logo logo
AI Search

کن دنوں میں عمرہ کرنا جائز نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کن دنوں میں عمرہ نہیں کر سکتے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا پورے سال میں کسی بھی دن عمرہ کر سکتے ہیں یا کسی دن اس کی ممانعت بھی ہے؟ سائل: محمد عابد (ممتاز آباد، ملتان)

جواب

سال کے کن دنوں میں عمرہ کرنا، جائز ہے اور کن دنوں میں نہیں، اس اعتبار سے اس مسئلہ کی تین صورتیں بنتی ہیں:

 (1) نو ذوالحجہ سے لیکر تیرہ ذوالحجہ تک پانچ دنوں میں آفاقی، مکی اور جو مکی کے حکم میں ہے یعنی میقات کے اندر رہنے والا ہے، ان سب کے لیے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرنا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز و گناہ ہے، ہاں اگر نو ذوالحجہ سے پہلے عمرے کا احرام باندھا ہو تو آفاقی کے لیے مطلقا جبکہ جو میقات کے اندر کے رہائشی ہیں چاہے وہ مکہ کے رہائشی ہیں یا مکہ سے باہر کے، ان کے لیے اس سال حج کا ارادہ نہ ہونے کی صورت میں ان پانچ دنوں میں عمرہ کرنا بلا کراہت جائز ہے، اگرچہ مستحب یہ ہے کہ ان پانچ دنوں کو گزار کر عمرہ کریں اور اگر مکی اور جو مکی کے حکم میں ہے ان کا اس سال حج کا ارادہ ہو، تو ان پانچ دنوں میں عمرہ کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

 (2) اشہر حج یعنی یکم شوال سے آٹھ ذو الحجہ تک کے دنوں میں آفاقی کے لیے مطلقا عمرہ کرنا بلا کراہت جائز ہے، جبکہ جو میقات کے اندر کے رہائشی ہیں چاہے وہ مکہ کے رہائشی ہیں یا مکہ سے باہر کے، ان کے لیے تفصیل ہے وہ یہ کہ اگر اس سال وہ حج کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کے لیے اس سال ان دنوں میں عمرہ کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر اس سال وہ حج کا ارادہ نہیں رکھتے، تو ان دنوں میں ان کے لیے بھی عمرہ کرنا بلا کراہت جائز ہے۔

(3) بقیہ سال میں آفاقی، مکی اور جو مکی کے حکم میں ہے ان سب کے لیے عمرہ کرنا بلا کراہت جائز ہے۔

لباب المناسک و مسلک المتقسط میں ہے: "وقت العمرة (السنة) أي أيامها (كلها وقت لها) أي لجوازها (إلا أنه یکره تحريماً إنشاء إحرامها في الأيام الخمسة وان اداھا باحرام سابق لا باس ویستحب ان یوخر) ای اداءھا (حتی تمضی الایام) الخمسۃ (ويكره فعلها في أشهر الحج لأهل مكة ومن بمعناهم) أي من المقيمين، من في داخل الميقات لأن الغالب عليهم أن يحجوا في سنتهم، وإلا فلا منع للمكي عن العمرة المفردة في أشهر الحج إذا لم يحج في تلك السنۃ ومن خالف فعليه البيان وإتيان البرهان۔" سال کے تمام ایام میں عمرہ کرنا جائز ہے مگر پانچ دن عمرے کا احرام باندھنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر سابقہ احرام کے ساتھ ان دنوں میں عمرہ کیا تو حرج نہیں، البتہ مستحب یہ ہے کہ ان پانچ دنوں کو گزار کر عمرہ کرے۔ اہل مکہ اور جو ان کے معنی میں ہیں یعنی مکہ میں رہنے والے اور میقات کے اندر رہنے والے، ان سب کے لئے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ غالب یہی ہے کہ یہ اسی سال حج بھی کریں گے، وگرنہ تو مکی اگر اسی سال حج نہ کرے تو حج کے مہینوں میں صرف عمرہ کرنا اس کے لئے ممنوع نہیں اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو تو اس پر دلیل سے بیان کرنا لازم ہے۔ ملخصا۔ (لباب المناسک و مسلک المتقسط، ص 510، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ، بیروت)

تنویر الابصار ودر مختار میں ہے: "(وجازت في كل السنة وكرهت) تحريما (يوم عرفة وأربعة بعدها) أي كره إنشاؤها بالإحرام لا أداؤها فيها بالإحرام السابق" پورا سال عمرہ کرنا شرعا جائز ہے، البتہ عرفہ والے دن اور اس کے بعد چار دن عمرہ کرنا مکروہ تحریمی ہے یعنی ان دنوں میں عمرے کا احرام باندھنا مکروہ ہے، سابقہ احرام کے ساتھ ان دنوں میں عمرہ کرنا مکروہ نہیں۔ ملخصا۔ (تنویر الابصار ودر مختار، ج 3، ص 546 تا 547، مطبوعہ: کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے: "(قوله تحريما) صرح به في الفتح واللباب (قوله وأربعة) يزاد على الأيام الخمسة ما في اللباب وغيره من كراهة فعلها في أشهر الحج لأهل مكة، ومن بمعناهم أي من المقيمين، ومن في داخل الميقات لأن الغالب عليهم أن يحجوا في سنتهم وإلا فلا منع للمكي عن العمرة المفردة في أشهر الحج، إذا لم يحج في تلك السنة، ومن خالف فعليه البيان شرح اللباب، ومثله في البحر" شارح علیہ الرحمہ کا قول: (مکروہ تحریمی ہے) اسی کی فتح القدیر اور لباب المناسک میں تصریح کی گئی ہے۔ مصنف علیہ الرحمہ کا قول: (اور چار دن) ان پانچ دنوں پر اس کا اضافہ کیا جائے گا جو لباب وغیرہ کتابوں میں ہے کہ اہل مکہ اور جو ان کے ساتھ لاحق ہیں یعنی مکہ میں رہنے والے اور میقات کی حدود کے اندر رہنے والے ان کے لیے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ غالب یہی ہے کہ یہ اسی سال حج بھی کریں گے وگرنہ تو مکی اگر اسی سال حج نہ کرے تو حج کے مہینوں میں صرف عمرہ کرنا اس کے لئے ممنوع نہیں اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو تو اس پر دلیل سے بیان کرنا لازم ہے۔ اسی طرح بحرمیں ہے۔ملخصا۔ (رد المحتار مع تنویر الابصار ودر مختار، ج 3، ص 547، مطبوعہ: کوئٹہ)

حياة القلوب فی زیارة المحبوب میں مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: "و اما زمان احرام عمره پس اگر مقیم غیر مکی است زمان عمره او تمام سال است الا ایام خمسه اعنی روز عرفه و روز عید نحو و سه روز تشریق بعد از روز نحر که ابتداء احرام عمره درین هر پنج روز مکروه است تحریما نیز پس ا کر ادا کرد عمرہ را در این ایام باحرام سابق لا باس بہ است و مستحب است کہ تاخیر نماید اداء عمرہ را تا مضی ایام تشریق در این صورت نیز و اما اکر معتمر مكى است حقيقۃً يا حكماً اما حقيقۃً پس ظاهر است و اما حكماً پس آنکہ داخل مواقیت خمسہ است آن هم در حكم مكى است۔ پس جائز است هر ایشان را عمرہ کردن در غیر اشهر حج مطلقا و مكروه ست ایشان را عمرہ کرد در اشهر حج چون قصد داشتہ باشند اداء حج را درا ین سال اما اکر قصد حج در این سال ندارند جائز باشد عمره در حق ایشان در اشهر حج چنانکه در حق غیر ایشان"

اور رہا عمرہ کا زمانہ تو اگر وہ مکے کا رہنے والا نہیں ہے تو اس کے لیے عمرہ کا زمانہ سارا سال ہے سوائے پانچ ایام یعنی 10، 11، 12، 9 اور 13 ذو الحجہ کے، کہ ان ایام میں عمرہ کے احرام کی ابتداء کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ پس اگر وہ اپنے سابقہ احرام کے ساتھ انہی ایام میں عمرہ ادا کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس صورت میں بھی مستحب یہ ہے کہ ایام تشریق گزرنے تک عمرہ کی ادائیگی میں تاخیر کرے۔ عمرہ کرنے والا اگر مکی ہے حقیقی یا حکماً۔ حقیقی مکی تو ظاہر ہے مگر حکماً تو وہ لوگ ہیں جو مواقیت خمسہ کے اندر والے ہیں، وہ مکی کے حکم میں ہیں۔ پس اُن کو غیر اشہر حج میں مطلقا (عمرہ کرنا) جائز ہے اور اگر یہ لوگ اُسی سال حج کرنے کا قصد رکھتے ہوں تو اُن کو اشہر حج میں عمرہ کرنا مکروہ ہے اور اگر اسی سال حج کا قصد نہیں رکھتے تو ان کے حق میں اشہر حج میں عمرہ کرنا جائز ہے جیسا کہ ان کے غیر کے حق میں۔ملخصا۔ (حياة القلوب في زيارة المحبوب، ص 19، مخطوطه)

مذکورہ بالا جزئیات میں مکہ اور میقات کے اندر رہنے والوں کے لیے اس سال حج کے مہینوں میں جس سال وہ حج کا ارادہ رکھتے ہیں عمرہ کرنے کو اگرچہ مطلق مکروہ فرمایا گیا ہے مکروہ تحریمی کی صراحت نہیں کی گئی، لیکن یہاں مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہی ہے۔ اس لیے کہ دیگر معتمد جزئیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مکہ میں رہنے والے جس سال حج کا ارادہ رکھتے ہوں اس سال حج کے مہینوں میں ان کے لیے عمرہ کرنا گناہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اوپر بیان کردہ جزئیا ت میں مکروہ تنزیہی ہرگز مراد نہیں ورنہ گناہ کا حکم نہ دیا جاتا کیونکہ مکروہ تنزیہی گناہ نہیں ہوتا۔

چنانچہ بحر الرائق میں ہے: "فالحاصل أن المكي إذا أحرم بعمرة في أشهر الحج فإن كان من نيته الحج من عامه فإنه يكون آثما؛ وإن لم يكن من نيته الحج من عامه ولم يحج فإنه لا يكون آثما بالاعتمار في أشهر الحج؛ لأنهم وغيرهم سواء في رخصة الاعتمار في أشهر الحج" پس حاصل یہ ہے کہ مکی جب حج کے مہینوں میں عمرے کا احرام باندھے تو اگر اسی سال اس کی حج کرنے کی نیت بھی ہو تو وہ گنہگار ہوگا اور اگر اس کی اسی سال حج کرنے کی نیت نہ ہو اور نہ وہ حج کرے، تو حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار نہیں ہوگا کیونکہ مکی اور غیر مکی، دونوں کے لیے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی یکساں رخصت ہے۔ (بحر الرائق، ج 2، ص 641، مطبوعہ: کوئٹہ)

یونہی بدائع الصنائع میں مکہ اور میقات کے اندر رہنے والوں کے متعلق فرمایا گیا: "العمرة في أشهر الحج في حقهم معصية" مکہ اور میقات کے اندر رہنے والوں کے لیے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا معصیت ہے۔ (بدائع الصنائع، ج 3، ص 182، مطبوعہ: کوئٹہ)

مکروہِ تنزیہی کا ارتکاب گناہ نہیں۔ جیسا کہ سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: "لا اثم فی المکروہ تنزیھا۔ لان مرجعہ الٰی خلاف الاولٰی" مکروہِ تنزیہی میں کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف خلافِ اولٰی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 9، ص 449، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: mul-1382
تاریخ اجراء: 19 ذو القعدۃ الحرام 1446ھ / 17 مئی 2025ء