شوہر کا کون سا حق بیوی پر سب سے زیادہ ہے؟
عورت پر سب سے زیادہ حق شوہر کا ہے اس سے کون سا حق مراد ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حدیث پاک میں ہے کہ عورت پر سب سے زیادہ حق شوہر کا ہے، اس سے کون سا حق مراد ہے؟ رہنمائی فرما دیں۔
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
زوجیت سے متعلقہ امور میں شوہر کا حق عورت پر اللہ و رسول(عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم)کے بعد تمام حقوق، یہاں تک کہ ماں باپ کے حق سے بھی زائد ہے، ان امور میں اس کے احکام کی اطاعت اور اس کی عزت کی حفاظت عورت پر اہم فرض ہے۔ہاں! اگر والدین یا شوہر وغیرہ کوئی بھی شریعت کے خلاف کام کرنے کا حکم دے، تو اس پر ہر گز عمل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔
عورت پر شوہر کا حق مقدم ہونے کے متعلق المستدرک للحاکم میں ہے
”عن عائشۃ رضی اللہ تعالٰی عنھا: قالت: قلت یارسول اللہ ای الناس أعظم حقا علی المرأۃ ؟ قال: زوجھا، قلت: فأی الناس أعظم حقا علی الرجل؟ قال: أمہ“
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!عورت پر لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ فرمایا: اس کے شوہر کا، میں نے عرض کی: مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ فرمایا: اس کی ماں کا۔ (المستدرک علی الصحیحین، جلد4، صفحہ167، حدیث: 7244، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امامِ اہلِ سنّت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ”اور عورت پر مرد کا حق خاص امورِ متعلقہ زوجیت میں اللہ و رسول (عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کے بعد تمام حقوق حتی کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے۔اِن امور میں اُس کے احکام کی اطاعت اور اُس کے ناموس کی نگہداشت عورت پر فرض اہم ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد24، صفحہ380، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اللہ پاک کی نافرمانی والے کام میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ صحیح مسلم میں ہے:
”قال: لا طاعة في معصية اللہ، إنما الطاعة في المعروف"
ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو فقط بھلائی میں ہے۔ (صحیح مسلم، صفحہ738، حدیث: 1840، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)
فتاوی رضویہ میں ہے ”اللہ عزوجل کی معصیت میں کسی کا اتباع درست نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد21، صفحہ 188، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
علامہ علی قاری حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”لانها كانت مأمورة إلى طاعة زوجها في غير معصية“
ترجمہ: کیونکہ گناہ والے کام کے علاوہ میں عورت کو شوہر کی اطاعت کرنے کا حکم ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد5، صفحہ2121، مطبوعہ: بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-4570
تاریخ اجراء:03 رجب المرجب1447ھ/24دسمبر2025ء