حصے پر لگ کر خشک ہو جائے، تو اسے اچھی طرح کھرچنے / رگڑنے سے کپڑے کا وہ حصہ پاک ہو جائے گا۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(یطھر منی) أی محلہ (یابس بفرک والا فيغسل) كسائر النجاسات ولو دما عبیطاً علی المشھور (بلا فرق بین منیہ) ولو رقیقا لمرض بہ (ومنیھا ولا بین ثوب وبدن علی الظاھر)‘‘ ترجمہ: خشک منی والی جگہ کو کھرچ کر بھی پاک کیا جاسکتا ہے، اور اگر منی خشک نہ (بلکہ تر ہو) تو دوسری نجاستوں کی طرح اسے بھی دھو کر پاک کیا جائے گا، اگرچہ وہ نجاست جما ہوا خون ہو، مشہور قول کے مطابق، اور اس میں مرد کی منی اگرچہ وہ کسی بیماری کی وجہ سے پتلی ہو اور عورت کی منی کا کوئی فرق نہیں اور کپڑے اور بدن پر ظاہر قول کے مطابق لگنے کا بھی کوئی فرق نہیں۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 1، باب الانجاس، صفحہ 567-565، دار المعرفہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5028
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 20 مئی 2026ء