logo logo
AI Search

نامعلوم ولدیت والے بچے کی دستاویزات کیسے بنے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس کا باپ معلوم نہیں، اس کی ڈاکومنٹس وغیرہ میں کس کی طرف نسبت کریں گے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جس کے باپ کے متعلق کوئی علم نہ ہو، جب کوئی اسے گود لے لے، تو ڈاکومنٹنس وغیرہ میں اس کی نسبت کس کی طرف کرے، کیونکہ یتیم خانے وغیرہ سے لیتے ہیں تو اس کا باپ معلوم ہی نہیں ہوتا؟

جواب

اگر کوئی ایسے بچے کو گود لے، جس کے والدکاعلم نہ ہو تو، گود لینے والا عام بول چال میں یا کاغذات وغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کر سکتا، بلکہ کاغذات وغیرہ میں سر پرست کے کالم میں اپنا نام لکھے، حقیقی والد کے کالم میں ہر گز نہ لکھے، اگر جان بوجھ کر خود کو حقیقی باپ کہے یا لکھے گا، تو گناہ گار ہو گا۔

اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْؕ- وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖۙ-وَ لٰـكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(5)

ترجمۂ کنز الایمان: انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو اوراللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پارہ 21، سورۃ الاحزاب، آیت: 5)

اس آیت کے تحت تفسیر نور العرفان میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی لے پالکوں کے تمہیں باپ معلوم نہ ہو تب بھی انہیں مربی (پرورش کرنے والے) کا بیٹا نہ کہو۔۔۔ ممانعت کے بعد اگر تم دیدہ نستہ (جان بوجھ کر) لے پالکوں کو ان کے مربی کا بیٹا کہوں گے تو گنہگار ہوگے۔ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 667، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی امجدیہ میں فرماتے ہیں: تبنی کرنا یعنی لڑکا گود لینا شرعاً منع نہیں، مگر وہ لڑکا اس کا لڑکا نہ ہوگا بلکہ اپنے باپ کا ہی بیٹا کہلائے گا۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 365، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4654
تاریخ اجراء: 27 رجب المرجب 1447ھ / 17 جنوری 2026ء