احرام کی حالت میں رومال سے چہرہ پونچھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی حالت میں سلے ہوئے رومال سے چہرہ پونچھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ احرام کی حالت میں سلے ہوئے رومال سے چہرہ پونچھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ پورا چہرہ نہیں ڈھکیں گے، بس اس سلے ہوئے رومال سے پونچھیں گے؟
جواب
رومال چاہے سلا ہوا ہو یا نہیں، بہر صورت احرام کی حالت میں اس کے ساتھ چہرہ پونچھنے کی اجازت نہیں؛ کہ اس سے چہرے کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور چھپتا ہے، اگرچہ تھوڑی دیرکے لیے ہی چھپے، جبکہ حرام کی حالت میں کپڑے سے تھوڑی دیر کے لیے بھی، چہرے کے کسی حصے کو چھپانا مکروہ و ممنوع ہے۔ پھررومال سےچہرہ پونچھنے میں چار پہر(12 گھنٹے) سے کم وقت کے لیے چہرہ چھپتا ہے، اور چار پہر سے کم، سارا چہرہ یا چہرے کا چوتھائی حصہ چھپا، توصدقہ ہے، اورچہرے کی چوتھائی سے کم حصہ، چار پہر سے کم چھپا، تو کفارہ کوئی نہیں، مگر گناہ ہے۔
در مختار میں ہے
”ولا بأس بتغطية أذنيه وقفاه ووضع يديه على أنفه بلا ثوب“
ترجمہ: حالتِ احرام میں کان اور گدی چھپانے میں کوئی حرج نہیں، یونہی کپڑے کے بغیر ناک پر ہاتھ رکھنے میں بھی حرج نہیں۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے
”(قوله بلا ثوب) كذا في الفتح والبحر. والظاهر أنه لو كان الوضع بالثوب ففيه الكراهة التحريمية فقط لأن الأنف لا يبلغ ربع الوجه أفاده ط“
ترجمہ: (مصنف کا قول: کپڑے کے بغیر) جیسا کہ فتح القدیر اور بحر میں ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ کپڑے کے ساتھ ہاتھ رکھنا فقط مکروہ تحریمی ہے کیونکہ ناک چہرے کا چوتھائی حصہ نہیں ہے، علامہ طحطاوی نے اسے بیان کیا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 3، ص 659، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں میں ہے "احرام میں یہ باتیں مکروہ ہیں:۔۔۔۔۔غلاف کعبہ معظمہ کے اندراس طرح داخل ہونا کہ غلاف شریف سر یا منہ سے لگے، ناک وغیرہ منہ کا کوئی حصّہ کپڑے سے چُھپائے۔" (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 733، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے ”کان اور گدی کے چھپانے میں حرج نہیں۔ یوہیں ناک پر خالی ہاتھ رکھنے میں اور اگر ہاتھ میں کپڑا ہے اور کپڑے سمیت ناک پر ہاتھ رکھا تو کفارہ نہیں مگر مکروہ و گناہ ہے۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1169، مکتبۃ المدینہ)
لباب المناسک میں ہے
”ولو غطی جمیع راسہ او وجھہ بمخیط او غیرہ یوما او لیلۃ فعلیہ دم وفی الاقل من یوم صدقۃ والربع منھما کالکل“
ترجمہ: محرم نے اپنا سر یا چہرہ پورا ایک دن یا پوری ایک رات سلے ہوئے کپڑے یا بغیر سلے سے چھپایا تو اس پر دم لازم ہے اور ایک دن سے کم وقت میں صدقہ ہے، اور سر یا چہرے کی چوتھائی، حکم میں کل کے برابر ہے۔ (لباب المناسک و شرحہ، ص 435، مطبوعہ: مکۃ المکرمہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم چار پہر یا زیادہ لگاتار چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہرتک یا زیادہ لگا تا ر چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہر تک یا چار سے کم اگر چہ سارا سریا منہ توصدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تک چھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 758، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہارشریعت میں ہے "مرد یا عورت نے مونھ کی ٹکلی ساری یا چہارم چھپائی یا مرد نے پورا یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یا زیادہ لگاتار چھپانے میں دَم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1169، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4761
تاریخ اجراء:03 رمضان المبارک 1447ھ/21 فروری 2026 ء