logo logo
AI Search

جدہ قیام میں احرام ضروری ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پاکستان سے یوکے جانا ہے اور جدہ ائیر پورٹ پر کچھ دیر قیام ہوگا تو کیا احرام باندھنا ضروری ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہم پاکستان سے یوکے جارہے ہیں، اور جدہ ایئرپورٹ پر ہمارا قیام 2 یا 3 گھنٹے کا ہے، تو کیا ہم پر احرام کی نیت کرنا ضروری ہے؟ اگر احرام کی نیت نہ کریں، تو ہم پر دم تو لازم نہیں آئے گا؟ پلیز بتا دیں۔

جواب

میقات سے احرام باندھنا اس کے لیے ضروری ہوتا ہے، جو مکہ شریف جانے کا ارادہ رکھتا ہو، اور اگر مکہ شریف جانے کا ارادہ نہ ہو، تو اگرچہ میقات سے گزر ہو، تب بھی اس پر احرام باندھنا لازم نہیں ہوتا، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ کا مکہ شریف جانے کا ارادہ نہیں ہے، تو اب میقات سے گزر ہونے کے باوجود بھی آپ پر احرام باندھنا لازم نہیں ہے۔

در مختار میں ہے ”لو قصد موضعا من الحل كخليص و جدة حل له مجاوزته بلا إحرام“ ترجمہ: اگر اس کا ارادہ حل کے اندر کسی مقام مثلاً خلیص اور جدہ جانے کا ہے، تو اسے بغیر احرام میقات سے گزرنا جائز ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 3، ص 552، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ مثلاً جدّہ جانا چاہتا ہے تو اُسے احرام کی ضرورت نہیں ۔۔۔ اور اگر پہلے ہی سے مکہ معظمہ کا ارادہ ہے تو اب بغیر احرام نہیں جاسکتا۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1068، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4948
تاریخ اجراء: 12 شوال المکرم 1447ھ / 01 اپریل 2026ء