بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کسی شخص نے مکمل طواف کندھے چھپے ہونے کی حالت میں کیا تو کیا اس کا طواف درست مانا جائے گا؟ کیا اس کی وجہ سے دم یا صدقہ وغیرہ کچھ لازم ہوتا ہے؟
اضطباع (طواف کے دوران دایاں کندھا کھلا رکھنا) صرف اسی طواف میں سنت ہے جو حالتِ احرام میں ادا کیا جائے اور جس کے بعد سعی بھی کی جائے، جیسے طوافِ عمرہ، چنانچہ ہر وہ طواف جس کے بعد سعی نہ ہو، اس میں اضطباع سنت نہیں۔
مزید یہ کہ جس طواف میں اضطباع سنت ہے، اس کے تمام پھیروں میں اضطباع کرنا سنت ہے۔ لہٰذا اگر کسی نے بلاعذر اس طواف کے بعض یا تمام پھیروں میں اضطباع چھوڑ دیا تو طواف تو ادا ہو جائے گا، مگر ایسا کرنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے اور عذر ہو تو اب مکروہ نہیں جبکہ دم یا صدقہ دونوں صورتوں میں لازم نہیں۔
اضطباع کس طواف میں سنت ہے اور کس میں نہیں؟ اس کے متعلق، البحر العمیق میں ہے:
الأصل ان کل طواف بعدہ سعی، فمن سنتہ الاضطباع
ترجمہ: قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو، تو اس کی سنتوں میں سے ایک سنت اضطباع ہے۔ (البحر العمیق، ج 02، ص 1165، مؤسسۃ الریان)
لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے:
(و ھو) أی الاضطباع (سنۃفی کل طواف بعدہ سعی) کطواف القدوم و العمرۃ و طواف الزیارۃ علی تقدیر تاخیر السعی و بفرض انہ لم یکن لابسا فلا ینافی ما قال فی البحر من انہ لا یسن فی طواف الزیارۃ، لانہ قد تحلل من احرامہ و لبس المخیط، و الاضطباع فی حال بقاء الاحرام
ترجمہ: اضطباع ہر اُس طواف میں سنت ہے جس کے بعد سعی ہو جیسے طوافِ قدوم، طوافِ عمرہ اور حج کی سعی میں تاخیر ہونےکی صورت میں طواف الزیارۃ، جبکہ وہ عام لباس میں نہ ہو، لہذا یہ اُس کے منافی نہیں جو بحر میں فرمایا کہ طواف الزیارۃ میں اضطباع سنت نہیں، کیونکہ اب حج کرنے والا احرام سے باہر آ گیا اور اُس نے سلا ہوا لباس پہن لیا، جبکہ اضطباع تواحرام کے باقی ہونے کی حالت میں ہوتا ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، ص 183،مکۃ المکرمۃ)
جس طواف میں اضطباع سنت ہے، اس کے تمام پھیروں میں اضطباع کرنا سنت ہے، رد المحتار میں شرح اللباب سے ہے:
و اعلم أن الاضطباع سنة في جميع أشواط الطواف كما صرح به ابن الضياء
ترجمہ: تم جان لو کہ اضطباع طواف کے تمام پھیروں میں سنت ہے، جیسا کہ ابن ضیاء نے صراحت کی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 02، ص 495،دار الفکر)
بہار شریعت میں ہے: طواف کے ساتوں پھیروں میں اِضطباع سنت ہے اور طواف کے بعد اِضطباع نہ کرے۔ (بھار شریعت، ج 1، ح 6، ص 1101، مکتبۃ المدینہ)
اس کے ترک سےدم اور صدقہ لازم نہ ہونے کے متعلق، درر شرح غرر میں ہے:
و لو ترك الاضطباع والرمل لا شيء عليه بالإجماع
اگر اضطباع اور رمل کو ترک کیا تو اس پر بالاجماع کچھ لازم نہیں۔ (درر الحکام، ج 01، ص 223،دار احیاء الکتب العربیۃ)
البتہ اس کا ترک مکروہ ضرور ہے، مخدوم ہاشم ٹھٹھوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
سنت است اضطباع در جمیع اشواط پس اگر ترک کرد او رادر بعض اشواط مکروہ باشد
ترجمہ: طواف کے تمام پھیروں میں اضطباع سنت ہے، پس اگر اسے بعض پھیروں میں ترک کردیا تو مکرو ہ ہے۔ (حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، ورق 37، مخطوط)
مذکورہ بالا عبارت کےتحت فتاوی حج و عمرہ میں ہے: اور یہاں کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہوگی کہ ترک سنت کی وجہ سے لازم آئی ہے اور مرتکب پر اساءت لازم آئے گی۔ (فتاوی حج و عمرہ، ج 05، ص 39، جمعیت اشاعت اہلسنت)
البتہ اگر عذر کی وجہ سے ترک کیا تو اساءت و کراہت بھی نہیں، چنانچہ اضطباع کی طرح طواف کی ایک دوسری سنت رمل کے متعلق خرانۃ الاکمل پھر بحر العمیق میں ہے:
و ھو من السنن المؤکدۃ حتی لو ترکہ یصیر مسیئا بترکہ لکن لا یلزمہ دم و لا صدقۃ و ھذا اذا ترکہ بغیر عذر، اما اذا ترکہ بعذر لا یکون مسیئاً
ترجمہ: رمل سنتِ مؤکدہ ہے،حتی کہ اگر اسے ترک کردے تو اساءت کا مرتکب ہوگا،لیکن اس پر دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا، یہ اس وقت ہے جبکہ بغیر کسی عذر کے ترک کرے، اگر کسی عذر کے سبب ترک کرتا ہے تو اساءت کا مرتکب نہیں۔ (خزانۃ الاکمل، ج 01، ص 335، دار الکتب العلمیۃ بیروت) (البحر العمیق، ج 02، ص 1160، مؤسسۃ الریان)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0689
تاریخ اجراء: 12 جمادی الاخری 1447ھ / 04 دسمبر 2025 ء