اولاد میں برابری کن چیزوں میں ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اولاد کے درمیان کن چیزوں میں برابری ضروری ہے؟ ایک حدیث پاک کی شرح اور تفصیلی احکام
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ الجامع الصغير کی حدیث مبارک ہے، نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اتقوا اللہ و اعدلوا بين أولادكم كما تحبون أن يبروكم
ترجمہ: اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کن چیزوں میں اولاد کے درمیان برابری ضروری ہے؟ جیسے تحفہ تحائف، زندگی میں وراثت کی تقسیم، محبت و الفت وغیرہ۔ اور ان سب کا حکم کیا ہے؟
پھر بسا اوقات جیسے گھر میں ایک کیک کا ڈبہ آیا اور کوئی بچہ ساتھ رہتا ہے، کوئی دور رہتا ہے، اس میں تسویہ کیسے ہوگا؟ اگر نہ کیا، تو کیا حکم ہوگا؟ یا گھر ہی میں موجود بچوں میں کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دیا، تو کیا حکم ہوگا؟
جواب
بلاشبہ شریعت مطہرہ نے اولاد کے درمیان عدل و انصاف کا حکم ارشاد فرمایا ہے، اور اس کے خلاف سے منع فرمایا ہے۔ جیساکہ سوال میں ذکر کردہ حدیث پاک میں ہے، لیکن اس حکم میں بہت زیادہ وسعت ہے اور مختلف صورتیں ہیں جن کے مختلف احکام ہیں۔
کتب فقہیہ میں جزئیات کا تتبع کرنے کے بعد جو مسئلہ منقح ہو کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے:
(1) محبت و الفت تو عملِ قلب ہیں، جن پر کسی کا اختیار نہیں، لہٰذا محبت اولاد میں سے کسی ایک سےزیادہ ہوسکتی ہے، اس میں اولاد کے درمیان برابری ضروری نہیں، جیسے عمومی طور پر بڑے بیٹے کے مقابلے میں چھوٹے بیٹے یا بیٹی سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اور کبھی اس کا عکس ہوتا ہے۔ لیکن اس قلبی محبت کا اظہار تحفے تحائف، بوسہ دینے، زندگی میں وراثت تقسیم کرنے میں کسی کو زیادہ دینے یا دیگر کسی طریقے سے کیا جائے، تو اس کا حکم نیچے درج ذیل ہے۔
(2) تحفہ تحائف وغیرہ: ان میں اگر کسی کو مصلحتِ شرعیہ کے سبب زیادہ دیا جائے کہ وہ کسی دینی فضیلت میں زائد ہو، جیسے کوئی بچہ طلب علم میں مصروف ہے یا عالم دین ہے یا ماں باپ کا زیادہ خدمت گزار ہے یا غریب و حاجتمند ہے، اور اس کی غربت و حاجت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے (نہ کہ دوسرے بچے کی امیری کا لحاظ کرتے ہوئے) زیادہ دیا، تو حرج نہیں۔
(3) اگر تمام ہی اولاد طلب علم دین میں مصروف ہے یا سب ہی نیک ہیں، لیکن کسی میں نیکی و بھلائی یا طلب علم کی مشغولیت زیادہ ہے، تو اس کو زیادہ دینے میں حرج نہیں کہ اس میں فضل دینی دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
(4) اگر کسی کو بہت کم دینا یا بالکل محروم رکھنا، وجہِ شرعی کی بناء پر ہو، مثلا: وہ فاسق و فاجر ہے، اس رقم کو لے کر گناہ کے کاموں میں صرف کرے گا، تو اس کو نہ دینے یا کم دینے میں حرج نہیں۔
(5) تمام اولاد بالکل برابر درجہ کی ہو اور ایک کو کم ایک کو زیادہ دیا جائے یا بالکل محروم کیا جائے تواب اس کی دو صورتیں ہیں:
(۱) کسی کو نقصان پہنچانے یا محروم کرنے کا قصد و ارادہ ہو، یا بلاوجہ شرعی کسی مہمل وجہ کی بناء پر مثلا: شادی شدہ ہونے، وغیرہ وجوہ کی بناء پرایسا کیا جائے، تو ممنوع و ناجائز ہے کہ یہ ظلم ہے، یہاں تک کہ اگر کسی دینی فضیلت والے بچے کو زیادہ دیا اور اس میں دوسرے کو نقصان دینے کی نیت بھی تھی، تو اب گنہگار ہوگا۔
(۲) اگر دوسرے کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو اور نہ ہی کوئی مصلحتِ شرعی پیشِ نظر ہو، تو یہاں دو صورتیں ممکن ہیں۔
اول: اگر یہ معاملہ بیٹے و بیٹی کے درمیان ہو، تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق دونوں کو برابر برابر دینا بہتر و اولیٰ ہے اور بیٹی کو ایک حصہ اور بیٹے کو دو حصے دینا، جیساکہ میراث میں حکم ہے، یہ بھی جائز ہے۔
دوم: اگر یہ معاملہ صرف بیٹیوں یا صرف بیٹوں کے درمیان ہو، تو اب حکم یہی ہے کہ برابر برابر دیا جائے، کیونکہ بغیر کسی مصلحتِ شرعی کے کسی کو زیادہ دینا، درحقیقت دوسرے کو ضرر دینے کے قصد پر مشتمل ہے جو کہ مکروہ و ممنوع ہے۔ ہاں! اگر مصلحتِ شرعیہ کی بناء پر زیادہ دیا جائے، تو حرج نہیں، جیسا کہ صورت نمبر 2 میں بیان کیا گیا۔
صورت مسئولہ کا جواب :
اب اس تفصیل کو جاننے کے بعد معلوم ہوا کہ گھر میں بسا اوقات جو کیک وغیرہ چیز آتی ہے، اس میں سے بیٹے و بیٹی سب کو برابر برابر دیا جائے بلا وجہ شرعی کمی بیشی نہ کی جائے کہ اس سے دلوں میں رنجش پیدا ہوتی ہے، ہاں! بعض اوقات کچھ اولاد بہت چھوٹی ہوتی ہے کہ وہ بڑوں جتنا کھا نہیں پاتی، تو اسے کم دینے میں حرج نہیں، یونہی اولاد میں سے بعض قریب یا ساتھ رہتے ہیں اور بعض دور یا بیرون ملک میں ہیں، تو اس صورت میں ممکنہ حد تک عدل و تسویہ کا حکم ہے، لیکن اگر کوئی واضح عذر ہو جس کی وجہ سے دور یا بیرون ملک میں مقیم اولاد کو تقسیم میں سے حصہ نہ مل سکا، تو اب گناہ نہیں ہوگا کہ معذور ہے۔ کیونکہ یہاں حرج واضح ہے، کیونکہ کیک یا مٹھائی یا فروٹ وغیرہ ایسی چیزیں دور کسی تک پہنچانے میں حرج ہے اور کئی بار تو ان کے خراب ہونے کا بھی اندیشہ رہے گا۔
عمل محبت میں عدم تسویہ میں کوئی حرج نہیں۔ درمختار میں ہے:
لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب
ترجمہ: محبت میں بعض اولاد کو بعض پر فضیلت دینا اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ دل کا عمل ہے ۔(الدر المختار، صفحہ 562، مطبوعہ دار الكتب العلميہ، بيروت)
موسوعہ میں ہے:
نص الحنفية على أنه لا بأس بتفضيل بعض الأولاد على بعض في المحبة، لأنها عمل القلب
ترجمہ: حنفی فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے کہ اولاد میں سے بعض کو بعض پر محبت میں ترجیح دینا (زیادہ محبت کرنا) کوئی حرج کی بات نہیں، کیونکہ محبت دل کا عمل ہے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیہ، ج 45، ص 200، وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية، الكويت)
تحفہ تحائف میں کسی مصلحتِ شرعی کی بناء پر کمی و زیادتی یا محرومی سے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی فتاوی امجدیہ میں لکھتے ہیں: ہاں! اگر کم و بیش دینا کسی مصلحت شرعیہ کی بنا پر ہو، اضرار مقصود نہ ہو، مثلا:ایک خدمت دین میں مشغول ہے کہ کسبِ معیشت میں ہو، تو اس خدمت میں نقصان واقع ہوگا اور دوسرا ایسا نہیں یا ایک فاسق فاجر ہے کہ مال ضائع کردے گا، تو ایسی صورتوں میں کمی بیشی جائز ہے اور اگر اضرار مقصود ہے، تو گناہگار ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 2، صفحہ 264، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
غریب و حاجتمند ہونے کی وجہ سے زیادہ دینا جائز ہے، جبکہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی نیت نہ ہو، جیسا کہ فتاوی خلیلیہ میں ہے: زندگی میں آدمی اپنے مال کا خود مختار ہوتا ہے، چاہے تو سارا مال کسی ایک کو دے دے یا چاہے تو تقسیم کر دے کسی کو زیادہ اور کم بھی دے سکتا ہے۔ مگر زندگی میں تقسیم کرے، تو سب اولاد کو برابر برابر دے۔۔۔ لہذا صورت مسئولہ عنہا میں اگر دوسری اولاد غریب ہے اور زیادہ مستحق ہے، تو ان کو زیادہ دے سکتا ہے۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد 3، صفحہ 507، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
لیکن اگر تکلیف دینا مقصود ہے یا کوئی بھی وجہ صحیح نہیں ہے، مثلاً: کوئی ایک زیادہ خوشحال ہے، تو صرف اس وجہ سے دوسرے کو زیادہ دینے کی اجازت نہیں کہ وجہ صحیح کا نہ ہونا بھی اضرار کی ایک صورت ہے، جیسا کہ عنقریب آتا ہے۔ امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے فتاوی رضویہ میں سوال ہوا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ زید اپنی مملوکہ کل جائیداد کو اپنی زندگی میں اپنے ایک نابالغ بیٹے جو اس کی اپنی پرورش میں ہے اور ایک بالغہ، شادی شدہ، خوشحال بیٹی کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ بیٹے کے مستقبل کا خیال کرتے ہوئے کہ اس کی شادی ہونی ہے، لڑکے کو خاندانی معاملات میں خرچ کرنا پڑے گا، ان جوہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ بیٹے کو زیادہ اور بیٹی کو کم حصہ دیتا ہے۔ کیا شرعاً یہ صحیح ہے؟ آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: اگر یہ مراد کہ ایسی کاروائی کرنی عند اللہ اسے جائز ہے یا اس پر مؤاخذہ ہوگا، تو جواب یہ ہے کہ جن مہمل وجوہ پر زید نے ایک قلیل جز بیٹی کو دیا اور باقی تمام جائداد کثیر بیٹے کو دی، یہ ضرور عند اللہ ناجائز ہے اور زید گناہگار اور بیٹی کے حق میں گرفتار ہوا شرع مطہر نے بعد موت بیٹی کا ایک اور بیٹے کے دو حصے رکھے ہیں، لیکن زندگی میں تقسیم کرے، تو حکم ہے کہ پسر و دختر دونوں کو برابر برابر دے قصدًا بلاوجہ شرعی بیٹی کو نقصان دینا جائز نہیں۔ لڑکی کا بالغہ ہونا اس کا کوئی جُرم نہ تھا، نہ شادی ہوجانا اس کی خطا تھی، اور اپنے گھر سے خوشحال ہونا زید کی بخشش نہیں، جسے اپنی جائداد دینے میں مجرا لے اور لڑکی کا خرچ اور پر ہونا اور لڑکے پر اور کا خرچ ہونا شریعت زید سے زیادہ جانتی ہے، پھر حکم دونوں کو برابر دینے کا فرمایا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 356، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فتاوی حنفیہ اشرفیہ میں ہے: شریعت مطہرہ کے مقررہ اصول کے مطابق اگر تقسیم کیا جائے، تو عند اللہ اجر و ثواب کا باعث ہے، البتہ وہ اولاد جو کمزور ہے یا اس نے خدمت زیادہ کی ہے، اس کے پیشِ نظر انہیں خدمت و فرمانبرداری کی وجہ سے زیادہ دے سکتے ہیں، بشرطیکہ دوسری اولاد کو محروم کرنے کی نیت اور ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو۔ (فتاوی حنفیہ اشرفیہ، جلد 2، صفحہ 144، 145، مطبوعہ تنظیم اھلسنت، پاکستان)
بدچلن و فاسق اولاد کو کم دینا اور محروم رکھنا دونوں جائز ہیں، کم دینے کے حوالے سے امجدیہ کے حوالے سے صراحت گزری، بالکل محروم کرنے کے متعلق فتاوی خلیلیہ میں ہے: زندگی میں اولاد کو تقسیم کردیں تو لڑکے لڑکی کو برابر دیں، لڑکے کو دونا اور لڑکی کو اس سے نصف دینا میراث میں ہے اور یہاں جیتے جی آدمی تقسیم کر رہا ہے۔ یوں ہی اگر بعض اولاد بدچلن ہے، تو انہیں دینا بدچلنی میں مدد دینا ہے، لہٰذا انہیں نہ دے۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد 3، صفحہ 320، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
یونہی وقار الفتاوی میں ہے: اولاد اگر فاسق ہو اور باپ کی نافرمان ہو تو باپ کے لئے یہ جائز ہے کہ اپنا مال کسی نیک کام میں خرچ کر دے اور اولاد کو میراث سے محروم کردے۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 363، مطبوعہ بزم وقار الدین)
فتاوی امجدیہ میں جوان اور چھوٹے بچوں کے درمیان یونہی بعض اولاد جوان شادی شدہ بعض غیر شادی شدہ ہیں، ان کے درمیان تقسیم کے متعلق سوال ہوا، اس کے جواب میں فرمایا: اگر ان میں کوئی اولاد دینی ترجیح رکھتی ہے، تو اس کو زیادہ دینے میں کوئی حرج نہیں ورنہ تمام اولاد کو برابر دیں۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 259، مکتبہ رضویہ، کراچی)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے: ہر شخص کو اپنے مال کا زندگی میں اختیار ہے، چاہے کُل خرچ کر ڈالے یا باقی رکھے، مگر اس غرض سے دوسرے کو دینا تا کہ ورثہ میراث سے محروم ہو جائیں ناجائز و حرام ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 267، مکتبہ رضویہ کراچی)
فتاوی ملک العلما میں ہے: بلا وجہ شرعی وارث کو محروم کرنے کی نیت سخت شنیع ہے۔ (فتاوی ملک العلماء، صفحہ 474، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
کمی و زیادتی یا محروم کرنے میں اضرار مقصود ہو یا بلا وجہ شرعی کسی مہمل وجہ کی بناء پر ہو، تو ممنوع و ناجائز ہے کہ بلاوجہ شرعی کمی و زیادتی در حقیقت دوسرے کو نقصان دینے پر مشتمل ہے، جیسا کہ درمختار میں ہے:
و كذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، و إن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني و عليه الفتوى
ترجمہ: اور اسی طرح تحفوں یا عطیوں میں بھی (اولاد کے درمیان فرق) جائز ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد کسی کو نقصان یا تکلیف پہنچانا نہ ہو، البتہ اگر نیت نقصان پہنچانے کی ہو تو پھر سب اولاد کو برابر دینا لازم ہے،یعنی بیٹی کو بھی بیٹے کے برابر دیا جائے،یہی امامِ ثانی (امام ابو یوسف) کا قول ہے اور فتویٰ بھی اسی پر ہے۔ (الد ر المختار مع رد المحتار، ج 05، ص 656، مطبوعہ مصر)
اگر قصدِ اضرار نہ ہو تو کب کمی بیشی سے دینا قصدِ اضرار میں داخل ہوگا اور کب نہیں؟ اس کے متعلق فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
ثم اقول: و باﷲ التوفیق یترا ای لی ان لاخلف بین ما عن الامامین الشیخین رضی ﷲ تعالٰی عنھما فان تفضیل احدالولدین لا تحقق لہ الا بتنقیص الاخر و التنقیص اضرار، اذ لیس المراد بہ ایصال سوءٍ الیہ فی دینہ او نفسہ او بدنہ او عرضہ او ملکہ و لا التنقیص من حق لہ ثابت فانہ لاحق للورثۃ فی صحۃ المورث فلم یرد بہ الا حجبہ حجب نقصان او حرمان و ھذا لازم التفضیل لا انفکاک لہ عنہ، بیدان القصد او لا و بالذات قد یتعلق بتفضیل ھذا دون تنقیص ذلک و قد یکون بالعکس فانک اذا اعطیت احدھما ازید لانہ اطوع لک و ابر بک فانما مطمح نظرک فی ھذا صلتہ بمقابلۃ ما وقع منہ لا تنقیص غیرہ و ان لزمہ لزوما کلیا، و اذا کنت غضبان علی احدھما فاعطیت الاخر ازید کیلا یصل الیہ الا القلیل فانما مطمح بصرک فی ھذا اضرارہ بما اساء الیک لا تفضیل غیرہ قصدا اولیا کما لایخفی، ثم التفضیل لابدلہ من حامل علیہ و داع الیہ فان العا قل لایقصد الفعل الا لغرض صحیح فان رجح و لا مرجح لم یکن المقصود ترجیحہ لعدم ما یدعو الیہ بل تنقیص غیرہ و ھو قصد الاضرار و الداعی ان کان امرا دنیویا لا اثر لہ فی الدین فالشرع لایعتبرہ و یجعلہ کلاداع و اذا کان امرا دینیا فھو المقصد الصحیح المعتبر و بقصدہ یخرج الانسان عن قصد الاضرار کما قد تقرر فظھران مآل الکلامین واحد و ان کلامھما کالشرح لصاحبھا و انما لم یقید فیما روی عن الامام بان لایقصد الاضرار کان الکلام فیہ مفروض فیما قصد تفضیل بعض فبین مایصح منہ و ما لابل یؤل قصد اضرار ثم الذی یظھران مسئلۃ التثلیث او التسویۃ بین الابن و البنت مسئلۃ علی حدۃ لامتفرعۃ علی قصد الاضرار الا تری الی ما اسمعناک عن نص البزازیۃ و لذا لما اوھم عبارۃ الدرذاک التفریع عقبہ العلامۃ السید الطحطاوی لعبارۃ البزازیۃ و قال فانت تری نص البزازیۃ خالیا عن قصد الاضرار
یعنی: ثم اقول: (پھر میں کہتا ہوں) اور توفیق اللہ کی طرف سے ہے، مجھ پر واضح ہوا کہ شیخین رحمہما اللہ تعالٰی دونوں اماموں کے قول میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ دو بیٹوں میں سے ایک کو زیادہ دینا دوسرے کو کم دینے کے بغیر متحقق نہیں اور کم دینا ہی ضرر دینا ہوا، کیونکہ یہاں دین یا بدن یاعزت یا ملک میں تکلیف دینا مراد نہیں ہے اورنہ اس کے لئے ثابت شدہ حق کو کم کرنا مراد ہے کیونکہ اولاد کا باپ کی صحت کی حالت میں کوئی حق نہیں تو یہاں صرف ایک کا دوسرے کے لیے نقصان یا محرومی کا باعث بننا ہے اور یہ بات دوسرے کو فضیلت دینے کو لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہوسکتی، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کبھی مقصود بالذات ایک کو صرف فضیلت دینا ہوتا ہے دوسرے کی تنقیص پیش نظر نہیں ہوتی، اور کبھی معاملہ بالعکس ہوتا ہے، کیونکہ جب تو ایک کو اس لئے زیادہ دے کہ وہ تیرا زیادہ مطیع اور خدمت گار ہے، تو اس میں تیرا مطمح نظر صرف اس کو صلہ دینا ہے، دوسرے کی تنقیص مقصود نہیں ہوتی، اگرچہ یہ لازم ضرور ہے اور تو جب ایک پر ناراض ہو کر دوسرے کو اس لئے زیادہ دے کہ پہلے کو کم ملے تو اس میں تیری نظر یہ ہے کہ اس کو نالائقی کی سزا ملے دوسرے کو فضیلت مقصود بالذات نہیں ہوتی جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ پھر تفضیل کا کوئی باعث اور داعی ضرور ہوتا ہے، کیونکہ عاقل کا کوئی فعل غرض کے بغیر نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرجح کے بغیر ترجیح ہو، تو پھر ترجیح مقصود نہ ہوگی، بلکہ دوسرے کی تنقیص مراد ہوگی تو ضرر رسانی ہوگی، اور اگر داعی ترجیح کوئی دنیاوی امر ہو جس کا دین میں کوئی اثر نہ ہو، تو شریعت اس کا اعتبار نہیں کرتی اور اس داعی کو کالعدم قراردیتی ہے، اور اگر کوئی ایسا دینی معاملہ ہو جو شرعا مقصود و مطلوب ہو تو انسان اس کا قصد کر کے ضرر کے قصد سے بچ جاتا ہے، جیسا کہ ثابت ہے تو معلوم ہوا دونوں اماموں کے کلام کا نتیجہ ایک ہے اور دونوں ایک دوسرے کی شرح قرار پاتے ہیں، اور امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت جس میں کلام میں ضررکے قصد کی قید نہیں لگائی، کیونکہ ان کے کلام میں ایک کی فضیلت مفروض ہے کہ جو صحیح تھا وہ غیر صحیح سے واضح ہو، بلکہ یہ کلام ضرر رسانی کی طرف عائد ہے، پھر بیٹی اور بیٹے میں تین حصے یا برابری کا مسئلہ علیحدہ مسئلہ ہے یہ ضرر رسانی کے قصد پر متفرع نہیں ہے، تو نے دیکھ لیا جو ہم نے تجھے بزازیہ کی نص دکھائی اسی لئے جب درمختار کی عبارت نے یہ وہم پیدا کیا تو علامہ طحطاوی نے اس کے بعد بزازیہ کی عبارت ذکر کردی جس کا مقصد یہ ہے کہ تو بزازیہ کی عبارت کو ضرر رسانی کی قید سے خالی پارہا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 275 تا 277، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اگر قصدِ اضرار ہو تو بہر صورت کمی بیشی ناجائز ہے، حتی کہ اگر کسی کو زیادہ فضل دینی کی وجہ سے دیا اور اس میں دوسرے کو ضرر دینے کی نیت ہوئی، تب بھی ناجائز ہے، جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے: جبکہ یہ لڑکا باپ کا خدمت گزار زیادہ ہے تو ان دو پر ایک طرح کا فضل دینی رکھتا ہے اگر اور کوئی وجہ اس کے منافی نہ ہو تو ایسی صورت میں باتفاق روایات اس کو ترجیح دینے میں مضائقہ نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 273، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
البتہ بیٹے کی بنسبت بیٹی کو آدھا دینا بھی جائز ہے، جیسا کہ اس کے متعلق مفتیٰ بہ قول بیان کرتے ہوئے فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: صورت مستفسرہ میں مذہب مفتیٰ بہ پرافضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے، یہی قول امام ابو یوسف کا ہے اور
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ
دینا بھی جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کاہے، ممنوع و ناجائز نہیں، اگرچہ ترک اولیٰ ہے۔ ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے:
الفتوی علی قول أبی یوسف من أن التنصیف بین الذکر و الأنثی أفضل من التثلیث الذی ھو قول محمد
فتوی امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینا، مرد کو دو اور عورت کو ایک، تین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اللہ تعالی کا مذہب ہے۔ حاشیۂ طحطاویہ میں فتاوی بزازیہ سے ہے:
الأفضل فی ھبۃ البنت و الابن التثلیث کالمیراث و عند الثانی التنصیف و ھو المختار
بیٹی اور بیٹے کو ہبہ کرنے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔بالجملہ خلاف (اختلاف) افضلیت میں ہے اور مذہب مختار پر اولیٰ تسویہ (برابر، برابر دینا بہتر ہے)، ہاں اگر بعض اولاد فضلِ دینی (دینی اعتبار سے فضیلت) میں بعض سے زائد ہو، تو اس کی ترجیح میں اصلاً باک نہیں۔ (فتاوی رضویہ ، ج 19، ص 231، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اگر یہی معاملہ صرف دو بیٹے یا دو بیٹیوں میں ہو، تو اب برابر دینا ہی لازم ہے، ورنہ یہ قصدِ اضرار ہی کی طرف راجع ہوگا اور مکروہ و ممنوع ہوگا، ہاں! مصلحتِ شرعی ہو تو کمی و زیادتی جائز ہے، جیسا کہ فتاوی رضویہ میں قصدِ اضرار کے تحقق سے متعلق تفصیلی کلام کے آخر میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
فتحرر مما تقرر ان العدل بین الابن و البنت فی حال الصحۃ عند الامام الثالث ھو التثلیث وعند الامام الثانی التنصیف و علیہ الفتوی و الکلام فی الافضیلۃ و الکل جائز و العدل بین بنین او بنات ھو التسویۃ بالاجماع و لا یجوز العدول عنہ فی ابن لا فی بنت اصلا لو قصد الاضرار اولا بالذات الا ان یکون فاسقا کما افادہ فی الخلاصۃ و البزازیۃ وخزانۃ المفتین و الھندیۃ و غیرھا و ان قصد التفضیل فان الفضل دینی جائز و لم یکرہ و الاکرہ لِاَولہ (الاول ھو الرجوع) الی قصد الاضرار و ھذا ماظھرلی والعلم بالحق عند عالم الغیوب و الاسرار، و اللہ سبحنہ و تعالٰی اعلم
یعنی: اس تقریر سے معلوم ہوا کہ صحت کی حالت میں بیٹی اور بیٹے کے درمیان عدل تیسرے امام (محمد) رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک تین حصے بنانے میں ہے، اور امام ثانی یعنی ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک برابر دینے میں ہے اوراسی پر فتوٰی ہے حالانکہ یہ کلام افضیلت میں ہے جبکہ جواز دونوں صورتوں میں ہے، بالاجماع بیٹوں اور بیٹیوں میں عدل بہرحال برابر دینے میں ہے کسی لڑکے یا لڑکی کو ضرر رسانی قصداً وبالذات جائز نہیں سوائے اس کے کہ وہ فاسق ہو، جیسا کہ اس کا افادہ بزازیہ خزانۃ المفتین اورہندیہ وغیرہ کے بیان نے دیا ہے اوراگر فضیلت دینا چاہے تو کسی دینی فضیلت کی بناء پر جائزہے، مکروہ نہیں ہے ورنہ مکروہ ہے، کیونکہ یہ ضرر رسانی کی طرف رجوع ہوگا، مجھ پر یہ ظاہر ہواہے۔ حقیقی علم غیوب واسرار کے عالم کے پاس ہے، واللہ سبحنہ و تعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ ، ج 19، ص 278، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
جو اولاد والدین کے ساتھ مقیم نہ ہو اور کسی دوسرے شہر یا ملک میں رہتی ہو، اُن تک مٹھائی، پھل یا گھر میں آنے والی دیگر اشیاء پہنچانا بسا اوقات نہایت دشوار اور باعثِ مشقت ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ایسی اولاد کو یہ چیزیں نہ بھیجی جائیں تو شرعاً کوئی حرج نہیں۔ ویسے بھی گھر میں آنے والی ہر معمولی یا روزمرہ کی چیز سب کو برابر پہنچانا ممکن نہیں ہوتا، اور عام طور پر دور رہنے والی اولاد اس بات کو برا بھی نہیں سمجھتی۔ لہٰذا ایسی صورت میں ان تک یہ چیزیں نہ پہنچانا، جائز ہے،جبکہ مقصد اضرار کا نہ ہو۔ حبیب الفتاوی میں ہے : اگر زید اپنی اولاد میں سے کسی ایک یا چند افراد کو کچھ نہ دے اور بعض اولاد کو دے یہ عدل بین الاولاد کے خلاف ہے۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے اولاد کے درمیان عدل فرمانے کا حکم دیا ہے۔ لیکن خلاف عدل کرنے کی صورت میں بھی باپ کا یہ عمل شرعاً صحیح و نافذ ہوگا۔ چونکہ وہ مالک ہے، ہر مالک کو اپنی مملوکہ چیز میں تصرف جائز کا پورا اختیار ہے۔ اگر کوئی فرد اولاد میں نافرمان نہ ہو اور کسی کو دوسری اولاد پر کوئی دینی فضیلت بھی نہ ہو تو اس صورت میں باپ کو اولاد کے درمیان عطا ہبہ اور تقسیم میں عدل ومساوات پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کا خلاف عدل پر اقدام مکروہ ممنوع ہوگا اور ارتکاب مکروہ کے باعث وہ گناہگار ہوگا۔۔۔ دوسرا لڑکا جو پاکستان میں ہے اگر وہ نافرمان نہیں ہے لیکن ملکی مسائل کی پیچیدگی کے باعث زیدا سے کچھ نہ دے سکا تو معذور ہے ورنہ اس کی نسبت سے زید مکروہ کا مرتکب اور گناہ گار ہوگا۔ (حبیب الفتاوی، جلد 4 صفحہ 7، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
اگر اولاد میں تمام ہی افراد دینی خدمت یا والدین کی فرماں برداری میں مشغول ہوں، لیکن ان میں سے کوئی زیادہ صاحب علم و عمل یا خدمت دین یا خدمتِ والدین میں زیادہ مشغولیت رکھتا ہے اور دوسرا کم، تو جس طرح نفسِ خدمتِ دین و والدین دیگر افراد سے زیادہ دینے کے لیے وجہ شرعی ہے یونہی علم و عمل یا دینی مشغولیت میں کثرت و قلت کے اعتبار سے بھی اولاد میں کمی بیشی کرنا، جائز و درست ہے کہ یہ فضل دینی میں کثرت کے سبب زیادتی کرنا ہے اور اس میں حرج نہیں۔ لہذا جو بیٹا یا بیٹی زیادہ خدمت دین میں مشغول ہے یا دیگر کے مقابلے میں زیادہ والدین کا خدمت گزار ہے اُسے دیگر اولاد کے مقابلے میں کہ جو دینی خدمت یا والدین کی فرمانبرداری میں اس سے کم ہیں، زیادہ دینا بالکل جائز ہے۔
فتاوی حنفیہ اشرفیہ میں ہے: اگر اولاد میں سے کوئی زیادہ دین دار متقی پرہیزگار اور اپنے والد کا بہت ہی خدمت گزار ہو، تو اسے کچھ زیادہ دیدے، تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں اور کاروبار میں زیادہ مدت لگانے کی بنیاد پر ایسا نہیں کر سکتا کہ ان کو زیادہ دے۔ (فتاوی حنفیه اشرفیه، جلد 2، صفحه 142، تنظیم اھلسنت، پاکستان)
یونہی فتاوی حنفیہ میں ہے: شریعت کا حکم یہ ہے کہ جو شخص اپنی زمین وغیرہ جائیداد اپنی زندگی میں بانٹے تو لڑکی اور لڑکے سب کو برابر برابر دے۔ کسی کو زیادہ کسی کو کم دینا یا بعض کو دینا اور کو بالکل محروم کرنا از روئے شرع منع ہے۔ ہاں اگر کوئی دینی فضیلت رکھتا ہو یا ماں باپ کا زیادہ فرمانبردار اور با ادب ہو تو اسے زیادہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتاوی حنفیہ، جلد 2، صفحہ 426، 427، مطبوعہ)
یونہی فتاوی یورپ میں ہے: ہاں جو اولاد دینداری اور فرماں برداری میں زیادہ ہو،تو اس کو دوسرے بیٹے بیٹیوں سے کچھ زیادہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتاوی یورپ، صفحه 550 _ 549، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
انڈر لائن عبارات میں واضح موجود ہے کہ یہاں دیگر اولاد سے زیادہ دینے کی وجہ زیادہ عبادت گزار یا زیادہ ماں باپ کا فرماں بردار ہونا ہےاور ویسے بھی عمومی طور پر اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری تمام ہی اولاد کرتی ہے اور ان میں فرق کم و زیادہ سے ہی کیا جاتا ہے، اسی لیے فقہائے کرام نے فرمانبرداری میں زیادتی کی وجہ سے کمی بیشی کی اجازت عطا فرمائی۔
برابری کیوں ہونی چاہیے، اس حوالے سے ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی علیہ الرحمۃ بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں:
لأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى
ترجمہ: کیونکہ برابری دلوں میں اُنس و محبت پیدا کرتی ہے، جبکہ کسی کو ترجیح دینا آپس میں دوری اور رنجش کا سبب بنتا ہے، لہٰذا برابری ہی اولیٰ ہے۔(بدائع الصنائع، جلد 6، صفحہ 127، مطبوعہ دار الكتب العلميہ)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: ابو حمزہ محمد حسان عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-667
تاریخ اجراء: 22 جمادی الاولی 1447ھ / 14 نومبر 2025ء