بغیر اجازت میکے جانے والی عورت کے خرچے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بغیر اجازت میکے رہنے والی کے خرچے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں، کہ لڑکی اگر شوہر کی اجازت کے بغیر، اپنی ماں کے گھر جا کر بیٹھ جائے، جبکہ کوئی شرعی عذر بھی نہ ہو، تو کیا شوہر پر اس کو خرچہ دینا لازم ہے ؟
جواب
اگر تو صورت حال ایسی ہے، کہ عورت بغیر کسی شرعی وجہ کے، ناراضی اختیار کر کے، شوہر کی اجازت کے بغیر، اپنی والدہ کے گھر جا کر بیٹھ جاتی ہے، تو ایسی صورت میں شوہر پر اس کا نفقہ (خرچہ) دینا ضروری نہیں ہے، کیونکہ شوہر پر بیوی کا نفقہ، اس کے گھر میں احتباس (رکنے) کے عوض ہوتا ہے، اور اگر شوہر کی اجازت کے بغیر، بیوی کی جانب سے احتباس فوت ہو، (یعنی شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سے چلی جائے)، تو وہ ناشزہ (نافرمان) ہوتی ہے، اور ایسی بیوی جب تک اسی حالت میں رہے، تب تک بالاجماع نان و نفقہ کی مستحق نہیں ہوتی۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابیہ کے استفسار پر شوہر کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "وَلَا تخرج من بَيتهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِن فعلت لعنتها مَلَائِكَة السَّمَاء وملائكة الرَّحْمَة وملائكة الْعَذَاب حَتَّى ترجع" ترجمہ: وہ شوہر کی اجازت کے بغیر اپنےگھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتے اور رحمت و عذاب کے فرشتے اس پر لعنت بھیجیں گے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔ (الترغیب والترھیب، جلد 3، صفحہ 38، دار الكتب العلمية، بيروت)
کتاب الاصل میں ہے "وقال محمد: حدثنا أبو حنيفة عن حماد عن إبراهيم أنه قال: إذا كان الحبس من قبل المرأة فلا نفقة لها" اور امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا: ہمیں امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃنے حضرت حماد علیہ الرحمۃ سے اور انہوں نے حضرت ابراہیم نخعی علیہ الرحمۃ سے بیان کیا کہ فرمایا: جب رکنا عورت کی جانب سے ہو تو اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں۔ (کتاب الاصل، باب النفقۃ، جلد 10، صفحہ 329، مطبوعہ: بیروت)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے "(لا) نفقۃ لاحد عشر۔۔۔و(خارجۃ من بیتہ بغیر حق) وھی الناشزۃ حتی تعود" ترجمہ: اِن گیارہ عورتوں کے لیے نفقہ نہیں ہے۔ ان میں سے ایک وہ بھی ہے جو بلاوجہ شرعی اپنے شوہر کے گھر سے جانے والی ہے اور وہ نافرمان ہے یہاں تک کہ اپنے شوہر کے گھر لوٹ آئے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الطلاق، جلد 5، صفحہ 288، 289، مطبوعہ: کوئٹہ)
نفقہ حق احتباس کی وجہ سے ہے یعنی شوہر کی رضا مندی جہاں رکھنے کی ہے، وہاں رہنے پر شوہر کی فرماں برداری پوری کرنے کی وجہ سے لازم ہوتا ہے، ورنہ نہیں، چنانچہ محیط برہانی میں ہے ”أن النفقة انما تجب عوضاً عن الاحتباس فی بيت الزوج، فاذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً، أما اذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً وبدونه لا يمكن ايجاب النفقة“ ترجمہ: بیوی کا نفقہ شوہر کے گھر میں رکنے کے عوض واجب ہوتا ہے، اگر یہ احتباس کسی ایسی وجہ سے فوت ہو جائے، جو شوہر کی طرف سے ہو، تو اس احتباس کو تقدیرا باقی رکھنا ممکن ہے۔ (لہذا نفقہ بھی لازم رہے گا) اگر یہ احتباس کسی ایسی وجہ سے فوت ہو جائے جو بیوی کی طرف سے ہو، تو اس احتباس کو تقدیرا باقی نہیں مانا جا سکتا اور اس احتباس کے بغیر نفقہ بھی لازم نہیں ہو سکتا۔ (محیط برھانی، جلد 3، صفحہ 522، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”اسی طرح اگر اِن دنوں کا نفقہ مانگتی ہے جن میں وُہ بے اجازتِ شوہر اپنی ماں کے یہاں چلی گئی اور شوہر بلاتا رہا، نہ آئی، تو ان ایام کا نفقہ بھی بالاتفاق نہ پائے گی کہ اِس چلے جانے سے وُہ ناشزہ و نافرمان ہے اور ناشزہ کے لئے جب تک ناشزہ رہے بالاجماع نفقہ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، کتاب الطلاق، جلد 12، صفحہ 473، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: "عورت اگرچہ مالدار ہو اس کا نفقہ شوہر پر لازم ہوتا ہے جبکہ وہ اس کے یہاں رہے اور بلاوجہ شرعی میکے میں رہے تو اصلا نفقہ کی مستحق نہیں۔" (فتاوی رضویہ ، جلد13، صفحہ 461، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4993
تاریخ اجراء: 24 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 12 مئی 2026ء