logo logo
AI Search

احرام باندھنے کے بعد احرام کی چادریں تبدیل کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام باندھنے کے بعد غسل کرنا اور احرام تبدیل کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عمرے کا احرام پہن لیا اب مکہ شریف پہنچ کر غسل کر سکتے ہیں اور احرام تبدیل کر سکتے ہیں؟

جواب

حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھنے کے بعد کسی ضرورت، مثلاً نہانے یا اِحرام تبدیل کرنے وغیرہ کے لیے اِحرام کی چادریں اُتارنا، جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، نہ ہی اس سے مُحْرِمْ اِحرام سے باہر ہو جاتا ہے، بلکہ احرام سے باہر تب ہی ہوگا، جب عمرہ کے تمام مناسک ادا کر لینے کے بعد حلق یا تقصیر کروالے گا۔ (یا یہ کہ احصار والی صورت پائی جائے تو اس کے احکام پر عمل کر کے احرام سے باہر ہوگا)

البتہ! نہانے میں چند باتوں کا لحاظ ضروری ہے، احرام کے ممنوعات سے بچے، شیمپو استعمال نہ کرے، میل چھڑائے بغیر نہائے، اس طرح نہائے کہ کوئی بال نہ ٹوٹنے پائے وغیرہ۔

تنبیہ: عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اِحرام کی چادر پہننے کو حالتِ احرام کہتے ہیں، اِسی لیے وہ چادر تبدیل کرنے یا اُتارنے پر بھی سوچ میں پڑتے ہیں کہ کہیں اِحرام نہ کُھل جائے، یہ غلط فہمی مسائل سے آگاہی نہ ہونے کی بنا پر ہے، احرام دراصل ایک حالت کا نام ہے، جس کا دار و مدار نیت اور تلبیہ کہنے پر ہے اور مرد کے لیے غیر سِلا لباس پہننا یا احرام کی چادر باندھنا، ان پابندیوں میں سےایک پابندی ہے، صرف چادر کا نام حالتِ احرام نہیں ہے، لہٰذا نہانے کے لیے اِحرام کی چادریں اتارنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔

چنانچہ اِحرام باندھنے کے بعد محرم ہونے کی حالت میں نہانا خود نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ اور آپ کے اَصحابِ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عملِ مبارک سے ثابت ہے اور یہ بات واضح ہے کہ نہانے کے لیے لباس اُتارا جاتا ہے، لہٰذا اشارۃً ان روایات سے بھی معلوم ہوا کہ اِحرام کا لباس اتارا جا سکتا ہے۔

ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں: ”و لا بأس بأن يحتجم المحرم، و يدخل الحمام ۔۔۔۔ و يغتسل … و أما الاغتسال فلما روي أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم اغتسل و هو محرم“ ترجمہ: اور محرم کے پچھنے لگانے، حمام میں داخل ہونے اور غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں، … بہرحال غسل کرنا اس لیے جائز ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے احرام کی حالت میں غسل فرمایا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الحج، فصل تطییب المحرم، جلد 2، صفحہ 191، مطبوعہ: دار الکتب العلمیۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2113
تاریخ اجراء: 07 ربیع الثانی 1445ھ / 23 اکتوبر 2023ء