احرام کے سنت غسل کی فضیلت پانے کا طریقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کے مسنون غسل کی فضیلت کب حاصل ہوگی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے احرام کا مسنون غسل کیا، پھر وضو ٹوٹ گیا اور وضو کر کے احرام باندھا، تو کیا اسے مسنون غسل کی فضیلت ملے گی؟
جواب
احرام کے مسنون غسل کا ثواب اور فضیلت اسی وقت حاصل ہوگی، جب اس غسل کے ہوتے ہوئے احرام باندھا ہو، لہذا اگر کسی نے مسنون غسل کیا، پھر وضو ٹوٹ گیا اور وضو کر کے احرام باندھا یعنی نیت کی اور تلبیہ پڑھی تو مسنون غسل کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔
جیسا کہ امام زین الدین ابو نصر احمد بن محمد بن عمر بخاری عتابی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 586ھ) اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں: ”واذا اغتسل ثم احدث وتوضا واحرم لم ینل ثواب غسل الاحرام“ یعنی جب کسی نے غسل کیا پھر وضو ٹوٹ گیا اور وضو کر کے احرام باندھا تو اسے احرام کے غسل کا ثواب نہیں ملے گا۔ (جامع الفقہ المعروف بالفتاوی العتابیۃ، کتاب المناسک، ص 59، مخطوط)
امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 855ھ) فرماتے ہیں: ”السنة ان يغتسل قبل احرامه فان احدث بعده ثم توضّأ لم ينل فضل الغسل للاحرام“ یعنی سنت یہ ہے کہ احرام سے پہلے غسل کرے، لہذا اگر غسل کے بعد وضو ٹوٹ گیا اور وضو کر کے احرام باندھا تو احرام کے غسل کی فضیلت نہیں پائے گا۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ، کتاب المناسک، ج 4، ص 168، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1014ھ) شرح لباب المناسک میں فرماتے ہیں: ”ثم الغسل انما یقع عن السنّۃ اذا تحقّق معہ الاحرام سواء صلّی بہ ام لا“ یعنی پھر غسل کی سنت اسی وقت حاصل ہوگی جب اس کے ہوتے ہوئے احرام باندھا ہو خواہ احرام کے نفل پڑھے ہوں یا نہ پڑھے ہوں۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، ص137، مطبوعہ مکہ مکرمہ)
علامہ سید ابو سعود محمد بن علی مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1172ھ) فرماتے ہیں: ”ویشترط لنیل السنۃ ان یحرم وھو علی طھارۃ الاغتسال حتی لو احدث ثم توضا فاحرم لم ینل فضلہ“ یعنی سنت کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے شرط ہے کہ احرام اس حالت میں باندھے کہ غسل برقرار ہو لہذا اگر غسل کرنے کے بعد وضو جاتا رہا پھر وضو کر کے احرام باندھا تو مسنون غسل کی فضیلت نہیں پائے گا۔ (فتح اللہ المعین علی شرح ملا مسکین للکنز، ج 1، ص 466، مطبوعہ مصر)
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1174ھ) فرماتے ہیں: ”ایں غسل ازسنت واقع شود کہ مع بقاء وضوء او احرام بہ بنددواحرام عبارت است از گفتن تلبیہ مع نیۃ الاحرام پس اگر بعد از غسل وضویش منتقض شد بعدازاں وضو کردہ احرام بست اونیافت فضیلت غسل را صرّح بہ قاضی خان“ یعنی یہ مسنون غسل اس وقت واقع ہوگا جب احرام باندھتے وقت اس غسل کا وضو باقی ہو اور احرام باندھنے کا مطلب ہے احرام کی نیت کے ساتھ تلبیہ کہنا، لہذا اگر غسل کے بعد وضو ٹوٹ گیا، اس کے بعد نیا وضو بنا کر احرام باندھا، تو مسنون غسل کی فضیلت نہیں پائے گا، اس کی صراحت خود امام قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی ہے۔ (حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، ص 18، مخطوط)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جب وہ جگہ (یعنی میقات) قریب آئے، مسواک کریں اور وضو کریں اور خوب مَل کر نہائیں، نہ نہا سکیں تو صرف وضو کریں یہاں تک کہ حیض و نفاس والی اور بچے بھی نہائیں اور باطہارت احرام باندھیں یہاں تک کہ اگر غسل کیا پھر بے وضو ہو گیا اور احرام باندھ کر وضو کیا تو فضیلت کا ثواب نہیں۔“ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1071، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو الحسن رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-12437
تاریخ اجراء: 03 محرم الحرام 1446ھ / 10 جولائی 2024 ء