logo logo
AI Search

حجر ِاسود کے استلام کی شرعی حیثیت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طواف میں حجر اسود کا استلام نہ کرنے حکم ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ طواف میں حجر ِاسود کے استلام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر کوئی طواف میں استلام نہ کرے، تو کیا حکم ہے؟

جواب

طواف کرنے والے کے لیے مسنون یہ ہے کہ طواف کے ہر چکر کی ابتداء میں اور سات چکر مکمل کرنے کے بعد حجرِ اسود کا بوسہ لے، اگر (رش کی وجہ سے) یہ ممکن نہ ہو، تو اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو چھو کر ہاتھ کو چوم لے اور یہ ممکن نہ ہو تو کسی لکڑی وغیرہ کو حجر ِاسود سے چھو کراسے چومے، یہ بھی ممکن نہ ہو، تو حجر ِاسود کے بالکل مقابل کھڑے ہوکراپنے ہاتھ سے حجرِ اسود کی طرف اشارہ کرکے ہاتھوں کو چومے، اس عمل کو استلام کہتے ہیں۔ فقہاء ِکرام کی صراحت کے مطابق طواف کے شروع وآخر کا استلام سنت مؤکدہ ہے اور درمیانی استلام مستحب ہے، پس اگر طواف میں استلام رہ جائے، تواس کی وجہ سے کوئی کفارہ تو لازم نہیں ہوگا، مگر شروع و آخر کا استلام بغیر عذر ترک کرنا اساءت(یعنی برا عمل) ہے۔

استلام کی کیفیت کے متعلق لباب المناسک اور اس کی شرح مسلک المتقسط اور محيط برہانی میں ہے: والنظم للاول: ”صفۃ الاستلام ان یضع کفیہ علی الحجر ویضع فمہ بین کفیہ ویقبلہ من غیر صوت ان تیسر والایمسحہ بالکف ویقبلہ ویستحب ان یسجد علیہ (ای یضع وجھہ او جبینہ علی ھیئۃ السجود)ویکررہ مع التقبیل ثلاثا وان لم یتیسر ذلک أمس الحجر شیئاً(ای من عصا و نحوھا)وقبل ذلک الشیء ان امکنہ والا یقف بحیالہ مستقبلاً لہ رافعاً یدیہ مشیراً بہما الیہ کانہ واضع یدیہ علیہ۔۔۔وقبل کفیہ بعد الاشارۃ“

یعنی، استلام کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اگر میسر ہو تو حجرِ اسود پر دونوں ہتھیلیاں رکھے اور اُن کے مابین اپنا منہ رکھے اور حجرِ اسود کو بغیر آواز کے بوسہ دے ورنہ حجرِ اسود کو ہاتھ سے چُھو کر چوم لے اور مستحب ہے کہ اُس پر جھکے یعنی اپنا چہرہ یا پیشانی اس پر سجدے کی ہیئت میں رکھے اور اِسے تین بار کرے اور اگر یہ میسرنہ ہو اور ممکن ہو تو چھڑی وغیرہا سے حجرِ اسود کو چُھو کر اُسے چُوم لے ورنہ حجرِ اسود کی جانب منہ کر کے کھڑا ہو اور اپنے دونوں ہاتھوں کو حجرِ اسود کی جانب اِشارہ کرتے ہوئے بلند کرے گویا کہ اپنے ہاتھ حجرِ اسود پر رکھ رہا ہے اور اِشارے کے بعد اُن کو چُوم لے۔ (المسلک المتقسط علی لباب المناسک ملخصا، صفحہ 174 تا 176، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

اسی طرح صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”میسر ہوسکے تو حجرِ اسود پر دونوں  ہتھیلیاں  اور اُن کے بیچ میں  مونھ رکھ کر یوں  بوسہ دو کہ آوازنہ پیدا ہو، تین بار ایسا ہی کرو یہ نصیب ہو تو کمالِ سعادت ہے۔ یقینا تمھارے محبوب و مولیٰ محمد رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے بوسہ دیا اور رُوئے اقدس اس پر رکھا۔ زہے خوش نصیبی کہ تمہارا مونھ (منہ) وہاں تک پہنچے اور ہجوم کے سبب نہ ہوسکے تو نہ اَوروں  کو ایذا دو، نہ آپ دبو کُچلو بلکہ اس کے عوض ہاتھ سے چُھو کر اسے چوم لو اور ہاتھ نہ پہنچے تو لکڑی سے چُھو کر اسے چوم لو اور یہ بھی نہ ہو سکے تو ہاتھوں  سے اُس کی طرف اشارہ کر کے انھیں  بوسہ دے لو، محمد رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مونھ رکھنے کی جگہ پر نگاہیں  پڑ رہی ہیں یہی کیا کم ہے اور حجر کو بوسہ دینے یا ہا تھ یا لکڑی سے چُھو کر چوم لینے یا اشارہ کر کے ہاتھوں  کو بوسہ دینے کو استلام کہتے ہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ6، صفحہ 1096، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

طواف میں استلام سنت ہے، جیسا کہ لباب المناسک اور اس کی شرح، المسلک المتقسط میں ہے: ”(سنن الطواف: استلام الحجر مطلقا) ای من غیر قید الأولیۃ والآخریۃ والأثنائیۃ وان کان بعضھا آکد من بعض“ ترجمہ: حجرِ اسود کا استلام مطلقاً طواف کی سنتوں میں سے ہے یعنی شروع، آخر اور درمیان کی قید کے بغیر، اگرچہ اس میں سے بعض کی تاکید بعض سے زیادہ ہے۔ (المسلک المتقسط علی لباب المناسک ملتقطاً، صفحہ 225۔226، مطبوعہ المکۃ المکرمۃ)

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”(قوله من الاستلام) فهو سنة بين كل شوطين كما في غاية البيان وذكر في المحيط والولوالجية: أنه في الابتداء والانتهاء سنة، وفيما بين ذلك أدب بحر ووفق في شرح اللباب بأنه في الطرفين آكد مما بينهما“ یعنی استلام ہر دو طواف کے چکر کے درمیان سنت ہے جیسا کہ غایۃ البیان میں ہے اور محیط وولوالجیہ میں ہے یہ استلام شروع و آخر میں سنت ہے اور ان کے درمیان میں ادب ہے اور شرح اللباب میں یوں تطبیق دی کہ اول و آخر کا استلام درمیانی استلام سے زیادہ مؤکد ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ  498، مطبوعہ دارالفکر، بیروت)

شروع و آخر کا استلام سنت موکدہ ہے اور درمیانی استلام مستحب ہے، چنانچہ فتح باب العنایہ بشرح النقایہ میں ہے: ”الاستقبال مع الاستلام أو نحوه في ابتداء الطواف سنة مؤكدة و مستحبة في أول كل شوط عندنا“ یعنی ابتداءِ طواف میں حجرِ اسود کی طرف رخ کرکے استلام کرنا یا اس جیسا طریقہ اپنانا (جیسے اشارے کے ساتھ بوسہ دینا) سنتِ مؤکدہ ہے اور بقیہ ہر چکر کے شروع میں ہمارے نزدیک مستحب ہے۔ (فتح باب العنایہ بشرح النقایہ، جلد 1، صفحہ 639، مطبوعہ بیروت)

اسی طرح لباب المناسک اور اس کی شرح، المسلک المتقسط میں ہے: ”فان استلام طرفیہ آکد مما بینھما۔۔۔واذا طاف سبعۃ اشواط استلم الحجر ای بطریق السنۃ المؤکدۃ“ یعنی طواف کے شروع و آخر کا استلام درمیانی استلام سے زیادہ مؤکد ہے۔ طواف کرنے والا جب سات چکر پورے کرلے، تو(آخر میں) سنت مؤکدہ کی حیثیت سے استلام کرے۔ (المسلک المتقسط علی لباب المناسک ملتقطاً، صفحہ 187۔194، مطبوعہ المکۃ المکرمۃ)

اگر طواف میں استلام رہ جائے، تواس کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا، مگر شروع و آخر کا استلام بغیر عذر ترک کرنا اساءت ہے، جیسا کہ مبسوط سرخسی میں ہے: ”وترك الرمل في طواف الحج والعمرة۔۔۔لا يوجب عليه شيئا غير أنه مسيء إذا كان لغير عذر، وكذلك ترك استلام الحجر فالرمل واستلام الحجر، وهذه الخلال من آداب الطواف أو من السنن، وترك ما هو سنة أو أدب لا يوجب شيئا إلا الإساءة إذا تعمد“ یعنی حج اور عمرہ کے طواف میں رمل چھوڑ دینے پر کچھ (یعنی کفارہ وغیرہ) لازم نہیں ہوتا، البتہ بغیر کسی عذر کے ترک کرنے والا برا کام کرنے والا ہے، اسی طرح حجرِ اسود کا استلام (چھوڑنے کا حکم) ہے۔ پس رمل اور حجر اسود کا استلام یہ سب طواف کے آداب یا سنتوں میں سے ہیں اور جو چیز سنت یا ادب ہو اس کا ترک کسی چیز کو لازم نہیں کرتا، سوائے اس کے کہ جان بوجھ کر چھوڑنے کی صورت میں یہ اساءت شمار ہوگا۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 4، صفحہ 46، مطبوعہ دار المعرفة، بيروت)

اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ہے: ”وترك الاستلام فيما بين ذلك أجزأه، وإذا ترك رأسا فقد أساء“ ترجمہ: اگر کوئی درمیان کے چکروں میں استلام چھوڑ دے (جبکہ شروع و آخرمیں استلام کرلے) تو یہ اس کے لیے کافی ہے، لیکن اگر مطلقاً استلام (یعنی شروع و آخر والا بھی) ترک کر دے، تو اس نے بر اکام کیا۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 1، صفحہ 225، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0249
تاریخ اجراء:12 شوال المکرم1447ھ/01 اپریل 2026ء