logo logo
AI Search

عمرے پر جانے کے لیے قرض خواہ کی اجازت ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قرض خواہ کی اجازت کے بغیر عمرے پر جانا کیسا ؟ نیز یہ حکم کس شخص کے لیے ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ

(1) حج کے لیے جاتے ہوئے مقروض پر واجب ہے کہ اپنے قرض خواہ سے اجازت لے کر جائے، اس پر سوال یہ ہے کہ کیا یہی حکم عمرے کے متعلق بھی ہے کہ عمرے پر جاتے ہوئے بھی مقروض اپنے قرض خواہ سے اجازت لے کر جائے یا عمرے کے متعلق مختلف حکم ہے ؟

(2) قرض خواہ سے اجازت لینے کا حکم صرف آفاقی کے لیے ہے یا مکی و حلی کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ اپنے قرض خواہوں سے اجازت لے کر ہی جائیں ؟

جواب

(1) جس طرح حج پر جاتے ہوئے مقروض کے لیے اپنے قرض خواہ سے اجازت لینا ضروری ہے، اسی طرح عمرے پر جانے والے کے لیے بھی، بلکہ اس کے لیے بدرجہ اولیٰ اپنے قرض خواہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ عمرہ کرنا سعادت اور عظیم اجر و ثواب کا کام ہے اور صاحبِ استطاعت کے لیے سنتِ مؤکدہ ہے، لیکن کسی سے قرض لیا ہو، تو مقروض پر قرض خواہ کا یہ حق ایسا فرض و لازم ہوتا ہے کہ غنی شخص کے لیے اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا بھی ظلم اور بہت بڑا گناہ ہے اور پھر اسی حق کی وجہ سے قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر مقروض کو مطلق سفر کرنے سے منع کیا گیا، خواہ وہ فرض حج کا مقدس سفر ہو یا جہاد کا عظیم سفر ہو، بہر صورت قرض خواہ سے اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا کہ ان سے اجازت لے کر اور ان کو راضی کر کے جائے، نیز قرض خواہوں سے اجازت لینے کا یہ حکم بھی فرض حج اور فرض کفایہ جہاد کے متعلق ہے، جس سے تقابل کرتے ہوئے فقہائے کرام نے نفلی حج سے متعلق واضح طور پر فرمایا ہے کہ نفلی حج کی صورت میں بہر صورت حق العبد ہی مقدم ہوگا اور قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر جا ہی نہیں سکتا، لہٰذا جب فرض حج اور فرضِ کفایہ جہاد پر جانے کے لیے قرض خواہوں کی اجازت ضروری ہے اور نفلی حج پر بھی قرض خواہ کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتا، تو عمرہ کے لیے کہ جو سنتِ مؤکدہ ہے، اس کے لیے قرض خواہ کی اجازت کے بغیر بدرجہ اَولیٰ نہیں جا سکتا، عمرے پر جانے کے لیے بھی قرض خواہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔

عمرہ کرنا سنت مؤکدہ ہے، چنانچہ بحر الرائق میں ہے: ”العمرة سنة مؤكدة“ ترجمہ: عمرہ کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ (البحر الرائق، جلد 3، صفحہ 63، مطبوعہ دار الكتاب الاسلامی)

غنی کے لیے قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے کی وعید کے متعلق بخاری شریف میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مطل الغنی ظلم“ ترجمہ: مالدار کا (ادائیگی ِقرض میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 94، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، مصر)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ”جو (قرض) دے سکتا ہے اور بلاوجہ لیت و لعل کرے، وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع و ملامت جائز۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 586، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

ذمہ پر قرض اور حج دونوں ہوں، تو قرض ادا کرنے کے متعلق حدیثِ پاک میں ہے: ”عن أبي هريرة قال: قال رجل: يا رسول اللہ علي حجة الإسلام وعلي دين، قال: «فاقض دينك»“ ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے (نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں) عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! مجھ پر حج بھی فرض ہے اور قرض بھی ہے، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اپنا قرض ادا کرو۔ (مسند ابی یعلیٰ، جلد 11، صفحہ 54، مطبوعہ دار المامون للتراث، دمشق)

بندے کا حق مقدم ہونے کے متعلق امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”وحق العبد مقدم على حق اللہ تعالى إذا اجتمعا لاحتياج العبد دون اللہ تعالى“ ترجمہ: بندے کا حق اللہ پاک کے حق سے مقدم ہوتا ہے جب یہ دونوں جمع ہوجائیں، کیونکہ بندہ محتاج ہے اور اللہ پاک محتاج نہیں۔ (فتح القدیر، کتاب الوصایا، جلد 10، صفحہ 430، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

فرض حج میں بھی قرض کی اجازت ضروری ہے، چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”وبالكراهة كالحج بلا إذن ممن يجب استئذانه“ ترجمہ: اور (سفرِ حج کبھی) کراہت کے ساتھ متصف ہوتا ہے، جیسا کہ اس شخص کی اجازت کے بغیر جانا جس سے اجازت لینا واجب ہے۔

اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”كأحد أبويه المحتاج إلى خدمته وكذا الغريم لمديون لا مال له يقضي به، ، فيكره خروجه بلا إذنهم كما في الفتح۔۔۔۔ وظاهره أن الكراهة تحريمية ولذا عبر الشارح بالوجوب۔۔۔ قال في البحر: وهذا كله في حج الفرض ملخصاً“ ترجمہ: جیسا کہ والدین میں سے کوئی ایک بیٹے کی خدمت کا محتاج ہو (تو پھر ان کی اجازت کے بغیر جانا)، اسی طرح قرض خواہ (کی اجازت) ایسے مقروض کے لیے کہ جس کے پاس ایسا مال نہ ہو، جس کے ذریعے وہ قرض ادا کر سکے، تو ان کی اجازت کے بغیر نکلنا مکروہ ہے، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔۔۔ اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے، اسی وجہ سے شارح (علامہ حصکفی علیہ الرحمۃ) نے وجوب کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بحر میں فرمایا کہ یہ ساری بحث فرض حج کے متعلق ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، جلد 2، صفحہ 456، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ’’حج کو جانے کے لیے جس سے اجازت لینا واجب ہے، بغیر اُس کی اجازت کے جا نا مکروہ ہے۔‘‘ (بھار شریعت، حصہ 6، جلد 1، صفحہ 1036، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فرض حج کے لیے قرض خواہوں سے اجازت لینے کے متعلق بہارِ شریعت میں ہی ہے: ’’جس کی بے اجازت سفر مکروہ ہے، جیسے ماں باپ شوہر اُسے رضامند کرے، جس کا اس پر قرض آتا ہے اُس وقت نہ دے سکے، تو اُ س سے بھی اجازت لے۔‘‘ (بھار شریعت، حصہ 6، جلد 1، صفحہ 1051، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

قرض خواہ کی اجازت کے بغیر سفر کی ممانعت عام ہے، خواہ وہ سفر کسی بھی مقصد کے لیے ہو، جیسا کہ فتح باب العنایہ میں ہے: ”(فتخرج المرأة والعبد بلا إذن) من الزوج والسيد، لأن حق الزوج والمولى لا يظهر في حق فروض الأعيان، كالصلاة والصيام، ولذا يخرج الولد بغير إذن والديه، والمديون بغير إذن دائنه. وفي غير هذه الحالة لا يخرجان إلا بإذنهما. وكذا في كل سفر فيه مشقة، لأن الإشفاق على الولد مضر بوالديه، وعلى المديون يضر بدائنه ترجمہ: (جہاد جب فرضِ عین ہو) تو بیوی اپنے شوہر اور غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر جا سکتا ہے، کیونکہ شوہر اور مالک کا حق فرضِ عین چیزوں میں ظاہر نہیں ہوتا، جیسا کہ نماز، روزے کے معاملے میں، اسی وجہ سے بیٹا اپنے والدین کی اجازت کے بغیر اور مقروض اپنے قرض خواہ کی اجازت کے بغیر (فرض عین جہاد پر) جا سکتا ہے اور اس حالت کے علاوہ (یعنی فرضِ کفایہ جہاد میں) یہ دونوں ان کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتے۔ اور اسی طرح ہر مشقت والے سفر میں حکم ہے، کیونکہ اولاد کے لیے والدین کی محبت و شفقت کی وجہ سے ان کو تکلیف ہوگی اور قرض خواہ کو مقروض کی وجہ سے نقصان ہوگا۔ (فتح باب العنایہ بشرح النقایہ، کتاب الجھاد، جلد 6، صفحہ 258، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اسی چیز کو علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ بزازیہ کے حوالے سے یوں لکھتے ہیں: ” (ومديون بغير إذن غريمه) وعمم في البزازية السفر، ولا يخفى أن المقيد يفيد غيره بالأولى “ ترجمہ: (اور مقروض کا اپنے قرض خواہ کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانا فرض نہیں ہے اور فتاویٰ بزازیہ میں سفر کو عام ذکر کیا ہے (کہ وہ سفر کسی بھی چیز کا ہو، قرض خواہ کی اجازت کے بغیر جانا، جائز نہیں) اور مخفی نہیں ہے کہ جہاد کے ساتھ مقید کرنے سے جہاد کے علاوہ کی ممانعت کا بدرجہ اولیٰ فائدہ حاصل ہوتا۔

قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر نفلی حج پر جانا بھی منع ہے، جیسا کہ در مختار کی مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”(قوله وعمم في البزازية السفر) يعني أطلقه حيث قال أراد السفر (قوله ولا يخفى أن المقيد) وهو منعه عن سفر الغزو يفيد غيره بالأولى أي يفيد منعه عن سفر غير الغزو بالأولى؛ لأن الغزو فرض كفاية، فإذا منع منه يمنع من غيره كسفر التجارة وحج النفل ترجمہ: (شارح رحمۃ اللہ علیہ کا قول کہ بزازیہ میں سفر کو عام ذکر کیا ہے) یعنی سفر کو مطلق ذکر کیا ہے یوں کہ فرمایا: (جب) سفر کا ارادہ کرے (تو مقروض کے لیے قرض خواہ کی اجازت کے بغیر جانا ناجائز ہے) (شارح رحمۃ اللہ علیہ کا قول کہ مخفی نہیں ہے کہ مقید ذکر کرنا۔۔۔ الخ) وہ یہ ہے کہ جہاد کے سفر کی ممانعت اور یہ قید جہاد کے علاوہ کی ممانعت کا بدرجہ اولیٰ فائدہ دیتی، یعنی سفرِ جہاد سے منع کرنے سے، جہاد کے علاوہ کی ممانعت بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتی ہے، کیونکہ جہاد فرضِ کفایہ ہے، تو جب اس سے منع کر دیا تو اس کے علاوہ سے بدرجہ اولیٰ منع کیا جائے گا، جیسا کہ تجارت اور نفلی حج کے لیے (قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر) جانا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الجھاد، جلد 4، صفحہ 126، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

فرض عین اور فرض کفایہ کا تقابل کرتے ہوئے قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانے کی ممانعت کے متعلق علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”لا يخرج إلى الجهاد إلا بإذن الوالدين لأن مراعاة حقهما فرض عين، والجهاد فرض كفاية فكان مراعاة فرض العين أولى“ ترجمہ: والدین کی اجازت کے بغیر جہاد کے لیے نہ جائے، کیونکہ والدین کے حق کی رعایت فرضِ عین ہے اور جہاد فرضِ کفایہ، تو فرضِ عین کی رعایت اَولیٰ ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الجھاد، جلد 5، صفحہ 77، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے: ” اور مدیون کے پاس مال ہو تو دین ادا کرے اور (پھر جہاد کے لیے) جائے ورنہ بغیر قرض خواہ بلکہ بغیر کفیل کی اجازت کے (جہاد پر) نہیں جا سکتا۔“(بھارِ شریعت، حصہ 9، جلد 2، صفحہ 427، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

(2) یہ حکم فقط آفاقی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ ہر شہر کے اعتبار سے ہے، کیونکہ قرض خواہ کی اجازت کے بغیر سفر اس وجہ سے ناجائز ہے کہ مقروض شہر سے بھاگ گیا اور قرض ادا نہ کیا، تو قرض خواہ کو نقصان ہوگا، لیکن جب تک اسی شہر میں ہے تو بھاگنا شمار نہیں ہوتا، جیسا کہ جہاد کے متعلق فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ اگر اسی شہر میں جہاد ہورہا ہو، تو پھر قرض خواہ کی اجازت ضروری نہیں ہے، اسی طرح غلام کی بیع میں بھاگنا عیب ہے، لیکن اس بھاگنے کو شہر سے مقید کیا گیا کہ جب تک شہر میں ہو، تو چونکہ اس کو پکڑنا آسان ہوتا ہے، اس لیے شہر میں ہی ہو تو عیب شمار نہیں ہوتا، شہر سے باہر بھاگ جائے، تو یہ عیب شمار ہوتا ہے، اسی طرح مقروض شہر سے باہر چلا جائے، تو اس کو پکڑنا اور اپنا قرض وصول کرنا آسان نہیں ہوگا، اس وجہ سے تو اس سفر کرنے میں شہر کا اعتبار ہوگا کہ شہر سے باہر جائے، تو اجازت لے کر جائے، لہٰذا آفاقی کے ساتھ ساتھ وہ حلی بھی اس حکم میں شامل ہوگا، جو مکہ شریف سے باہر رہتا ہے اور حج و عمرہ کے لیے مکہ شریف جائے گا، تو چونکہ اس کا اپنے شہر سے باہر نکلنا پایا جائے گا، اس وجہ سے اس حلی مقروض کو اپنے قرض خواہ کی اجازت ضروری ہوگی، البتہ فی زمانہ مکی کے لیے اس اعتبار سے فرق ہے کہ مکہ کے رہائشی کو فی زمانہ حج کرنے کے لیے حکومت سے باقاعدہ اجازت نامہ لینا ہوتا ہے، جو تقریباً چار لاکھ پاکستانی روپے سے بھی زیادہ کا ملتا ہے، تو جب مکہ کا رہائشی اتنی بڑی رقم خرچ کر کے حج پر جارہا ہے اور دوسری طرف اپنا قرض ادا نہیں کرے گا، تو یہ جان بوجھ کر قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول ہے، لہٰذا ایسی صورت میں مکہ کا رہائشی بھی یا تو پہلے اپنا قرض ادا کرے، ورنہ اپنے قرض خواہ سے اجازت لے کر ہی حج کے لیے جائے، ہاں اگر کوئی اور شخص اس کو اپنی طرف سے حج کروا دے اور سارے اخراجات وہی شخص برداشت کرے، تو ایسی صورت میں حج کی وجہ سے نہ اس کی طرف سے قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول پائی جارہی ہے اور نہ ہی شہر سے باہر نکلنا پایا جارہا ہے، لہٰذا اس صورت میں اگر یہ مقروض اپنے قرض خواہ کی اجازت کے بغیر حج کے لیے چلا جائے، تو گنہگار نہیں ہوگا۔

مقروض کے شہر میں ہی جہاد ہو رہا ہو، تو پھر جہاد پر جانے کی اجازت سے متعلق علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”قلت: وظاهر التعليل بخوف ضياعهم جواز خروجه لو كان في البلدة من يساويه“ ترجمہ: (قرض خواہ وغیرہ کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانا، ناجائز ہے) میں کہتا ہوں کہ اس کی علت جو بیان کی گئی، وہ یہ ہے کہ ان کے ضائع ہونے کا خوف ہے، اس علت کا ظاہر یہ ہے کہ اگر اسی کے شہر میں جہاد ہو رہا ہو، تو پھر جہاد پر جانا، جائز ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الجھاد، جلد 4، صفحہ 126، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

قدرت کے باوجود قرض ادا نہ کرنے کی وعید سے متعلق حدیثِ پاک میں ہے: ”وليس من عبد يلوي غريمه، وهو يجد إلا كتب اللہ عليه في كل يوم وليلة إثما“ ترجمہ: جو شخص (قرض ادا کرنے کی) قدرت کے باوجود قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کرے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ ہر دن اور رات اس کا گناہ لکھتا ہے۔ (المعجم الاوسط، جلد 5، صفحہ 187، مطبوعہ دار الحرمین، قاھرہ)

بندے پر قرض ہو، تو نفلی صدقہ کی بجائے پہلے قرض ادا کرے، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: ”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: «لو كان لي مثل أحد ذهبا ما يسرني أن لا يمر علي ثلاث، وعندي منه شيء إلا شيء أرصده لدين» “ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہوتا ، تو مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ اس پر تین راتیں گزر جائیں اور اس سونے میں سے کچھ بھی میرے پاس ہو، ہاں اگر مجھ پر قرض ہو، تو اس کے لیے رکھ دوں۔ (صحیح البخاری، کتاب فی الاستقراض، جلد 3، صفحہ 116، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، مصر)

اس کے تحت مرأۃ المناجیح میں ہے: ”اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مقروض نفلی صدقہ نہ دے، بلکہ پہلے قرض ادا کرے۔“ (مرأۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 69، مطبوعہ ضیاء القرآن، کراچی)

مقروض پر پہلے اپنا قرض ادا کرنا لازم ہے، نفلی کام بعد میں کرے، چنانچہ علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”فإذا كان عليه دين فالواجب أن يقضي دينه، وقضاء الدين أحق من الصدقة والعتق والهبة لأن الابتداء بالفرائض قبل النوافل ترجمہ: جب کسی پر قرض ہو، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا قرض ادا کرے اور صدقہ کرنے، غلام آزاد کرنے اور ہبہ کرنے سے زیادہ حق قرض ادا کرنے کا ہے، کیونکہ (بندوں کے جو حقوق ادا کرنا) فرض ہوں، نفلی کاموں سے پہلے وہ ادا کرنے کا حکم ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، باب لا صدقۃ الا عن ظھر غنی، جلد 8، صفحہ 293، مطبوعہ بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2950
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء