logo logo
AI Search

سعی و حلق کے بغیر عمرہ چھوڑنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عمرے کی سعی وحلق کئے بغیر ہی پاکستان آ گئے تو اب کیا حکم ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید، خالد، محسن مل کر عمرہ کرنے گئے، وہاں جا کر انہوں نے مختلف عمرے کئے، آخری دن جب واپسی کا تھا تو اس نے سوچا کہ آج آخری عمرہ کرلیتے ہیں، مسجد عائشہ جا کر انہوں نے عمرے کی نیت سے احرام باندھا، اور مکہ آکر عمرے کا طواف کیا، طواف کے بعد زید کی طبیعت بہت خراب ہوگئی، روانگی میں اگرچہ کافی وقت تھا مگر سامان پیک کرنا تھا اور دیگرکاموں کی وجہ سے ان سب نے سعی اور حلق یا قصرکئے بغیر ہی ہوٹل میں آکراحرام سے باہر آنے کی نیت سے سلے ہوئے کپڑے پہن لئے، اور پاکستان آ گئے، یہاں آ کر ان کو معلوم ہوا کہ ان کا احرام ابھی باقی ہے کیونکہ انہوں نے حلق یا قصر نہیں کروایا تو انہوں نے اب یہیں پاکستان میں ہی حلق کروالیا، اس صورت میں ان کیلئے کیا شرعی حکم ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں ان تینوں افراد پر تین تین دم لازم ہیں، ایک دم تو سعی نہ کرنے کی وجہ سے لازم ہوا کہ جب سعی کئے بغیر پاکستان آ گئے تو بہتریہی ہے کہ سعی کیلئے واپس نہ جائے بلکہ اس کے بدلے میں دم دے۔دوسرا دم حرم سے باہر یعنی پاکستان میں حلق کروانے کی وجہ سےلازم ہوا کہ جب تک حلق یا تقصیر نہ پائی جائے تب تک احرام باقی رہتا ہے، لہذا پاکستان آ کر بھی ان کا احرام ختم نہیں ہوا تھا اور یہاں حلق کروانے سے اب احرام تو ختم ہوگیا مگر یہ حلق حرم کی حدود سے باہر ہوا ،لہذا دم لازم ہوگا۔ تیسرا دم احرام باقی ہوتے ہوئے سلے ہوئے کپڑے اور احرام کے دیگرممنوعات کرنے کی وجہ سے لازم ہوا،چونکہ انہوں نے سلے ہوئے کپڑے اسی نیت سے پہنے تھے کہ احرام سے باہر آ جائیں تو اس لئے احرام کی تمام ممنوعات کا ایک ہی دم لازم ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سب گناہ گار بھی ہوئے، لہذا ان پر اپنے ان گناہوں سے توبہ بھی لازم ہے۔

سعی کو اصلا ترک کرنے سے دم لازم آتا ہے۔ البحر العمیق میں ہے: ”و اذا ثبت أن السعی واجب ،فان ترکہ بین الصفا والمروۃ یعنی لم یطف بینھما أصلا فی حج أو عمرۃ فعلیہ دم ۔۔۔۔۔۔ ھذا اذا رجع الی بلدہ ،فما دام بمکۃ فانہ یسعی، فان رجع الی بلدہ فالدم أحب الی أبی حنیفۃ من الرجوع الی مکۃ۔“ ترجمہ: جب یہ ثابت ہوگیا کہ سعی واجب ہے، تو اب اگر سعی ترک کردی، اس طرح کہ اصلا کوئی چکر ہی نہیں کیا چاہے یہ حج کی سعی ہو یا عمرے کی سعی، اس پر دم لازم ہوگا ۔۔۔۔ یہ احکام اس وقت ہیں جب یہ اپنے وطن واپس آ چکا ہو، اگر مکہ میں ہی ہے تو سعی کرے گا، اگر اپنے شہر واپس آچکا ہے تو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مکہ واپس آنے سے بہتریہ ہے کہ دم دے۔ (البحر العمیق جلد 2، صفحہ 1282، مطبوعہ بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: سعی کے چار پھیرے یازیادہ بلاعذر اصلاً نہ کئے، یا سواری پر کئے تو دم ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 10، صفحہ 761، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

حلق یا تقصیر کیے بغیر احرام ختم نہیں ہوتا، بدائع الصنائع میں ہے: ”و لو وجب عليه الحلق، و التقصير فغسل رأسه بالخطمی مقام الحلق، لا يقوم مقامه، و عليه الدم لغسل رأسه بالخطمی ۔۔۔ لأن الحلق أو التقصير، واجب لما ذكرنا فلا يقع التحلل إلا بأحدهما، و لم يوجد فكان إحرامه باقيا فإذا غسل رأسه بالخطمی فقد أزال التفث فی حال قيام الإحرام فيلزمه الدم“ یعنی اگر حلق یا قصر واجب ہو اور محرم حلق کی جگہ بالوں کو خطمی سے دھو لے، تو یہ حلق کے قائم مقام نہیں ہوگا اور اس پر دم لازم ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حلق یا قصر واجب ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، تو اب احرام ختم نہیں ہوگا جب تک حلق یا قصر نہ پایا جائے اور ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں پائی گئی، لہذا اس کا احرام باقی ہے اور جب اس نے خطمی سے سر دھو لیا، تو اس نےحالت احرام میں میل کچیل دور کیا، لہذا اس پر دم لاز م ہو گیا۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 329، مطبوعہ کوئٹہ)

عمرہ کرکے حلق سے پہلے وطن چلا گیا اور وطن میں حلق کرایا تو واجب کا ترک ہوگا۔ تنویر الابصار، درمختار مع ردالمحتار میں ہے: ”(و من اعتمر بلا سوق هدی ثم بعد عمرته عاد إلى بلده وحلق ) ظاهره أن الحلق بعد العود، ففيه ترك الواجب عندهما“ ترجمہ: جس نے ہدی لے جائے بغیر عمرہ کیا، پھر عمرہ کے بعد اپنے شہر لوٹ آیا اور اب حلق کیا، اس عبارت کا ظاہر یہ ہے کہ حلق اس وقت کیا جب اپنے گھر لوٹ آیا تھا تو اس میں طرفین کے نزدیک واجب کا ترک ہوگا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 648، مطبوعہ کوئٹہ)

ردالمحتار میں ہے: ”یجب دم لو حلق للحج او العمرۃ فی الحل لتوقتہ بالمکان“ یعنی غیر حرم میں حج یا عمرے کا حلق کروانے والے پر دم لازم ہے، کیونکہ حلق جگہ (حرم) کے ساتھ خاص ہے۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 666، مطبوعہ کوئٹہ)

احرام کی خلاف ورزیاں یہ سمجھ کرکیں کہ وہ احرام سے باہر ہے تو تمام خلاف ورزیوں پر ایک ہی دم لازم ہوتا ہے۔ محقق اہل سنت استاذ الفقہ مفتی علی اصغر عطاری مدنی اپنی کتاب حج کے 27 واجبات میں فرماتے ہیں: کسی نے بغیر حلق یا تقصیر کئے لباس وغیرہ پہن لیا اور احرام کی خلاف ورزیاں شروع کر دیں تواگر پہلی خلاف ورزی یہ سمجھ کر کی گئی کہ اب میں احرام سے باہر ہوں اور اس کے بعد خلاف ورزیوں کا تسلسل جاری رہا مثلاً خوشبو استعمال کی، چہرہ چھپایا وغیرہ ذٰلک اور معمول کی زندگی شروع کر دی اور خوب خلاف ورزیاں کیں تو اس صورت میں بقایا ہر ہر خلاف ورزی پر الگ الگ جنایت نہیں ہوگی۔ بلکہ مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ ایک ہی دَم ہوگا۔ اور اگر رِفْض یعنی احرام ختم کرنے کی نیت نہیں پائی گئی تھی تو ہر خلاف ورزی پر الگ الگ جنایت ہوگی۔ (حج کے 27 واجبات، صفحہ 121، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-3156
تاریخ اجراء: 17 رمضان المبارک 1445ھ / 28 مارچ 2420ء