logo logo
AI Search

چادروں کے کناروں کو ملا کر سلائی کیا ہوا احرام پہننا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دو چادروں کے کناروں کو ملا کر سلائی کیا ہوا احرام پہننا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے اس سال حج پر جانا ہے، مجھے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ میں بھاری جسامت اور لمبے قد والا ہو ں، مارکیٹ سے ملنے والی احرام کی چادریں میرے جسم کے مطابق بہت چھوٹی ہیں جو میرے جسم پر پوری نہیں آتی۔ اس لیے میں نے سوچا ہے کہ میں نارمل سائز کے احرام کی چادریں خریدوں اور پھر دو چادروں کے کناروں کو ملا کر سلائی کروالوں، اور دو چادروں کی ایک چادر بنا لوں۔ تو کیا یہ درست ہے یعنی ایسی چادر احرام کی حالت میں پہن سکتے ہیں ؟

جواب

مرد محرم کے لیے حالت احرام میں لبس مخیط ممنوع ہے یعنی ایسا لباس جسے جسم کے اعضاء کے مطابق سلائی کیا گیا ہو، سلائی کی وجہ سے جسم کو گھیر لے، اور جسم پر خود بخود ٹھہر جائے، اس سے واضح ہوگیا کہ دو چادروں کے کناروں کو ملا کر سلائی کرکے ایک چادر بنا لیا جائے تو اس پر لبس مخیط کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس لیے دو چادروں کے کناروں کو ملا کر سلائی کر کے ایک چادر بنا لیا جائے تو حالت احرام میں ایسی چادر پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے  جیسا کہ جس چادر میں پیوند لگا ہو تو اسے پہننا جائز ہوتا ہے۔

البتہ افضل یہ ہے کہ احرام کی چادروں میں کسی بھی قسم کی سلائی نہ ہو۔ اس لیے  آپ بھی احرام کے لیے اپنی جسامت کے مطابق چادر کا انتظام کریں مثلا مارکیٹ سے احرام کی چادروں والے کپڑے کا تھان خرید کر اس میں سے اپنی مرضی کے مطابق احرام کی چادروں کا کپڑا نکال لیں۔

چنانچہ بحر الرائق میں ہے: ”(والبس إزارا ورداء جديدين أو غسيلين) لأنه عليه السلام لبسهما هو وأصحابه كما رواه مسلم ولأنه ممنوع عن لبس المخيط۔۔۔۔۔ وما في الكتاب بيان للسنة، وإلا فساتر العورة كاف كما في المجمع“ ترجمہ: اور تم دو نئی یا دھلی ہوئی چادریں اوڑھ لو کیونکہ نبی پاک علیہ السلام اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے احرام کے لیےچادریں ہی پہنی تھیں جیساکہ مسلم شریف کی روایت ہے اور اس وجہ سے بھی چادریں پہنے کہ محرم کو لبس مخیط یعنی سلا ہوا لباس ممنو ع ہے۔۔۔۔جو کتاب کے متن میں ذکر کیا گیا، وہ مُحرم کے لیے سنت لباس کا بیان ہے ورنہ ایسا لباس کافی ہے جس سے ستر عورت ہوجائے جیساکہ مجمع میں ہے۔

اس کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمہ نے منحۃ الخالق میں لکھا ہے: ”فيجوز في ثوب واحد وأكثر من ثوبين وفي أسودين أو قطع خرق مخيطة، والأفضل أن لا يكون فيهما خياطة اهـ“ ترجمہ: ورنہ محرم کے لیے ایک کپڑا یا دو سے زیادہ چادریں اوڑھنا یا سیاہ چادریں یا ایسی چادر جس میں پیوندہو، یہ بھی پہننا جائز ہے۔ اور افضل یہ ہے کہ محرم کی چادر میں کسی بھی طرح کی سلائی نہ ہو۔ (بحر الرائق معہ حاشیہ منحۃالخالق، جلد 02، صفحہ 345، مطبوعہ بیروت)

علامہ شامی علیہ الرحمہ نے ردالمحتار ہی میں لبس مخیط اور چادروں کو جوڑ کر سینے کی تفصیل و حکم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ”أن المراد المنع عن لبس المخيط وإنما خص المذكورات لذكرها في الحديث وفي البحر عن مناسك ابن أمير حاج الحلبي أن ضابطه لبس كل شيء معمول على قدر البدن أو بعضه بحيث يحيط به بخياطة أو تلزيق بعضه ببعض أو غيرهماو يستمسك عليه بنفس لبس مثله الا المعکب اھ، قلت: فخرج ما خيط بعضه ببعض لا بحيث يحيط بالبدن مثل المرقعة فلا بأس بلبسه كما قدمناه

ترجمہ: اس سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سلی ہوئی چیز پہننے سے ممانعت مراد ہے اور مذکورہ چیزوں کو خاص اس وجہ سے کیا ہے کہ ان کا حدیث میں ذکر ہے اور بحرمیں ابن امیر حاج حلبی کی مناسک کے حوالے سے ہے کہ اس کا ضابطہ یہ ہے: ہر وہ چیز پہننا جسے پورے بدن یا اس کے کسی حصے کی مقدار کے مطابق اس طور پر بنایا گیا ہو کہ وہ سارے بدن یا بعض بدن کو گھیرلے سلائی کی وجہ سے یا بعض کو بعض کے ساتھ چپکانے کی وجہ سے یا کسی اور طریقے کے ذریعے اور ایسی چیز بدن پر یا اس کے بعض حصے پر خود بخود ٹھہر جائے۔ ہاں مگر جوتی کا حکم اس سے جدا ہے کہ اسے پہننا جائز ہے اگرچہ وہ جسم کے مطابق بنی ہوئی ہو۔ میں کہتا ہوں کہ اس لبس مخیط کی قید سے وہ کپڑا اس سے خارج ہو گیا کہ جس کپڑے کے حصوں کو آپس میں سی دیا جائے، لیکن وہ جسم پر محیط نہ ہو، جیسا کہ پیوند لگا ہوا، تواس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ (درمختار معہ رد المحتار، جلد 02، صفحہ 489، مطبوعہ بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ”چادر، تہبند بے سِلی اوڑھے باندھے۔(فائدہ): نئے سفید ہوں تو بہتر ورنہ دھُلے اُجلے اور ان میں رفویا پیوند بھی اچھا نہیں، پر جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 778، 779، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی ابو الحسن محمد ھاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-13883
تاریخ اجراء:26 شوال المکرم 1447ھ/15 اپریل 2026 ء