logo logo
AI Search

عورت احرام میں چوڑیاں پہن کر عمرہ کر سکتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کا چوڑیاں پہن کر عمرہ ادا کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا عورت چوڑیاں پہن کر عمرہ کر سکتی ہے؟

جواب

عورت چوڑیاں پہن کر بھی عمرہ کر سکتی ہے، کہ احرام میں عورت کے لیے زیورات پہننے میں کوئی حرج نہیں۔

السنن الکبری للبیہقی میں ہے

عن صفية بنت شيبة, أنها قالت: كنت عند عائشة إذ جاءتها امرأة من نساء بني عبد الدار يقال لها تملك, فقالت لها يا أم المؤمنين إن ابنتي فلانة حلفت أن لا تلبس حليها في الموسم فقالت عائشة: قولي لها إن أم المؤمنين تقسم عليك إلا لبست حليك كله

ترجمہ: حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکے پاس تھی کہ بنی عبد الدار کی عورتوں میں سے ایک عورت آئی، جس کا نام تملک تھا، اس نے کہا: اے امّ المؤمنین! میری فلاں بیٹی نے قسم کھائی ہے کہ وہ موسم (حج) میں اپنے زیورات نہیں پہنے گی، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس سے کہہ دو کہ امّ المؤمنین تمہیں قسم دیتی ہیں کہ تم اپنے تمام زیورات ضرور پہنو۔ (السنن الکبریٰ للبیھقي، ج 5، ص 83، رقم: 9078، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

عن نافع، أن نساء عبد اللہ بن عمر وبناته كن يلبسن الحلي، و المعصفرات، و كن محرمات

ترجمہ: حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکی بیویاں اور ان کی بیٹیاں زیورات اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں، حالانکہ وہ احرام کی حالت میں ہوتی تھیں۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، ج 3، ص 143، رقم: 12875، مطبوعہ ریاض)

بدائع الصنائع میں ہے

و لا بأس لها أن تلبس الحرير والذهب، و تتحلى بأي حلية شاءت عند عامة العلماء، و عن عطاء أنه كره ذلك، و الصحيح قول العامة لما روي أن ابن عمر - رضي اللہ عنه - كان يلبس نساءه الذهب و الحرير في الإحرام؛ و لأن لبس هذه الأشياء من باب التزين و المحرم غير ممنوع من الزينة

ترجمہ: عورت کے لیے ریشم اور سونا پہننے میں کوئی حرج نہیں، جمہور علما کے نزدیک وہ جس قسم کا زیور چاہے پہن سکتی ہے، البتہ عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا اور صحیح جمہور کا قول ہے، اس لیے کہ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اپنی عورتوں کو حالت احرام میں سونا اور ریشم پہنایا کرتے تھے اور اس لیے بھی کہ یہ چیزیں زینت کے باب سے ہیں، اور مُحرِم کو زینت سے منع نہیں کیا گیا۔ (بدائع الصنائع، ج 2، ص 410، مطبوعہ کوئٹہ)

جوہرہ نیرہ میں ہے

و يجوز للمحرمة أن تلبس الحرير و الحلي كذا في الكرخي

ترجمہ: محرمہ کے لیے جائز ہے کہ وہ ریشم اور زیورات پہنے، ایسا ہی کرخی میں ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، ج 1، ص 152، المطبعة الخيرية)

احرام میں جو باتیں جائز ہیں انہیں شمار کرتے ہوئے بہار شریعت میں فرمایا: (۱۳) انگوٹھی پہننا۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1081، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4706
تاریخ اجراء: 13رجب المرجب1447ھ / 03 جنوری2026ء