logo logo
AI Search

بیوی کو جیب خرچ دینا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیوی کو جیب خرچ دینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر شوہر اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کررہا ہو، مگر بیوی اس کے باوجود اپنے شوہر سے جیب خرچ طلب کرتی ہو، تو کیا شوہر پر بیوی کو جیب خرچ دینا لازم ہوگا یا نہیں؟ نیز اگر شوہر بیوی کو خرچہ دیتا بھی ہو لیکن اپنے گھر والوں کو بتا کر دیتا ہو جس کی وجہ سے گھر میں بہت زیادہ بحث اور جھگڑا ہوتا ہے۔ تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر شوہر اپنی بیوی کو بقدرِ کفایت کھانے پینے، پہننے کے کپڑے اور اُس کی ضروریاتِ زندگی سے متعلقہ دیگر چیزیں میسر کردیتا ہے، چاہے خود لا کر دیتا ہے، یا منگوا کر دے دیتا ہے کہ بیوی کو اُس کی ضروریات سے متعلق پیسوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی تو اِس صورت میں شوہر پر الگ سے بیوی کو جیب خرچ دینا شرعاً لازم نہیں۔ البتہ اگر شوہر اپنی حیثیت کے مطابق حسنِ سلوک کے طور پر بیوی کو ماہانہ کچھ جیب خرچ بھی دے دیا کرے جسے وہ اپنی ذاتی اور چھوٹے موٹے معاملات میں اپنی مرضی سے خرچ کر سکے، تو یہ نہایت قابلِ تحسین عمل ہے اور ا چھی نیت پر وہ ثواب کا مستحق بھی ہوگا، کیونکہ رضائے الہی کی نیت سے بیوی پر خرچ کرنا بھی اجر و ثواب کا باعث ہوتاہے۔ بسا اوقات عورت کو اچانک کسی ضرورت کا سامنا ہو جاتا ہے، ایسے میں یہ جیب خرچ اس کے لیے سہولت اور اطمینان کا سبب بنتا ہے۔ مزید یہ کہ خوشگوار ازدواجی زندگی محض شرعی حقوق کی ادائیگی سے قائم نہیں رہتی، بلکہ حسنِ معاشرت، باہمی محبت اور ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کے احترام سے پروان چڑھتی ہے۔ جس طرح بیوی محبت اور خیر خواہی میں بہت سے ایسے کام انجام دیتی ہے جو اس پر شرعاً لازم نہیں ہوتے، اسی طرح شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ صرف فرض و واجب تک محدود نہ رہے بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق خوش دلی سے بیوی پر خرچ کرے۔

نیز بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے حالات اور اُس کی آمدن کو بھی مدِنظر رکھے۔اگر شوہر کی آمدن کم ہے اور وہ بمشکل گھر کی بنیادی ضروریات کا انتظام کر پا رہا ہے، تو ایسی صورت میں اُس پر جیب خرچ اور اضافی خواہشات کا بوجھ نہ ڈالے بلکہ شوہر کے ساتھ تعاون کرے ۔نیز شوہر اگر گھر کے بڑے افراد مثلاً اپنے والدین کو بتاکر بیوی کو جیب خرچ دے رہا ہو تو بیوی کو اس پر ناراض نہیں ہونا چاہئے، اور ایسی صورت میں اگر بیوی کی طرف سے جھگڑا ہوتا ہے تو اسے اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور اگر سسرال والے عورت پر احسان جتانے اور اسے تنگ کرنے کی حرکتیں کرتے ہیں تو شوہر کے لئے بہتر ہے کہ گھر والوں کو نہ بتائے کہ رقم بھی دی اور لڑائی بھی کروائی تو فائدہ کیا ہوا ؟  بہرحال شوہر اور بیوی دونوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی ضرورت، عزتِ نفس اور جذبات کا لحاظ رکھیں اور معاملات کو خوش دلی اور حکمت کے ساتھ انجام دیں تاکہ گھر میں سکون اور آپس میں محبت  قائم رہے۔

شرعاً نفقے سے مراد کھانا پینا، لباس اور رہائش ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:

’’هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عياله.وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى)‘‘

ترجمہ: نفقہ لغت میں وہ خرچ جو انسان اپنے اہل و عیال پر کرے۔ اور شرعاًنفقہ تو وہ کھانا، لباس اور رہائش ہے۔ (تنویر الابصار مع درمختار، جلد  5، صفحہ 283، دارالمعرفۃ، بیروت)

فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:

”والنفقۃ الواجبۃ: الماکول والملبوس والسکنیٰ “

ترجمہ: واجب نفقہ تو وہ کھانے پینے کی اشیاء، پہننے کے کپڑے اور رہائش مہیا کرنا ہے۔  (فتاوی تاتار خانیہ، جلد 5، صفحہ 358، مطبوعہ ھند)

بدائع الصنائع میں ہے:

’’كل من وجبت عليه نفقة غيره يجب عليه له المأكل والمشرب والملبس والسكنى والرضاع إن كان رضيعا؛ لأن وجوبها للكفاية والكفاية تتعلق بهذه الأشياء‘‘

ترجمہ: جس شخص پر کسی دوسرے کا نفقہ واجب ہو، اس پر اس کے لیے کھانا، پینا، پہننے کے کپڑے اور رہائش مہیا کرنا لازم ہے، اور اگر وہ شیر خوار ہو تو اس کے لیے دودھ کا انتظام کرنا بھی لازم ہے؛ کیونکہ نفقہ کا وجوب کفایت (ضرورت پوری کرنے) کے لیے ہے، اور کفایت انہی چیزوں سے متعلق ہوتی ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 38، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ’’نفقہ سے مراد کھانا، کپڑا، رہنے کا مکان ہے اور نفقہ واجب ہونے کے تین سبب ہیں زوجیت(نکاح میں ہونا)۔ نَسب۔ مِلک‘‘۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 8، صفحہ 260، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہار شریعت ہی میں ہے: ’’شوہر کو خود ہی چاہیے کہ عورت کے مصارف اپنے ذمہ لے یعنی جس چیز کی ضرورت ہو لا کر یا منگا کر دے۔ اور اگر لانے میں ڈھیل ڈالتا ہے (یعنی تاخیر کرتا ہے) تو قاضی کوئی مقدار وقت اور حال کے لحاظ سے مقرر کردے کہ شوہر وہ رقم (بیوی کو) دے دیا کرے اور عورت اپنے طور پر خرچ کرے۔ اور اگر اپنے اوپر تکلیف اُٹھا کر عورت اس میں سے کچھ بچالے تووہ عورت کا ہے واپس نہ کریگی، نہ آئندہ کے نفقہ میں مُجرا دیگی(یعنی بچائی ہوئی رقم آئندہ کے نفقہ میں شامل نہ ہو گی) ‘‘۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 8، صفحہ 268، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بیوی پر خرچ کرنا اجر وثواب کا باعث ہے، چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک ہے:

”عن سعد بن أبي وقاص: أنه أخبره: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (إنك لن تنفق نفقة ‌تبتغي ‌بها ‌وجه ‌الله ‌إلا ‌أجرت ‌عليها، حتى ما تجعل في في امرأتك)“

ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جو بھی خرچ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کرو گے، اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جسے تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھتے ہو۔ (صحیح البخاری، جلد  1، صفحہ  30، رقم الحدیث: 56، دار ابن كثير، دار اليمامة - دمشق)

اس حدیث کی شرح میں امام سلیمان بن خلف باجی رحمۃ اللہ علیہ ’’المنتقی شرح الموطا‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’و قوله: و إنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه اللہ إلا أجرت بها حتى ما تجعل في في امرأتك يقتضي أن النفقة إذا أريد بها وجه اللہ و التعفف و التستر و أداء الحق و الإحسان إلى الأهل وعونهم بذلك على الخير من أعمال البر التي يؤجر بها المنفق و إن كان ما يطعمه امرأته، و إن كان غالب الحال أن إنفاق الإنسان على أهله لا يهمله و لا يضيعه و لا يسعى إلا له مع كون الكثير منه واجبا عليه‘‘

 ترجمہ: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ’’اور تم جو بھی خرچ اللہ کی رضا کے لیے کرو گے اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو‘‘ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جب خرچ سے اللہ کی رضا، پاکدامنی، پردہ داری، حق کی ادائیگی، اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور انہیں نیکی پر مدد دینا مقصود ہو تو یہ سب نیکی کے کاموں میں سے ہیں جن پر خرچ کرنے والے کو ثواب ملتا ہے، اگرچہ وہ اپنی بیوی کو کھانا ہی کیوں نہ کھلا رہا ہوحالانکہ عموماً انسان اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اور نہ اسے ضائع کرتا ہے، بلکہ اسی کے لیے کوشش کرتا ہے، باوجود اس کے کہ اس خرچ کا بڑا حصہ اس پر واجب بھی ہوتا ہے۔ (المنتقى شرح الموطا، جلد  6، صفحہ  158، مطبعة السعادة، مصر)

صحیح بخاری کی ایک دوسری حدیث پاک میں ہے:

’’عن أبي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا أنفق الرجل ‌على ‌أهله ‌يحتسبها فهو له صدقة‘‘

ترجمہ: حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے اور اس خرچ میں ثواب کی نیت رکھے تو وہ خرچ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری، جلد  17، صفحہ  30، رقم الحدیث: 55، دار ابن كثير، دار اليمامة - دمشق)

اس حدیث کی شرح میں امام احمد بن علی بن حجرعسقلانی ’’فتح الباری شرح صحیح البخاری‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قوله: يحتسبها قال القرطبي: أفاد منطوقه أن الأجر في الإنفاق إنما يحصل بقصد القربة سواء كانت واجبة أو مباحة،‘‘

ترجمہ: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ وہ ثواب کی نیت کرے۔ امام قرطبی نے فرمایا: اس کے منطوق سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خرچ کرنے میں ثواب صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس سے قربت الہی کی نیت کی جائے، خواہ وہ خرچ واجب ہو یا مباح۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 136، المكتبة السلفية، مصر)

علامہ عبدالمصطفٰی اعظمی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ’’جنتی زیور‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’میاں بیوی کی خوشگوار زندگی بسر ہونے کے لئے جس طرح عورتوں کو مَردوں کے جذبات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح مَردوں کو بھی لازم ہے کہ عورتوں کے جذبات کا خیال رکھیں ‘‘۔ (جنتی زیور، صفحہ 71،  مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1104
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم 1447ھ/18 فروری 2026ء