بغیر عمرہ کئے صرف مدینہ منورہ میں حاضری دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صرف مدینہ منورہ حاضر ہونا اور عمرہ نہ کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
صرف مدینہ جا کر حاضری دی اور عمرہ نہیں کیا، اس کی کیا فضیلت ہے؟
جواب
یاد رہے! عمرہ کرنا باعث فضیلت اور ثواب کا کام ہے، جب بھی موقع ملے اور کوئی مجبوری نہ ہو، تو اس سعادت سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر کی زیارت کے بھی بطور خاص فضائل موجود ہیں، جو کہ نیچے احادیث میں آرہے ہیں، لہذا اگر کوئی صرف مدینہ شریف میں حاضری دے، تو اس کو وہ فضائل حاصل ہوجائیں گے (ان شاء اللہ عزوجل)۔
عمره اور حج كے فضائل:
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلْعُمْرَۃُ اِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہٗ جَزَاءٌ اِلَّا الْجَنَّۃُ" حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی، جنت کے سوا کوئی جزاء ہی نہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب العمرۃ، باب العمرۃ۔۔۔ الخ، جلد 1، صفحہ 238، مطبوعہ کراچی)
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ اَلْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللہِ اِنْ دَعَوْہٗ اَجَابَہُمْ وَ اِنِ اسْتَغْفَرُ وْہٗ غَفَرَ لَھمْ" حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے روایت کرتے ہیں کہ حج و عمرہ کرنے والے اللہ تَعَالٰی کے مہمان ہیں اگر یہ لوگ اس سے دعا مانگیں گے تو وہ قبول کرے گا اور اگر اس سے بخشش طلب کریں گے تو وہ بخش دے گا۔ (مشکاۃالمصابیح، کتاب المناسک، الفصل الثالث، صفحہ 222، مطبوعہ کراچی)
عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَاِنَّھمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّ نُوْبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَ الذَّھبِ وَالْفِضَّۃِ وَلَیْسَ لِلْحَجَّۃِ الْمَبْرُوْرَۃِ ثَوَابٌ اِلَّا الْجَنَّۃ" حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: حج و عمرہ یکے بعد دیگر کرتے رہو، اس لیے کہ یہ دونوں محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جیسے کہ بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے اور حج مبرور پر جنت کے سوا کوئی ثواب ہی نہیں ہے۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب المناسک، الفصل الثانی، صفحہ 222، مطبوعہ: کراچی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری کے فضائل:
مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهٗ شَفَاعَتِي یعنی جس نے میری قبر کی زیارت کی، اُس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔ (سنن دار قطنی، جلد 351، صفحہ 334، حدیث: 2695، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
جلیلُ القدر محدّث امام تقیُّ الدّین سُبْکی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (وفات: 756ھ) حدیثِ پاک کے لفظ ”وَجَبَتْ“ کے تحت فرماتے ہیں: اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ و اٰلہٖ و سلَّم کی قبرِ انور کی زیارت کرے اُس کیلئے شفاعت ثابت اور لازم ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ حدیث شريف کے لفظ ”لَهٗ“ کے فوائد ذکر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: (1) زائرینِ روضۂ انور کو ایسی شفاعت کے ساتھ خاص کیا جائے گا جو دوسروں کو نہ عمومی طور پر نصیب ہوگی نہ ہی خصوصی طور پر۔ (2) زائر کو اس شفاعت کے ذریعے دوسروں کوحاصل ہونے والی شفاعت سے ممتاز کردیا جائےگا۔ (3) زیارتِ قبرِ انور کرنے والے شفاعتِ مصطفےٰ کے حقدار قرار پانے والوں میں لازمی طور پر شامل ہوں گے۔ (4) زائر کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔
امام تقیُّ الدّین سبکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ”شَفَاعَتِي یعنی میری شفاعت“ کے تحت فرماتے ہیں: شفاعت کی نسبت اپنی جانب فرمانے میں یہ شرف ہے کہ ”فرشتے، انبیا اور مؤمنین“ بھی شفاعت کریں گے، مگر روضَۂ انور کی زیارت کرنے والے کی شفاعت میں خود کروں گا۔ شافع (شفاعت کرنے والے) کی عظمت کی وجہ سے اس کی شفاعت بھی ویسی ہی عظیم ہوتی ہے، جیسے ہمارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام انبیائے کرام علیہمُ السَّلام سے افضل ہیں اسی طرح آپ کی شفاعت بھی دوسروں سے افضل ہے۔ (شفاء السقام، صفحہ 103، 104، ملخصاً، مطبوعہ: بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4894
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1447ھ / 13 اپریل 2026ء