بغیر احرام میقات سے گزرنا اور پھر میقات سے احرام باندھنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بغیر احرام میقات سے گزرا اور پھر میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کیا، تو دم وغیرہ کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید آفاق سے مکہ شریف بغیر احرام کے آیا اور عمرہ نہیں کیا پھر 5 دن بعد مدینہ شریف چلا گیا اور وہاں 8 دن رہنے کے بعد مدینہ کی میقات سے عمرے کا احرام باندھ کر مکہ شریف آیا اور عمرہ کیا۔
پوچھنا یہ ہے کہ زید جو پہلے مکہ شریف بغیر احرام کے گیا تھا، تو کیا اس وجہ سے اس پر دم اور عمرہ لازم ہو گیا تھا؟ کیونکہ کسی نے زید کو کہا ہے کہ آپ کو اسی وقت چاہئے تھا کہ مکہ سے کسی قریبی میقات جاتے اور عمرے کا احرام باندھتے، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا اور مدینہ شریف چلے گئے اور مدینہ سے آ کر عمرہ کیا، تویہ الگ عمرہ ہے مدینہ والا اور مکہ والا عمرہ آپ نے نہیں کیا، لہذا آپ پر دم اور ایک اور عمرہ کرنا واجب ہے۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں زید پر سوائے توبہ کے کچھ لازم نہیں، لہذا زید پر نہ دم لازم ہے اور نہ ہی مزید کوئی عمرہ کرنا لازم ہے۔ جس نے زید سے یہ کہا کہ زید پر ایک دم اور مزید ایک عمرہ کرنا لازم ہے، اس نے غلط مسئلہ بیان کیا ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ عند الشرع جو آفاقی شخص مکہ شریف یا حدودِ حرم میں جانے کا ارادہ رکھتا ہو، اگرچہ حج و عمرہ کے علاوہ کسی اور کام سے ہی ہو، اس کے لیے میقات سے احرام باندھنا ضروری ہے اور بغیر احرام کے میقات سے گزرنا حرام ہے اور اگر کوئی بغیر احرام کے وہاں سے گزر جائے تو اس پر احد النسکین (حج یا عمرہ میں سے کوئی ایک عبادت) اور ایک دم لازم ہوتا ہے اور اس پر واجب ہوتا ہے کہ آفاقی کے لئے مقرر کردہ پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات پر واپس جاکر احرام باندھ کر آئے، اگرچہ وہ اس کی اپنی میقات نہ ہو، پھر اگر وہ اسی سال میقات کی طرف جا کر احرام باندھ لے، خواہ کسی بھی نیت کے ساتھ باندھے، یہاں تک کہ فرض حج کی نیت سے باندھ لے، تو دم بھی ساقط ہو جاتا ہے اور وہ عمرہ یا حج، جو اس پر لازم ہوا تھا، وہ بھی ذمہ سے اتر جاتا ہے، البتہ اگر وہ شخص اسی سال میقات کی طرف نہیں لوٹتا، آئندہ کسی اور سال جاتا ہے، تو اب خاص اس عمرہ یا حج کی نیت کرےگا جو بغیر احرام میقات عبور کرنے سے اس پر لازم ہوا تھا، تب جا کردم سے اور اس عمرہ یا حج سے بری الذمہ ہوگا اور اگر خاص بغیر احرام میقات سے گزرنے کے باعث لازم آنے والے حج یا عمرہ کے ارادے سے میقات سے احرام باندھ کر نہیں آئے گا تو نہ دم سے اور نہ اس حج یا عمرے سے بری الذمہ ہوگا۔
اس مکمل تفصیل کے بعد پوچھی گئی صورت میں زید پر آفاق سے مکہ شریف آتے ہوئے میقات سے احرام باندھنا لازم تھا اور وہ میقات سے بغیر احرام گزر گیا تھا تو اس پر احد النسکین یعنی حج یا عمرہ اور دم لازم ہوگیا تھا اور اس پر یہ بھی واجب تھا کہ وہ مواقیت میں سے کسی ایک میقات پر واپس جاکر احرام باندھ کر آتا پھر جب وہ اسی سال مدینہ شریف گیا اور وہاں سے احرام باندھ کر آیا اور عمرہ ادا کیا تو اس پر لازم آنے والا احد النسکین ادا ہو گیا اور دم ساقط ہو گیا کیونکہ آفاقی سال کے اندر کسی بھی میقات کی طرف جا کر احرام باندھ لے، خواہ کسی بھی نیت کے ساتھ باندھے تو احد النسکین ادا ہو جاتا ہے اور بغیر احرام میقات تجاوز کرنے کادم ساقط ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ زید بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کے سبب گناہ گار بھی ہوا، زید پر توبہ کرنا بھی واجب ہے۔
آفاقی اپنی میقات سے بلا احرام گزرنے کے سبب گنہگار ہوگا، جیسا کہ امام ابو البقاء محمد بن احمد المعروف امام ابنِ ضیاء مکی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 854ھ) بحر العمیق میں فرماتے ہیں: ”فان جاوز الآفاقی الموضع الذی یجب علیہ الاحرام منہ غیر محرم اثم“ یعنی آفاقی شخص پر جس جگہ سے احرام باندھنا لازم ہے اگر وہ اس جگہ سے بغیر احرام کے گزر جائے تو گنہگار ہوگا۔ (البحر العمیق فی مناسک المعتمر والحاج الی البیت العتیق، ج 1، ص 618، مطبعوعہ مکہ مکرمہ)
آفاقی میقات سے بغیر احرام گزر جائے تو اس پر احد النسکین اور دم لازم ہوتا ہے پھر اگر اسی سال کسی بھی نیت سے میقات سے حج یا عمرے کا احرام باندھ کر آ جائے تو لازم ہونے والا احد النسکین ادا ہو جائے گا اور دم بھی ساقط ہو جائے گا جیسا کہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 993ھ) لباب المناسک میں اور علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (م: 1014ھ) اس کی شرح میں فرماتے ہیں: ”(ومن دخل) ای من اھل الآفاق (مکۃ) اوالحرم (بغیر احرام فعلیہ احد النسکین) ای من الحج اوالعمرۃ و کذا علیہ دم المجاوزۃ اوالعود (فان عاد الی میقات من عامہ فاحرم بحج فرضٍ) ای اداءٍ (او قضاءٍ او نذرٍ او عمرۃِ نذرٍ او قضاءٍ) و کذا عمرۃ سنّۃٍ او مستحبۃ (سقط بہ) ای بتلبسّہ للاحرام من الوقت (مالزمہ بالدخول من النسک) ای الغیر المتعیّن (ودم المجاوزۃ وان لم ینو) ای بالاحرام (عما لزمہ) ای بالخصوص لان المقصود تحصیل تعظیم البقعۃ وھو حاصل فی ضمن کل ما ذکر“
یعنی اہل آفاق میں سے جو مکہ یا حرم بغیر احرام کے داخل ہوا تو اس پر دو نُسک یعنی حج و عمرہ میں سے ایک لازم ہے، اور اسی طرح بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کا دم یا میقات کو احرام کے لیے لوٹنا لازم ہے لہذا اگر وہ اسی سال میقات کو لوٹا پھر وہاں سے حج فرض اداء یا قضا یامنت کے حج یا منت کے عمرے یا قضا کے عمرے کا احرام باندھا، اسی طرح سنت یا مستحب عمرےکا احرام باندھا تو میقات سے احرام کی تلبیہ کہنے سے اس پر جو غیر متعین نسک (حج یا عمرہ) بغیر احرام داخل ہونے کے سبب لازم ہوا تھا وہ ساقط ہو گیا اور بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کا دم بھی ساقط ہوگیا، اگرچہ اس نے اسی احرام میں خصوصا اسی کی نیت نہ کی جو اسے لازم ہوا، کیونکہ مقصد تو (اس) خطہ کی تعظیم کا حصول ہے اور وہ سب (یعنی حج و عمرہ ادا و قضا، منّت و سنت)کے ضمن میں حاصل ہو جاتا ہے۔ (لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، ص123، مطبوعہ مکہ مکرمہ)
میقات سے بغیر احرام تجاوز کیا اور میقات پر واپس آکر احرام نہیں باندھا اور سال بھی گزر گیا، تو اب حج یا عمرہ میں سے کوئی ایک لازم ہونے والی عبادت کی ادائیگی اور سقوطِ دم کے لئے تعیینِ نیت ضروری ہے، اس کے بغیر دم اور عبادت ذمے سے ساقط نہیں ہوں گے، جیسا کہ لباب المناسک اور شرح مناسک میں ہے: ”(ولو لم یحرم من عامہ) ای لذلک النسک (لم یسقط) ای ما لزمہ (الا ان ینوی عما لزمہ) ای خصوصاً (بالدخول) ای بسبب دخولہ (بغیر احرام) ای حینئذٍ “یعنی اگر اس لازم ہونے والے نسک کا احرام اس سال نہیں باندھا تو ساقط نہیں ہوا مگر یہ کہ جب وہ بالخصوص بغیر احرام کے داخل ہونے سے لازم ہونے والی عبادت کی نیت کر لے۔ (ایضاً، ص124)
البحر العمیق میں ہے: ’’واذا جاوز المحرم احد المواقیت علی الوجہ الذی ذکرنا و دخل مکۃ بغیر احرام فعلیہ حجۃ او عمرۃ قضاء ما علیہ و دم لترک الوقت لانہ لما حرمت علیہ المجاوزۃ بغیر احرام لزمہ ما یلزمہ بالاحرام وذالک حجۃ او عمرۃ، فاذا فات یجب القضاء، ویجب الدم لترک الوقت فلو دخل مکۃ بغیر احرام حتیٰ وجب علیہ احد النسکین۔۔۔ ولو لم یرجع الی المیقات حتیٰ اقبلت سنۃ اخریٰ فاحرم قاضیا عما لزمہ فی احد النسکین صح و الدم باق کذا فی شرح المجمع الا ان یکون احرم بھذہ الحجۃ من المیقات فیسقط عنہ الدم کذا فی شرح رضی الدین‘‘
یعنی جب کوئی شخص ہماری بتائی گئی تفصیل کے مطابق اس کے لئے متعینہ میقات سے بغیر احرام کے گزر جائے اور مکہ مکرمہ چلا جائے تو اس پر بطورِ قضاء ایک حج یا عمرہ لازم ہے اور (بغیر احرام کے) میقات چھوڑنے کی وجہ سے ایک دم لازم ہے کیونکہ جب اُس پر بغیر احرام کے میقات سے گزرنا حرام تھا تو احرام باندھنے سے لازم ہونے والی کوئی ایک عبادت یعنی حج یا عمرہ اس پر لازم ہو گیا۔ جب اس نے حج یا عمرہ کا موقع گنوا دیا تو اس کی قضاء واجب ہوگی اور (بغیر احرام کے) میقات چھوڑنے کی وجہ سے ایک دم واجب ہوگا لہذا اگر بغیر احرام کے مکہ مکرمہ گیا یہاں تک کہ اس پر حج یا عمرہ میں سے کوئی ایک عبادت لازم ہو گئی۔ اور اگر وہ میقات پر واپس نہیں آیا یہاں تک کہ اگلا سال آگیا اور حج یا عمرہ کوئی ایک عبادت جو اس پر لازم ہوئی تھی اس کی قضاء کی نیت سے اس نے میقات کے اندر سے ہی احرام باندھا (یعنی حل یا حرم سے ہی احرام باندھ لیا) تو صحیح ہے (یعنی وہ عبادت ذمہ سے ساقط ہوگئی) لیکن دم باقی رہے گا جیسا کہ شرح مجمع میں ہے ہاں اگر اسی خاص حج کا احرام میقات سے باندھا تو دم بھی ساقط ہو جائے گا جیسا کہ مبسوط رضوی میں ہے۔ (البحر العمیق فی مناسک المعتمر والحاج الی البیت العتیق، ص 622، مطبوعہ مؤسسۃ الریان بیروت، ملتقطاً)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1367ھ) ارشاد فرماتے ہیں: ”میقات کے باہر سے جو شخص آیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ کو گیا تو اگرچہ نہ حج کا ارادہ ہو، نہ عمرہ کا مگر حج یا عمرہ واجب ہو گیا پھر اگر میقات کو واپس نہ گیا، یہیں احرام باندھ لیا تو دم واجب ہے اور میقات کو واپس جاکر احرام باندھ کر آیا تو دم ساقط اور مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے جو اُس پر حج یا عمرہ واجب ہوا تھا اس کا احرام باندھا اور ادا کیا تو بری الذّمہ ہوگیا۔ یوہیں اگر حجۃ الاسلام یا نفل یا منّت کا عمرہ یا حج جو اُس پر تھا، اُس کا احرام باندھا اور اُسی سال ادا کیا جب بھی بری الذّمہ ہوگیا اور اگر اس سال ادا نہ کیا تو اس سے بری الذّمہ نہ ہوا، جو مکہ میں جانے سے واجب ہوا تھا۔“ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1191، مکتبہ المدینہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو الحسن رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13141
تاریخ اجراء: 12 جمادی الاولی 1445ھ / 27 نومبر2023 ء