احرام کی حالت میں نیند کے دوران منہ چھپ جانے کا شرعی حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام والے کا نیند میں منہ چھپ گیا تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
احرام کی حالت میں نیند کے دوران اگر پورا منہ چادر سے تقریباً 30 منٹ تک چھپا رہا، تو کیا حکم عائد ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں کفارے میں ایک صدقہ فطر دینا لازم ہے، جو حدودِ حرم میں بھی ادا کر سکتے ہیں اور بیرونِ حرم بھی، البتہ حرم میں دینا افضل ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے: مرد سارا سر یا چہارم یا مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم چار پہر یازیادہ لگاتار چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہرتک یا زیادہ لگاتار چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہر تک یا چار سے کم اگر چہ سارا سریا منہ توصدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تک چھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 758، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1585
تاریخ اجراء: 29 رمضان المبارک 1444ھ / 20 اپریل 2023ء