حق تلفی کرنے والے کو یاد رکھیں یا معاف کردیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی نے حق تلفی کی ہو تو یاد رکھنا چاہئے یا معاف کردینا چاہئے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی نے ماضی میں ہمارے ساتھ برا سلوک کیا ہو، ہماری حق تلفی کی ہو، تو اسے یاد رکھنا چاہئے یا اسے معاف کردینا بہتر ہے؟
جواب
اگر واقعی کسی نے آپ کے ساتھ برا کیا ہے اور آپ کی حق تلفی ہوئی ہے تو اسے معاف کرکے ثواب کا حقدار بنا جائے، عام حالات میں یہی بہتر ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نادى مناد: ليقم من أجره على اللہ، فليدخل الجنة، ثم نادى الثانية: ليقم من أجره على اللہ، فليدخل الجنة قال: ومن ذا الذي أجره على اللہ عز وجل؟ قال: العافين عن الناس، ثم نادى الثالثة: ليقم من أجره على اللہ، فليدخل الجنة، فقام كذا وكذا ألفا، فدخلوها بغير حساب“ یعنی قِیامت کے روز اِعلان کیا جائے گا: جس کا اَجر اللہ پاک کے ذِمّہ کرم پر ہے، وہ اُٹھے اورجنَّت میں داخِل ہو جائے پھر دوبارہ اعلان ہوگا: جس کا اَجر اللہ پاک کے ذِمّہ کرم پر ہے، وہ اُٹھے اور جنَّت میں داخِل ہو جائے۔ پوچھا جائے گا: کس کے لیے اَجر ہے؟ اِعلان کرنے والا کہے گا: اُن لوگوں کے لیے جو مُعاف کرنے والے ہیں۔ پھر تیسری بار ندا دے گا: جس کا اَجر اللہ پاک کے ذِمّہ کرم پر ہے، وہ اُٹھے اورجنَّت میں داخِل ہو جائے، تو ہزاروں آدَمی کھڑے ہوں گے اور بِلا حساب جنَّت میں داخِل ہوجائیں گے۔ (المعجم الاوسط، الجزء الثانی، صفحہ 285، حدیث 1998، ۱ مطبوعہ: دار الحرمین)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2411
تاریخ اجراء: 25 صفر المظفر 1447ھ / 02 اگست 2025ء