بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی اسلامی بہن مدینےشریف سے واپس مکہ شریف آئیں اور عمرہ نہ کر پائیں تو کیا حکم ہو گا؟ ان کے پاؤں میں تکلیف بہت زیادہ تھی تو انہوں نے عمرے کی نیت ہی نہیں کی، یہ سوچ کر کہ اگر نہ کر پائیں تو گنہگار ہوں گی؟ اب ان کیلئے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں خاتون پرمدینہ شریف سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے میقات سے احرام باندھنا لازم تھا ،کیونکہ میقات کے باہر سے آنے والا جب مکہ مکرمہ یا حدود حرم میں جانے کا ارادہ کرے، تو اُس کےلئے حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کا احرام میقات سے باندھنا اور اس کی ادائیگی کرنا واجب ہوتا ہے۔ پاؤں میں اگر ایسا شدید درد تھا کہ پیدل طواف و سعی کرنے پر قدرت نہیں تھی تو سواری پر کرنے کی اجازت تھی۔ بہرحال اب جبکہ وہ خاتون میقات سے بغیر احرام کی نیت کے گزرگئیں،تو دم لازم ہوگیا اور حج یا عمرہ بھی واجب ہوچکا جس کی ادائیگی کے بغیر برئ الذمہ نہیں ہوا جاسکتا۔
اب دم کے ساقط ہونے اور اَحَدُ النُّسُکَین (حج یا عمرہ) کی ادائیگی سے سُبکدوشی کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ
(1) اگر وہ خاتون اُسی اسلامی سال کے اندر اندر کسی قریبی میقات پر جاکر کسی بھی حج (یعنی فرض، قضا، منت یا نفل حج کا احرام) یا کسی بھی عمرے (یعنی قضا، منت یا نفل عمرے) کا احرام باندھ کر تلبیہ کہہ لیں اور حج یا عمرہ ادا کرلیں، چاہے یوں کہ ابھی مکہ پاک ہی میں ہوں اور دوبارہ کسی قریبی میقات پر لوٹ جائیں ،یا یوں کہ وہ خاتون مکہ پاک ہی کی رہائشی ہوں اور اُسی اسلا می سال میں کسی میقات سے نیت کرکے حج یا عمرہ اداکرلیں، یاچاہے یوں کہ وہ خاتون اپنے وطن واپس آچکی ہوں مگر پھر اُسی سال حج یا عمرے کی نیت سے مکہ پاک حاضر ہوجائیں، تو ان سب صورتوں میں بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے سبب دم اور حج یا عمرہ جو ان پر لازم ہوا تھا، دونوں ہی اُن کے ذمے سے ساقط ہوجائیں گے،کیونکہ مقصود حرم پاک کی تعظیم کا حصول ہے اور وہ مذکورہ ہرایک نیت کے ضمن میں حاصل ہوجائے گا۔ نیز بہرصورت پہلے جان بوجھ کر میقات سے بغیر احرام گزرنے کی وجہ سےگنہگار بھی ہوئیں جس سے توبہ کرنا ضروری ہوگا۔
(2) اگر وہ خاتون اُسی اسلامی سال کے اندر اندر میقات سے احرام کی نیت نہ کریں اور سال گزرجائے، تو اب چاہے وہ مکہ پاک ہی میں ہوں، یا وطن واپس آچکی ہوں، بہر صورت دم کے ساقط ہونے اور اَحَدُ النُّسُکَین کی ادائیگی کیلئے خاص اُس واجب ہونے والے اَحَدُ النُّسُکَین میں سے کسی ایک کی متعینہ نیت سے ہی میقات پر احرام باندھنا ضروری ہوگا، یعنی خاص اس نیت سے احرام باندھنا ہوگا کہ مجھ پر بغیر احرام کے میقات سے گزرنے پرجو حج یا عمرہ لازم ہوا تھا، میں اس واجب ہونے والے حج یا عمرہ کی نیت کرتی ہوں، ورنہ مطلق حج یا عمرے کی نیت سے دم ساقط نہیں ہوگا اور جو نُسک لازم ہوا تھا وہ بھی ادا نہیں ہوگا۔
حرم مکہ داخل ہونے والے کے لیے میقات سےعمرہ یاحج کے احرام کی نیت واجب ہے، چنانچہ لباب المناسک میں ہے:
و حکمھا وجوب الاحرام منھا لاحد النسکین وتحریم تاخیرہ عنھا لمن اراد دخول مکۃ أو الحرم وان کان لقصد التجارۃأو غیرھا... و وجوب احد النسکین
ترجمہ: میقات کا حکم یہ ہے کہ جو شخص مکہ یا حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے اگرچہ اس کا وہاں جانا تجارت یا کسی اور وجہ کیلئے ہو، اُس کیلئے عمرہ یا حج میں سے کسی ایک کا احرام میقات سے باندھنا واجب ہے اور (جان بوجھ کر) احرام کو میقات سے مؤخر کرنا، حرام ہے۔ اور (میقات کے حکم میں سے یہ بھی ہے کہ اس پر) حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کی ادائیگی واجب ہے۔ (لباب المناسک، فصل فی مواقیت - الصنف الاول، صفحہ 113، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
میقات سے بغیر احرام گزرنے والا اگر اُسی سال میقات واپس لوٹ گیا اور احرام باندھ لیا، تو اگرچہ خاص اس کی نیت نہیں کی، پھر بھی دم ساقط اور لازم ہونے والا نسک ادا ہوجائے گا، اور اگر اُسی سال واپس نہیں لوٹا، تو خاص اس کی نیت کے بغیر ساقط نہیں ہوگا، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار اور لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے:
و اللفظ للباب: (و من دخل) أی من اھل الآفاق (مکۃ) أو الحرم (بغیر احرام فعلیہ احد النسکین) أی من الحج أو العمرۃوکذا علیہ دم المجاوزۃأو العود (فان عاد الی میقات من عامہ فأحرم بحج فرض) أی اداء (أو قضاء أو نذر، أو عمرۃ نذر أو قضاء) و کذا عمرۃ سنۃ أو مستحبۃ (سقط به) أی بتلبسہ بالاحرام من الوقت (ما لزمه بالدخول من النسك) أی الغیر المتعین (و دم المجاوزة، و ان لم ينو) أی بالاحرام (عما لزمه) أی بالخصوص، لأن المقصود تحصیل تعظیم البقعۃ و ھو حاصل فی ضمن کل ماذکر،و ھذا استحسان و القیاس أن لا یسقط ولا یجوز الا ان ینوی ما وجب علیہ للدخول،و ھو قول زفر کما لو تحولت السنۃ فانہ لا یجزیہ بالاتفاق عما لزمہ الا بتعیین النیۃ ۔۔۔ (و ان لم یعد الی وقت) أی بل احرم بعد المجاوزۃ (لم یسقط الدم، و لو لم يحرم من عامه) أی لذلک النسک (لم یسقط) أی ما لزمہ (الا ان ینوی عما لزمہ) أی خصوصا (بالدخول) أی بسبب دخولہ ( بغیر احرام)
ترجمہ:اور آفاق سے جو شخص مکہ یا حرم میں بغیر احرام داخل ہوا تو اس پر حج یا عمرہ میں کسی ایک کی ادائیگی لازم ہے اور اسی طرح بغیر احرام میقات سے گزرنے کا دم لازم ہے یا میقات واپس لوٹنا لازم ہے پھر اگر وہ اسی سال میقات واپس لوٹ گیا اور فرض حج یعنی ادا، یاقضاء یامنت کے حج کا احرام باندھا، یا منت کے عمرے یا قضاعمرے کا احرام باندھا اوراسی طرح سنت یا مستحب عمرے کا احرام باندھا، تو میقات سے احرام پہننے کے سبب بغیر کسی تعیین کے حرم میں داخل ہونے سے جو نسک اس پر لازم ہوا تھا وہ بھی ساقط ہوجائے گا اور بغیر احرام میقات عبور کرنے کا دم بھی ساقط ہوجائے گا، اگرچہ اس نے بالخصوص لازم ہونے والے نسک کی نیت نہ کی ہو، کیونکہ مقصود جگہ کی تعظیم کا حصول ہے اور وہ ہر مذکور کے ضمن میں حاصل ہے، اور یہ استحساناً ہے اور قیاس کے مطابق حکم یہ ہے کہ دم ساقط نہیں ہوگا اور (دخولِ مکہ کے سبب لازم آنے والا حج یا عمرہ بغیر تعیین نیت کے) جائز نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ اس کی نیت کرے کہ جو اُس پر داخل ہونے کے سبب لازم ہوا، اور یہی امام زفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے جیساکہ اگر سال تبدیل ہوجائے تو دخولِ مکہ کے سبب لازم آنے والا حج یا عمرہ بالاتفاق ادا نہیں ہوتا مگر نیت کی تعیین کے ساتھ۔ اور اگر وہ میقات کی طرف نہ لوٹے بلکہ (بغیر احرام) میقات سے گزرنے کے بعد (جہاں ہے وہیں سے) احرام باندھ لے تو دم ساقط نہیں ہوگا۔ اور اگر اس لازم ہونے والے نسک کا احرام، اِس سال نہیں باندھا تو جو نسک لازم ہوا وہ ساقط نہیں ہوگا، مگر یہ کہ جب وہ بالخصوص بغیر احرام کے داخل ہونے پر لازم ہونے والے نسک کی نیت کرلے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، صفحہ 123، 124، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
اُسی سال بغیر نیت اور اگلے سال اس کی خاص نیت سے ادا ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار علی الدر المختار میں لکھتے ہیں:
(قوله في عامه ذلك إلخ) أي عام الدخول قال في الهداية لأنه تلافى المتروك في وقته لأن الواجب عليه تعظيم هذه البقعة بالإحرام۔۔۔ بخلاف ما إذا تحولت السنة لأنه صار دينا في ذمته فلا يتأدى إلا بإحرام مقصود كما في الاعتكاف المنذور، فإنه يتأدى بصوم رمضان في هذه السنة دون العام الثاني
ترجمہ: یعنی بغیر احرام کے داخل ہونے والے سال میں۔ہدایہ میں فرمایاکیونکہ اس نے چھوڑے ہوئے واجب کی اس کے وقت میں تلافی کی،کیونکہ اس احرام کے ساتھ اس مبارک جگہ (حرم کعبہ)کی تعظیم واجب تھی۔ برخلاف اس کے کہ جب سال بدل جائے( تو ایسا نہیں ہو سکتا)، کیونکہ پھر وہ اس کے ذمہ ایک ’’قرض‘‘ بن جاتا ہے، تو وہ اسی احرام کے ساتھ ادا ہوگا جس میں اس کی ادائیگی کا ارادہ کیا جائے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے نذر کا اعتکاف کہ وہ رمضان کے روزوں کے ساتھ اسی سال ادا ہو سکتا ہے، مگر اگلے سال نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 712،دار المعرفۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: میقات کے باہر سے جو شخص آیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ کو گیا تو اگرچہ نہ حج کا ارادہ ہو، نہ عمرہ کا مگر حج یا عمرہ واجب ہو گیا پھر اگر میقات کو واپس نہ گیا، یہیں احرام باندھ لیا تو دَم واجب ہے اور میقات کو واپس جاکر احرام باندھ کر آیا تو دَم ساقط اور مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے جو اُس پر حج یا عمرہ واجب ہوا تھا اس کا احرام باندھا اور ادا کیا تو بری الذّمہ ہوگیا۔ یوہیں اگر حجۃ الاسلام یا نفل یا منّت کا عمرہ یا حج جو اُس پر تھا، اُس کا احرام باندھا اور اُسی سال ادا کیا جب بھی بری الذّمہ ہوگیا اور اگر اس سال ادانہ کیا تو اس سے بری الذّمہ نہ ہوا جو مکہ میں جانے سے واجب ہوا تھا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1191، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-998
تاریخ اجراء: 09 جمادی الاخری1447ھ/01 دسمبر 2025ء