logo logo
AI Search

طواف کے چکر بھول گئے تو کیا کریں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طواف کی گنتی بھولنے پر وہی ایک چکر نئے سرے سے کرنا ہے یا پورا طواف ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

’’رفیق المعتمرین‘‘   کتاب میں ہے: ”اگر کوئی شخص دورانِ طواف پھیروں کی گنتی بھول جائے، تو اگر یہ طواف فرض یا واجب ہے، تو نئے سرے سے شروع کیا جائے۔ ملخصاً“ سوال یہ ہےکہ ”نئے سرے“ سے مکمل طواف شروع کرنا ہے یا محض وہ چکر نئے سرے سے لگایا جائے کہ جس کے متعلق شک ہوا ہے؟

جواب

’’رفیق المعتمرین‘‘ میں لکھے گئے جملے ”نئے سرے سے شروع کیجیے“ سے مراد مکمل طواف نئے سرے سے شروع کرنا نہیں ہے، بلکہ وہ چکر کہ جس کے متعلق شک ہوا ہے، اُسے دوبارہ کرنا، مراد ہے۔ مثلاً: کسی چکر کے دوسرے یا تیسرے ہونے میں شک ہوا ہے، تو اُسے دوسرا شمار کرے اور تیسرے کو نئے سرے سے کرے، یونہی چھٹا یا ساتواں ہونے میں شک ہوا، تو چھٹا شمار کرے اور ساتواں مزید کرے۔ مزید تفصیل کے لیے نیچے مطالعہ کیجیے۔

تفصیل: اگر طوافِ عمرہ ، طوافِ زیارت یا طوافِ وداع کرتے ہوئے چکروں کی تعداد میں شک ہو، تو اب کتنے چکر شمار کرنے ہیں، اِس کی دو صورتیں ہیں۔(1) اگر ایک یا دو عادل شخص بتانے والے ہوں کہ تمہارے اِتنے چکر ہوئے ہیں، تو ایک بتانے والے کی صورت میں اُس کی بات قبول کرنا مستحب اور دوخبر دینے والے ہوں تو بات ماننا واجب ہے۔ یوں اُن کی بات مان کر بقیہ چکر مکمل کیے جائیں گے۔

(2) اگر کوئی دوسرا خبر دینے والا نہیں ہے، بلکہ اپنی رائے پر چلنا ہے، تو ایسی صورت میں کم عدد کو شمار کیا جائے گا اوربقیہ چکر لگائے جائیں گے، مثلاً چکر لگاتے ہوئے شک ہوا کہ شاید تیسرا ہے یا چوتھا تو ایسی صورت میں کم عدد پر بنیاد رکھی جائے گی، اگرچہ غالب گمان یہی ہو کہ یہ چکر چوتھا ہے، یعنی اِس صورت میں گمانِ غالب پر بھی عمل نہیں کیا جائے گا۔

نوٹ: یاد رہے کہ مذکورہ بالا حکم شرعی طوافِ فرض اور واجب کے لیے ہے۔ طوافِ سنت  مثلاً طوافِ قدوم یا نفلی طواف کا حکم یہ نہیں۔

فرض یا واجب طواف کے چکروں میں شک ہو تو غالب گمان پر عمل نہیں ہوگا، بلکہ اقل پر بنیاد رکھی جائے گی اور مشکوک چکر کو دوبارہ لگایا جائے گا، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:

’’لوشک فی عددالأشواط في طواف الركن أعاده ولا يبني على غالب ظنه، بخلاف الصلاة۔۔۔۔ومفهومه أنه لو شك في أشواط غير الركن لا يعيده بل يبني على غلبة ظنه لأن غير الفرض على التوسعة والظاهر أن الواجب في حكم الركن لأنه فرض عملي‘‘

ترجمہ: اگر فرض طواف کے چکروں کی تعداد میں شک ہو جائے تو اُسے دوبارہ کرے اور اپنے غالب گمان پر بنیاد نہ رکھے۔ یہ حکم نماز کے برعکس ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فرض طواف کے علاوہ کسی دوسرے طواف کے چکروں کی تعداد میں شک ہو جائے تو اسے دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ غالب گمان پر بنیاد رکھی جائے گی، کیونکہ فرض کے علاوہ بقیہ امور یعنی نفل کی بنیاد وسعت اور آسانی پر ہوتی ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ واجب طواف کا حکم بھی فرض کی طرح ہے کیونکہ واجب ”فرض عملی“ ہوتا ہے۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد 07، کتاب الحج، صفحہ 62، مطبوعہ  دار الثقافۃ والتراث، دمشق)

اگر ایک یا دو عادل شخص چکروں کی تعداد بتانے والے ہوں تو اُن کی بات ماننے کے متعلق اِسی کتاب میں ہے:

’’ولو أخبره عدل بعدد يستحب أن يأخذ بقوله، ولو أخبره عدلان وجب العمل بقولهما‘‘

ترجمہ: اور اگر کوئی ایک عادل شخص اسے چکروں کی تعداد بتا دے تو مستحب ہے کہ اس کی بات مان لے اور اگر دو عادل افراد اسے بتائیں تو ان کی بات پر عمل کرنا لازم ہے۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد 07، کتاب الحج، صفحہ 62، مطبوعہ  دار الثقافۃ والتراث، دمشق)

علامہ شامی نے ”أعادہ“ لکھا، اِس پر بصورتِ تعلیق ”أعادہ“ کی مراد بیان کرتے ہوئے مفتی دیارِ مصر، شیخ عبدالقادِر رافعی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1323ھ/1905ء) لکھتے ہیں:

’’أي أعاد الشوط الذي شك فيه، وليس المراد أنه يعيد الطواف كله‘‘

ترجمہ: یعنی جس چکر میں شک ہوا اسے دوبارہ ادا کرے، یہاں مکمل طواف دوبارہ کرنا مراد نہیں۔ (تقریرات الرافعی مع ردالمحتار، جلد 07، کتاب الحج، صفحہ 62، مطبوعہ  دار الثقافۃ والتراث، دمشق)

نفل یا سنت طواف کا حکم فرض و واجب طواف سے الگ ہے، چنانچہ ”الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ“ میں ہے:

فصَّل الحنفية في الشك في عدد الأشواط بين طواف الفرض والواجب وغيره: أما طواف الفرض كالعمرة والزيارة والواجب كالوداع فقالوا: لو شك في عدد الأشواط فيه أعاده، ولا يبني على غالب ظنه۔۔۔أما غير طواف الفرض والواجب وهو النفل فإنه إذا شك فيه يتحرى، ويبني على غالب ظنه۔

حنفی فقہاءِ کرام نے طواف کے چکروں کی تعداد میں شک ہو جانے کے مسئلے میں فرض و واجب اور نفلی طواف کے درمیان فرق بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرض طواف مثلاً طواف عمرہ اور طوافِ زیارت یا واجب طواف مثلاً طوافِ وداع میں اگر چکروں کی تعداد میں شک ہو جائے تو اس مشکوک چکر کو دوبارہ کرے اور اپنے غالب گمان پر بنیاد نہیں رکھی جائے گی، البتہ نفل طواف میں اگر شک ہو جائے تو وہ تحری کرے اور اپنے غالب گمان پر عمل کرتے ہوئے طواف مکمل کر لے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، جلد29، صفحہ125، مطبوعہ وزارتِ اوقاف، کویت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9888
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم 1447ھ/30 مارچ 2026