logo logo
AI Search

سوتیلے والدین کے کیا حقوق ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا حقیقی والدین کے بیان کئے گئے حقوق کا اطلاق سوتیلے والدین پر بھی ہوتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

شریعتِ مطہرہ کے اندر جو حقوق والدین کے حوالے سے ذکر کئے گئے ہیں، آیا اُن کا اِطلاق سوتیلے والدین پر بھی ہوتاہے؟ قطع نظر اِس بات سے کہ اُن کا برتاؤ آپ کے ساتھ کیسا ہے۔

جواب

والدین کے جو حقوق قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں، ان کا اصل اور کامل اطلاق حقیقی (سگے) والدین پر ہوتا ہے، کہ وہی انسان کے وجود کا ذریعہ ہیں، سوتیلے والدین کا اپنا کوئی حق نہیں، جو کچھ ہے، سگے والدین کے ذریعے سےہے، تو ان کے ساتھ برتاؤ میں، ایسی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے، جس سے سگے والدین کو تکلیف ہو، یعنی سوتیلی والدہ ہے، تو ایسی کوئی بات نہ ہو، کہ سگے والد کے لیے تکلیف کاباعث ہو، اور سوتیلا والد ہے، تو ایسی کوئی بات نہ ہو، کہ والدہ کے لیے تکلیف کاباعث ہو۔

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْـئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔ (القرآن، پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 36)

اس آیت کے تحت تفسیر نعیمی میں ہے چونکہ اللہ ہمارا خالق ہے اور ماں باپ خلق کا ذریعہ، نیز تمام مخلوق و قرابت داروں میں ماں باپ کا حق سب سے زیادہ ہے کہ تمام نسبتی رشتے ماں باپ کے ذریعے سے ہیں، نیز ماں باپ ہماری بے کسی کے وقت کے محسن ہیں اس لیے اپنی عبادت کے ساتھ ماں باپ سے سلوک کا حکم دیا۔ بِالْوَالِدَیْنِ سے پہلے احسنوا فعل پوشیدہ ہے۔ والدین سے مراد سگے ماں باپ ہیں، سوتیلے ماں باپ یوں ہی دادا دادی نانا نانی چچا وغیرہ ان سے خارج ہیں، کیونکہ قران مجید کی اصطلاح میں عموما والدین سگے ماں باپ کو فرمایا جاتا ہے۔ (تفسیر نعیمی، جلد 5، صفحہ 76، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: حقیقی ماں اور سوتیلی کے حقوق میں زمین آسمان کا فرق ہے، حقیقی ماں بذات خود مستحق ہرگونہ خدمت و ادب و تعظیم و اطاعت کی ہے اور اسے ایذا دینی معاذ اللہ و رسول کو ایذا دینی ہے، اور سوتیلی ماں کا اپنا ذاتی کوئی حق نہیں، جو کچھ ہے باپ کے ذریعہ سے ہے یعنی وہ بات نہ ہو جس میں باپ کو ایذاء ہو کہ باپ کی ایذاء اللہ و رسول کی ایذاء ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 368، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4919
تاریخ اجراء: 21 شوال المکرم 1447ھ / 10 اپریل 2026ء