logo logo
AI Search

کیا استاد، والدین یا شوہر چہرے پر مار سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

استاذ شاگرد کو، والدین بچوں کو اور شوہر اپنی بیوی کو مار سکتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ کسی انسان کو بلاوجہ مارنا، تو جائزنہیں ہے، لیکن کیا اساتذہ یا والدین بچوں کو یا شوہر اپنی بیوی کو شرعی حدود وقیود میں رہ کرضرورتاً مارنا چاہیں، تو کیا چہرے پر تھپڑ وغیرہ مار سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

شوہر، اساتذہ یا والدین کا شرعی حدود و قیود میں رہ کربھی ضرورتاً بیوی یا بچوں کے چہرے پر مارنا، ناجائز وگناہ ہے، خواہ وہ حد یا تعزیر کے طور پر ہو یا اصلاح و تربیت کے طور پر ہو، کیونکہ نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ التسلیم نے چہرے پر مارنے سے مطلقاً منع فرما یاہے، نیز چہرہ حواس (آنکھ، کان، ناک و زبان) اورانسانی حسن و جمال کا مرکز ہے، اس پر مارنے سے حواس اور خوبصورتی میں نقصان، بلکہ مثلہ (چہرہ بگاڑنے) کاغالب اندیشہ ہوتا ہے اور مثلہ(چہرہ بگاڑنے) سے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سخت منع فرمایا ہے۔ یونہی شریعت نے سَر اور شرمگاہ پر مارنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ سر میں دماغ ہوتا ہے، تو سر پر مارنے سے عقل زائل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور شرمگاہ پر مارنے سے ہلاکت کا غالب اندیشہ ہوتا ہے، لہذا چہرے کے ساتھ ساتھ سَر اور شرمگاہ پر مارنے کی بھی اجازت نہیں۔

چہرےپر مارنے کی ممانعت کے متعلق سنن الكبری، سنن ابی داود اور مسند امام احمد میں ہے،

و الفظ للآخر: عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذا ضرب احدكم فليتجنب الوجه

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کو مارے، تو چہرے پر مارنے سے بچے۔ (مسندِ احمد، جلد 12، صفحہ 382، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت امام شرف الدین نَوَوِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

يدخل فی النهی اذا ضرب زوجته او ولده او عبده ضرب تأديب فليجتنب الوجه

ترجمہ: ممانعت میں وہ صورت بھی شامل ہے جب بندہ اپنی بیوی، بچے یا غلام کو ادب سکھانے کے لیے مارے، تو چہرے پر مارنے سے بچے۔ (المنهاج مع الصحیح لمسلم، جلد 16، صفحه 165، مطبوعه دار احیاء التراث العربی، بیروت)

الادب المفرد میں ہے:

عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال: اذا ضرب احدكم خادمه فليجتنب الوجه

ترجمہ: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے، تو اس کے چہرے (پر مارنے) سے بچے۔ (الادب المفرد، صفحہ 81، مطبوعہ دار البشائر الاسلامية)

مذکورہ بالاحدیث پاک کے تحت فیض القدیر میں ہے:

(اذا ضرب احدكم خادمه) او مواليه او حليلته او نحو ولده و ذكر الخادم في بعض الروايات و العبد فی بعضها ليس للتخصيص و انما خص لان سبب ذكره ان انسانا ضرب خادمه و آخر عبده على وجهه فالسبب خاص و الحكم عام فشمل الحكم اذا ضرب حدا او تعزيرا للہ او لآدمی و نحو ولی و سيد و زوج۔۔۔ و فيه انه يحرم ضرب الوجه وما الحق به فی الحد و التعزير و التاديب۔ والحق بالادمی كل حيوان محترم

ترجمہ: جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے یا اپنے غلام کو یا اپنی بیوی کویا اسی طرح اپنے بچے کو، بعض روایات میں خادم کا ذکر آیا ہے اور بعض میں غلام کا، یہ تخصیص کے لیے نہیں ہے، بلکہ خاص طور پر اس لیے ذکر ہوا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ ایک شخص نے اپنے خادم کے چہرے پر مارا اور دوسرے نے اپنے غلام کے چہرے پر مارا، پس سبب خاص تھا اور حکم عام ہے، لہٰذا یہ حکم ہر صورت کو شامل ہےجب اللہ کے لیےبطورِ حد یا تعزیر مارا جائے یا کسی آدمی کے حق میں اور اسی طرح ولی، مالک اور شوہر سب اس میں داخل ہیں۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ حد، تعزیر اور تادیب میں چہرے پر مارنا اور اس کے مشابہ اعضا پر مارنا حرام ہے اور انسان کے ساتھ ساتھ ہر محترم جانور کو بھی اسی حکم میں شامل کیا گیا ہے۔ (فیض القدیر، جلد 1، صفحه 397، مطبوعه المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1052ھ / 1642ء) لکھتےہیں:

فليجتنب عن ضربه على الوجه عام في جميع الضربات للحد أو للتعزير بل للتأديب أيضًا

ترجمہ: لہٰذا چہرے پر مارنے سے بچنا چاہیے اور یہ حکم ہر قسم کی مار کو شامل ہے، خواہ وہ حد کے طور پر ہو یا تعزیر کے طور پر، بلکہ اصلاح و تربیت کے لیے مارنا بھی ہو تب بھی چہرے پر مارنا جائز نہیں۔ (لمعات التنقیح، جلد 6، صفحہ 421، مطبوعہ دمشق)

مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتےہیں: انسان یا جانور کے چہرے پر مارنا سخت منع ہے۔ منہ پر نہ طمانچہ مارے، نہ کَوڑا وغیرہ، کیونکہ چہرے میں نازک اعضاء ہیں، جیسے آنکھ، ناک، کان جن پر چوٹ لگنے سے موت یا اندھے ہوجانے یا چہرہ بگڑ جانے کا خطرہ ہے اور چہرے میں داغ لگانا تو بہت ہی برا ہے کہ اس میں تکلیف بھی بہت ہے اور منہ کا بگاڑ دینا۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 701، مطبوعہ نعيمي كتب خانہ، گجرات)

چہرے، سر اور شرمگاہ پر مارنے کی ممانعت کے متعلق مصنف عبد الرزاق میں ہے:

عن عكرمة بن خالد قال: اتى عليا رجل فی حد فقال اضرب واعط كل عضو حقه و اجتنب وجهه و مذاكيره

ترجمہ: حضرت عکرمہ بن خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک شخص حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حد کے معاملے میں آیا، تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: مارو اور ہر عضو کو اس کا حق دو اور اس کے چہرے اور اس کی شرمگاہ سے بچو۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 7، صفحه 369، مطبوعه توزيع المكتب الاسلامی، بيروت)

ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

لا يجمع الضرب فی عضو واحد لانه يفضی الى تلف ذلك العضو او الى تمزيق جلده وكل ذلك لا يجوز بل يفرق الضرب على جميع الاعضاء من الكتفين و الذراعين و العضدين و الساقين و القدمين الا الوجه و الفرج و الراس لان الضرب على الفرج مهلك عادة و قد روی عن سيدنا علی رضی اللہ عنہ موقوفا عليه و مرفوعا الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انه قال اتق وجهه و مذاكيره و الضرب على الوجه يوجب المثلة و قد نهى رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عن المثلة و الراس مجمع الحواس و فيه العقل فيخاف من الضرب عليه فوات العقل او فوات بعض الحواس

ترجمہ: مار کو ایک ہی عضو پر جمع نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے اس عضو کے ضائع ہو جانے یا اس کی کھال پھٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور یہ سب ناجائز ہے، بلکہ مار کندھوں، بازوؤں، کلائیوں، رانوں، پنڈلیوں اور قدموں پر الگ الگ لگائی جائے، سوائے چہرے، شرمگاہ اور سر کے، کیونکہ شرمگاہ پر مارنا عادتاً ہلاکت کا سبب بنتا ہے اور اس بارے میں حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے موقوفا اور مرفوعاً دونوں طرح کی روایت منقول ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: چہرے اور شرمگاہ سے بچو، اور چہرے پر مارنے سے مثلہ (چہرہ بگاڑ دینا) لازم آتا ہے، جبکہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مثلہ سے منع فرمایا ہے اور سر حواس کا مرکز ہے اور اسی میں عقل ہوتی ہے، اس پر مارنے سے عقل یا کسی حِس کے زائل ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ (بدا ئع الصنائع، جلد 7، صفحہ 59، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:

و لا يضرب الراس و الوجه و الفرج۔۔۔ و اما الوجه فلما فی حديث ابن ابی بكرة عن ابيه ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم لما امر برجم المراة قال لهم: اتقوا الوجه و قد ذكرناه فيما سلف و روى ابن عجلان عن سعيد عن ابی هريرة رضی اللہ عنه عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال: اذا ضرب احدكم فليتق الوجه و روی ان عليا رضی اللہ عنه قال لرجل امره بجلد رجل فی الخمر: اتق وجهه و مذاكيره و اما الراس فلانه مقتل فلا يضرب كما لا يضرب الفرج

ترجمہ: سر، چہرے اور شرمگاہ پر مارنا جائز نہیں۔۔۔۔ چہرے پر مارنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ حضرت ابن ابی بکرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا، تو فرمایا: چہرے سے بچنا اور اس حدیث کو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں اور ابن عجلان نے سعید سےانہوں نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مارے، تو چہرے سے بچےاور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص سےجسے انہوں نے شراب کے جرم میں ایک شخص کو کوڑے مارنے کا حکم دیا تھا، فرمایا: اس کے چہرے اور اس کی شرمگاہ سے بچنا اور سر پر مارنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ وہ جان لیوا مقام ہے، لہٰذا اس پر مارا نہیں جائے گا، جیسے شرمگاہ پر مارنا جائز نہیں۔ (شرح مختصر الطحاوی للجصاص، جلد 6، صفحہ 192، مطبوعہ دار البشائر الإسلامية)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: عبدالرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9729
تاریخ اجراء: 22 رجب المرجب 1445ھ /12 جنوری 2026ء