کیا حجِ قران کے دوران دوسرا عمرہ کیا جا سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حجِ قران کے احرام میں دوسرے عمرے کا احرام کہاں سے باندھنا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے حج قِران میں ایک عمرہ کرلیا، اب حج کے دنوں کے انتظار میں ہے، تو کیا اسی احرام میں مسجد عائشہ جا کر دوسرے عمرے کی نیت کر کے دوسرا عمرہ کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب
حجِ قران کا احرام باندھنے والا شخص ایک عمرہ ادا کرنے کے بعد مناسکِ حج مکمل ہونے تک دوسرا عمرہ نہیں کرسکتا، کیونکہ قارن (حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھنے والا شخص) عمرہ کے افعال ادا کرلینے کے باوجود احرام سے خارج نہیں ہوتا، بلکہ بدستور حالتِ احرام میں باقی رہتا ہے اوراسی احرام کے ساتھ حج کے مناسک ادا کرنا لازم ہوتے ہیں اور حج کی ادائیگی سے قبل دوسرے عمرے کا احرام باندھنا، در حقیقت یہ سابقہ احرام میں عمرے کے احرام کو جمع کرنا ہے، جو کہ جائز نہیں، البتہ اس دوران بیت اللہ شریف کے نفلی طواف (بغیر رمل و سعی کے) کرنا چاہے، تو کرسکتا ہے، بلکہ آفاقی کے لیے یہی افضل ہے۔
چنانچہ المحیط البرہانی میں ہے: ”العمرة في حق القارن تبع للحج، فما دام إحرامه للحج باقيا لا يتحلل عن إحرام العمرة، و إن أتى بأفعالها“ ترجمہ: قارن کے حق میں عمرہ حج کے تابع ہوتا ہے، لہٰذا جب تک اس کا حج کا احرام باقی ہے وہ عمرہ کے احرام سے خارج نہیں ہوگا، اگرچہ عمرہ کے تمام افعال ادا کر چکا ہو۔ (المحیط البرھانی، جلد 2، صفحہ 467، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”و إن أتى بأفعال العمرة بكمالها إلا أنه ممنوع من التحلل عنها لكونه محرما بالحج، فيتوقف تحلله على فراغه من أفعاله“ یعنی اگرچہ اس نے عمرہ کے تمام افعال مکمل کر لیے ہیں، لیکن چونکہ وہ حج کے احرام میں بھی ہے اس لیے اس کا احرام سے نکلنا ممنوع ہے، پس اس کا احرام سے باہر نکلنا افعالِ حج سے فراغت تک موقوف رہے گا۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 532، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
دو احراموں کو جمع کرنے کے متعلق البحر العمیق میں ہے: ”یجب أن يعلم أن الجمع بين احرامي الحج أو احرامي العمرة بدعة بالاتفاق بين اصحابنا“ ترجمہ: یہ جاننا واجب ہے کہ دو حج کے احرام یا دو عمرے کے احرام کو جمع کرنا بالاتفاق ہمارے اصحاب کے نزدیک بدعت ہے۔ (البحر العمیق، صفحہ 778، مطبوعہ موسسۃ الریان)
قارن اگررمل و سعی کے بغیر نفلی طواف کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(و طاف بالبيت نفلا ماشيا) بلا رمل و سعي و هو أفضل من الصلاة نافلة للآفاقي“ ترجمہ: اور اس دوران بیت اللہ کا بغیر رمل اور سعی کے، نفلی طواف کر سکتا ہے اور آفاقی کے لیے نفلی نماز سے نفلی طواف افضل ہے۔
اس عبارت کے تحت رد المحتار میں ہے: ”(قوله بلا رمل وسعي) لأن الرمل و كذا الاضطباع تابعان لطواف بعده سعي من واجبات الحج و العمرة فقط، و هذا الطواف تطوع فلا سعي بعده“ ترجمہ: مصنف کا قول کہ بلا رمل و سعی طواف کرسکتا ہے، کیونکہ رمل اور اضطباع اس طواف کے تابع ہوتے ہیں جس کے بعد سعی ہو، اور یہ حج و عمرہ کے واجبات میں سے ہے، جبکہ یہ طواف نفلی ہے، لہٰذا اس کے بعد سعی نہیں ہوگی۔ (ردالمحتار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 502، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0278
تاریخ اجراء: 06 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 23 مئی 2026ء