احرام کی حالت میں سجدے کے دوران چہرے پر کپڑا لگنے کا حکم
احرام کی حالت میں سجدے میں چہرے پر کپڑا لگ جائے، تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ احرام کی حالت میں نماز میں سجدہ کی ادائیگی کے دوران اگر لیڈیز کا اسکارف، یا دوپٹہ منہ پر لگ جائے تو کیا معاملہ ہوگا؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ایسی صورت میں اگر اُس اسکارف یا دوپٹے سے مُحرِم کا پورا چہرہ، یا چہرے کا کم از کم چوتھائی حصہ چھپ جائے، تو اگرچہ یہ چھپنا ایک لمحے کے لیے ہی ہو، مُحرِم پر اِس کی وجہ سے کفارے میں ایک صدقہ فطر لازم ہوگا۔ ہاں اگر مُحرِم کے چہرے کا چوتھائی سے بھی کم حصہ چھپا ہو، تو اب اس صورت میں مُحرِم پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ پھر چونکہ اس طرح نماز کے دوران اسکارف یا دوپٹے سے چہرہ چھپنے میں مُحرِم کا اپنا کوئی قصد و ارادہ نہیں، لہذا بہرصورت اس میں گناہ نہیں۔ نیز چہرہ چھپنے کی جس صورت میں مُحرِم پر صدقہ لازم ہو، تو اس میں صدقہ کی ادائیگی حرم میں کرنا ضروری نہیں، بلکہ اپنے ملک میں کسی شرعی فقیر کو بھی صدقہ دیا جاسکتا ہے، مگر مکہ پاک کے شرعی فقیر کو صدقہ دینا افضل ہے۔
حالت احرام میں سر، یا چہرے کے چھپ جانے کے متعلق لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے:
(و لو غطی جمیع رأسہ أو وجھہ بمخیط أو غیرہ یوما أو لیلۃ فعلیہ دم و فی الأقل من یوم) و کذا من لیلۃ (صدقۃ و الربع منھما کالکل)
ترجمہ: اگر محرم نے اپنا پورا سر، یا چہرہ سلے ہوئے کپڑے یا اس کے علاوہ سے ایک دن یا ایک رات چھپایا تو اس پر دم لازم ہے اور ایک دن یا ایک رات سے کم چھپایا تو صدقہ لازم ہے اور چوتھائی سر اور چہرہ پورے سر اور چہرے کی طرح ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب الجنایات، صفحہ 435، مطبوعہ مکۃ المکرمہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں ارشاد فرماتے ہیں: ”مرد یا عورت نے مونھ کی ٹکلی ساری یا چہارم چھپائی، یا مرد نے پورا یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یا زیادہ لگاتار چھپانے میں دَم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1169، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
جنایت کے وقوع میں جب مُحرم کا قصد و ارادہ نہ ہو تو مُحرم گنہگار نہیں ہوگا، چنانچہ لباب المناسک میں ہے:
المحرم اذا جنی بغیر عمد أو بعذر فعلیہ الجزاء دون الاثم
ترجمہ: جب محرم بغیر قصد کے یا کسی عذر کی وجہ سے جنایت کرے تو اس پر کفارہ لازم ہوگا، (مگر) گناہ نہیں ہوگا۔(لباب المناسک مع شرحہ، باب الجنایات، صفحہ 422، مطبوعہ مکۃ المکرمہ)
صدقہ کی ادائیگی حرم میں ضروری نہیں، اپنے شہر کے شرعی فقیر کو بھی دے سکتے ہیں، مگر مکہ پاک کے شرعی فقیر کو دینا افضل ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع درِ مختار ورد المحتارمیں ہے:
و بین القوسین عبارۃ رد المحتار: تصدق بنصف صاع من بر كالفطرة۔۔۔ أين شاء (أي في غير الحرم أو فيه و لو على غير أهله لإطلاق النص، بخلاف الذبح و التصدق على فقراء مكة أفضل)
ترجمہ: صدقۂ فطر کی طرح آدھا صاع گندم صدقہ کرے، جہاں چاہے یعنی حرم کے علاوہ یا حرم میں، اگرچہ حرم کے فقیر کے علاوہ کسی دوسرے فقیر پر کیونکہ اس بارے میں نص مطلق ہے، برخلاف جانور ذبح کرنے کے۔ اور مکہ مکرمہ کے فقیروں پر صدقہ کرنا افضل ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار و رد المحتار، جلد 3 ، صفحہ 671 - 672، مطبوعہ کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-490
تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام1446ھ / 29 جولائی 2024ء