logo logo
AI Search

حج و عمرہ کے بعد احرام کی چادر گھر میں استعمال کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج و عمرہ کے بعد احرام کی چادریں گھر میں استعمال کر سکتے ہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ حج یا عمرے سے فراغت کے بعد بعض افراد احرام کی چادریں مکہ مکرمہ یا منیٰ وغیرہ میں چھوڑ آتے ہیں جبکہ بعض افراد  کسی شرعی فقیر کو دیتے ہیں اور اپنے استعمال میں لانا خلافِ شرع سمجھتے ہیں، اس لئے پوچھنا تھا کہ کیا احرام کی چادریں مالک خود استعمال کرسکتا ہے مثلاً ان چادروں سے عمامہ، کُرتا، قمیص وغیرہ بنالے یا کفن کے لئے رکھ دے ؟

جواب

حج یا عمرے سے فراغت کے بعد احرام کی چادریں بدستور مالک ہی کی ملکیت میں رہتی ہیں، اور اصولِ شرع کے مطابق ہر شخص اپنی ملکیت میں جائز تصرف کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے، لہٰذا ان چادروں کو قمیص، کُرتے، عمامے یا کسی اور لباس کی صورت میں استعمال کرنا، یا انہیں بطورِ کفن محفوظ رکھنا جائز ہے، اس میں  نہ کسی قسم کا گناہ ہے اور نہ ہی یہ واجب ہے کہ وہ چادریں کسی مستحق یا شرعی فقیر کو دے دی جائیں۔ ہاں! احرام کی چادریں پھینک دینا شرعاً اسراف ہے اور اسراف ناجائز و حرام ہے، جن لوگوں نے اس طرح احرام کی چادریں پھینک کر ضائع کردی ہیں، ان پر لازم ہے کہ اس عمل سے سچی توبہ کریں اور آئندہ ایسے خلافِ شرع عمل سے اجتناب کریں۔

اپنے مملوکہ اموال میں ہر طرح کا جائز تصرف روا ہونے کے متعلق تبیین الحقائق میں ہے:

”اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا“

ترجمہ: جان لو کہ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی ملک میں جو چاہے تصرف کرے  جب تک کہ اس کا تصرف دوسرے کو واضح نقصان نہ پہنچائے۔ (تبیین الحقائق، جلد 04، صفحہ  196، طبع: القاهرة)

فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت  علیہ الرحمۃ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جب وہ اُسی کی مملوکہ ہے، تو نفسِ زمین میں اُسے ہر طرح کے تصرف مالکانہ کا اختیار ہے جسے چاہے دے سکتا ہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ  223، طبع: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اسراف کے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ”وَ لَا تُسْرِفُوْا اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ(141) “ترجمہ کنزالایمان: اور بے جا نہ خرچو بے شک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں۔ (القرآن الکریم، سورۃ الانعام، آیت141)

صحیح بخاری میں ہے:

”نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن اضاعۃ المال‘‘

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال ضائع کرنےسےمنع فرمایا۔ (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، جلد 2، صفحہ  112، طبع: دار طوق النجاۃ)

احیاء العلوم میں امام غزالی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:

”الإضاعة تفويت مال بلا فائدة يعتد بها كإحراق الثوب وتمزيقه وهدم البناء من غير غرض والقاء المال في البحر“

یعنی: مال کو ضائع کردینے سے مراد یہ ہے کہ کسی معتبر فائدے کے بغیر مال کو ہلاک کردینا، جیسے کپڑے کو جلا دینا اور پھاڑ دینا، بغیر کسی غرض کے عمارت کو گرا دینا، مال کو سمندر میں ڈال دینا۔ (احیاء علوم الدین، جلد  2، صفحہ  241، طبع:  بیروت)

اسراف کی وضاحت کرتے ہوئے فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے فرمایا: ”بالجملہ احاطہء کلمات سے روشن ہوا کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاک دورہ کرتے ہیں دوہیں، ایک مقصد معصیت، دوسرا بیکار اضاعت، اور حکم دونوں کامنع و کراہت۔

اس کے تحت حاشیہ میں ہے: ”مسئلہ: اسراف کہ ناجائز و گناہ ہے صرف دو صورتوں میں ہوتا ہے، ایک یہ کہ کسی گناہ میں صرف واستعمال کریں، دوسرا، بیکارمحض مال ضائع کریں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد  01، حصہ دوم، صفحہ  940، طبع: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0721
تاریخ اجراء: 23 شعبان المعظم 1447ھ/12 فروری 2026ء