logo logo
AI Search

Online Shopping Karte Waqt Card Payment Karna Kaisa ?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آن لائن شاپنگ میں سامان پہنچنے سے پہلے ہی پیمنٹ کرنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مختلف کمپنیز سے آن لائن سامان منگوانے کیلئے سامان آرڈر کرتے وقت ہی کارڈ پیمنٹ کی جاتی ہے یعنی سامان کی پیمنٹ پہلے ہو جاتی ہے اور سامان بعد میں دوسرے تیسرے یا چوتھے دن کسٹمر تک پہنچتا ہے کیا سامان کسٹمر تک پہنچنے سے پہلے ہی کارڈ پیمنٹ کرنا، جائز ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں کارڈ کے ذریعے پیمنٹ کی ادائیگی پہلے کر دینا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ جب مبیع و ثمن کی مقدار وغیرہ کی تعیین ہو جائے (یعنی جو چیز بیچی جارہی ہے اس کی مکمل وضاحت کردی گئی ہے کہ وہ کس طرح کی ہوگی اور جس قیمت پر خریدی گئی وہ بھی مقرر ہے) اور دیگر بیع کی تمام شرائط پائی جائیں تو اس کے بعد محض مبیع پر قبضہ نہ کرنے کی وجہ سے بیع فاسد نہیں قرار دی جائے گی، کیونکہ بیع کے صحیح ہونے کیلئے مبیع پر قبضہ کرلینا شرط نہیں، بلکہ بیع تو فقط ایجاب و قبول یا اس کے قائم مقام تعاطی وغیرہ کے ذریعے منعقد ہوجاتی ہے، البتہ اس طرح کی منقولی(move able) چیز پر قبضہ کئے بغیر آگے بیچنا جائز نہیں ہے کیونکہ آگے بیچنے کیلئے اس چیز پر قبضہ ضروری ہے۔

درمختار و رد المحتار میں ہے:

”(ويكون بقول أو فعل، أما القول فالإيجاب والقبول وهما ركنه)وفي البدائع: ركنه المبادلة المذكورة، وهو معنى ما في الفتح من أن ركنه الإيجاب والقبول الدالان على التبادل أو ما يقوم مقامهما من التعاطي، فركنه الفعل الدال على الرضا بتبادل الملكين من قول أو فعل“

ترجمہ: اور بیع قول یا فعل سے منعقد ہوتی ہے، بہرحال قول تو ایجاب و قبول ہے اور یہ دونوں اس کے رکن ہیں، اور بدائع میں ہے کہ اس کا رکن مبادلہ ٔمذکورہ ہے اور یہ معنا وہی ہے جو فتح میں ہے کہ بیع کا رکن ایجاب و قبول ہے جو کہ تبادلے یا جو اس کے قائم مقام ہو اس پر دلالت کرنے والا ہو یعنی تعاطی تو اس کا رکن ایسا فعل ہے جو کہ قول یا فعل کے ذریعے مبیع و ثمن کے تبادلہ کی رضامندی پر دلالت کرنے والا ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 04، صفحہ 504، دار الفکر، بیروت)

اسی میں ہے:

”(ولوالتعاطي من أحد الجانبين على الأصح) صورته أن يتفقا على الثمن ثم يأخذ المشتري المتاع، ويذهب برضا صاحبه من غير دفع الثمن، أو يدفع المشتري الثمن للبائع ثم يذهب من غير تسليم المبيع، فإن البيع لازم على الصحيح، حتى لو امتنع أحدهما بعده أجبره القاضي والمراد في صورة دفع الثمن فقط أن المبيع موجود معلوم لكن المشتري دفع ثمنه ولم يقبضه ط“

ترجمہ: اصح قول كے مطابق اگرچہ بیع تعاطی بائع و مشتری میں سے کسی ایک طرف سے ہو تب بھی منعقد ہو جاتی ہے اس کی صورت یہ ہے کہ وہ دونوں ثمن پر متفق ہوگئے پھر مشتری سامان کو لے لیتا ہے اور بائع کی رضامندی سے ثمن دئیے بغیر ہی چلا جاتا ہے یا مشتری بائع کو پہلے ثمن دے دیتا ہے پھر وہ مبیع کی تسلیم سے قبل ہی چلا جاتا ہے تو بیع صحیح قول کے مطابق لازم ہوگئی یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی منع کرے تو قاضی اس کو مجبور کرے گا اور صرف ثمن دے دینے والی صورت میں مراد یہ ہے کہ مبیع موجود و معلوم ہے لیکن مشتری نے اس کا ثمن دے دیا اور مبیع پر قبضہ نہیں کیا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 04، صفحہ 514، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

محقق ابن نجیم مصری رحمہ اللہ تعالی بحر الرائق میں ارشاد فرماتے ہیں:

”وفي القنية دفع إلى بائع حنطة خمسة دنانير ليأخذ منه حنطة، وقال له بكم تبيعها، فقال مائة بدينار فسكت المشتري، ثم طلب منه الحنطة ليأخذها، فقال البائع غدا أدفع إليك، ولم يجر بينهما بيع وذهب المشتري فجاء غدا ليأخذ الحنطة وقد تغير السعر فليس للبائع أن يمنعها منه بل عليه أن يدفعها بالسعر الأول. وفي هذه الواقعة أربعة مسائل: أحدها الانعقاد بالتعاطي. الثانية الانعقاد به في الخسيس والنفيس وهو الصحيح. الثالثة الانعقاد به من جانب واحد. والرابعة كما ينعقد بإعطاء المبيع ينعقد بإعطاء الثمن اهـ.“

ترجمہ: اور قنیہ میں ہے: گندم بیچنے والے کو پانچ دینار دئیے تاکہ اس سے گندم لے اور اس سے کہا کتنے میں دے رہے ہو؟ بائع نے کہا سو، ایک دینار کے بدلے، مشتری یہ سن کر خاموش ہوگیا پھر اس سے گندم لینے کے لیے طلب کی تو بائع نے کہا کل تمہیں دوں گا اور ان کے درمیان بیع پر عمل در آمد نہیں ہوا، مشتری چلا گیا پھر کل گندم لینے آیا جبکہ قیمت میں فرق آچکا تھا، تو بائع اسے گندم دینے سے منع نہیں کر سکتا بلکہ اس پر لازم ہے کہ کل کے ہی ریٹ پر اسے گندم سپرد کرے۔ اور اس مسئلہ میں چار مسائل ہیں، ان میں سے ایک تعاطی کے ذریعے بیع کا منعقد ہو جانا، دوسرا ہر نفیس و خسیس چیز میں تعاطی کے ذریعے بیع کا منعقد ہو جانا اور یہی صحیح ہے، تیسرا اس کے ذریعے ایک ہی جانب سے بیع کا منعقد ہو جانا، چوتھا بیع جس طرح مبیع کو دے دینے کی وجہ سے منعقد ہو جاتی ہے اسی طرح ثمن دے دینے کی وجہ سے بھی منعقد ہو جاتی ہے۔ (بحر الرائق، جلد 05، صفحہ 293، طبع دار الکتاب الاسلامی)

 اسی طرح بسا اوقات دو مختلف شہروں میں بیع کا انعقاد ہوتا ہے تو مبیع مشتری تک پہنچانے میں لا محالہ کچھ وقت لگ جاتا ہے اس سے بھی بیع پر کوئی فرق نہیں پڑتا، مجلۃ الأحکام میں ہے:

’’مطلق العقد یقتضی تسلیم المبیع فی المحل الذی ھو موجود فیہ حینئذ مثلاً لو باع رجل وھو فی إسلامبول حنطۃ التی فی تکفور طاغی یلزم علیہ تسلیم الحنطۃ الموقوتۃ فی تکفور طاغی ولیس علیہ أن یسلّمھا فی إسلامبول۔۔۔۔إذا کان المشتری لا یعلم أن المبیع فی أی محل وقت العقد وعلم بہ بعد ذلک کان مخیّرا إن شاء فسخ البیع وإن شاء أمضاہ وقبض المبیع حیث کان موجوداً‘‘

ترجمہ: مطلق عقد مبیع کے اس جگہ سپرد کرنے کا تقاضہ کرتا ہے جہاں بوقتِ عقد مبیع موجود ہو، مثلاً کسی شخص نے استنبول میں گندم بیچی جو اس وقت تکفور طاغی ( ترکی میں ایک مقام) میں تھی، تو اس پر تکفور طاغی میں ہی اس گندم کو فراہم کرنا لازم ہے استنبول میں نہیں۔۔۔۔ جب مشتری کو معلوم نہ ہو کہ مبیع بوقتِ عقد کس جگہ ہے اور اس کے بعد معلوم ہو تو اسے اختیار ہے چاہے تو بیع فسخ کردے یا بیع نافذ کردے اور مبیع کو وہیں سے وصول کرےجہاں وہ (بوقتِ عقد) موجود تھی۔ (مجلۃ الأحکام العدلیۃ مع شرحه درر الحكام جلد1صفحہ230 مطبوعه دار الكتب العلميه)

 فتاوٰی رضویہ میں ہے: ”بیع میں قبضہ شرط نہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 17، صفحہ 163، مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے: ”مشتری نے بائع کو ثمن ادا کردیا اور چیز بغیر لیے چلا گیا تو اس صورت میں  بھی بیع لازم ہوتی ہے کہ اگر ان دونوں میں  سے کوئی بھی رد کرنا چاہے تو رد نہیں کر سکتا قاضی بیع کو لازم کر دے گا۔ دام طے کرنے کی وہاں ضرورت ہے کہ دام معلوم نہ ہو اور اگر معلوم ہو جیسے بازار میں  روٹی بکتی ہے، عام طور پر ہر شخص کو نرخ معلوم ہے یا گوشت وغیرہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا ثمن لوگوں کو معلوم ہوتا ہے، ایسی چیزوں کے ثمن طے کرنے کی ضرورت نہیں ۔“

اسی میں ہے: ”دوکاندار کو گیہوں کے لیے روپے دیدیے اور اُس سے پوچھا روپے کے کتنے سیر اُس نے کہا دس سیر مشتری خاموش ہو گیا یعنی وہ نرخ منظور کر لیا پھر اُس سے گیہوں طلب کیے بائع نے کہا کل دوں گا مشتری چلا گیا دوسرے دن گیہوں لینے آیا تو نرخ تیز ہو گیا بائع کو اُسی پہلے نرخ سے دینا ہوگا۔ “ (بہار شریعت، جلد 02، صفحہ 623، طبع مکتبۃ المدینہ)

ہدایہ میں ہے:

”ومن اشترى شيئًا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه‘‘

ترجمہ: جس نے کوئی منقولی شے خریدی تو اس کے لیے بغیر قبضہ کیے بیچنا جائز نہیں۔ (هدايه جلد 6 صفحہ 471 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت )

یاد رہے کہ یہ بیع سلم نہیں، بیع مطلق ہے، کیونکہ بیع مطلق میں مبیع کا موجود ہونا ضروری ہے، اور یہاں ایسا ہی ہوتا ہے کہ مبیع فی الحال موجود ہوتی ہے ہاں یہ ہے کہ ادائیگی پہلے کردی گئی ہے اور مبیع پر فی الحال قبضہ نہیں اور یہ بیع مطلق کے منافی نہیں ہے، جیسا کہ جزئیات گزر چکے، اسی طرح بیع مطلق میں پورے ثمن پر فی الحال قبضہ کر لینا ضروری نہیں ہے، جبکہ بیع سلم کی صورتحال اس سے بہت مختلف ہے کیونکہ بیع سلم کی کچھ مخصوص شرائط ہیں جن کے بغیر وہ منعقد ہی نہیں ہوتی، جس کی کافی تفصیل بہار شریعت حصہ 11 بیع سلم کے بیان میں ہے، ان میں سے ایک شرط  مکمل ثمن فی الحال مسلم الیہ کو دے دینا اور مسلم الیہ کا اس پر قبضہ کر لینا ہے اس کے بغیر بیع سلم فاسد ہوجاتی ہے، اسی طرح بیع سلم میں فی الحال مبیع موجود نہیں ہوتی۔

در مختار میں ہے:

”(و) بقي من الشروط (قبض رأس المال) ولو عينا (قبل الافتراق) بأبدانهما“

ترجمہ: اور جو شرائط باقی بچیں ان میں ایک راس المال پر قبضہ کر لینا بھی ہے اگرچہ وہ عین ہو اور یہ قبضہ ان کے جسم جدا ہونے سے پہلے ہونا ضروری ہے۔ (الدر المختار مع رد المختارجلد07، صفحہ 489مطبوعہ دار المعرفہ بیروت)

اسی میں ہے:

”وشرعا (بيع آجل) وهو المسلم فيه (بعاجل) وهو رأس المال“

ترجمہ: اور شرعی اعتبار سے بیع سلم میعاد والی چیز یعنی مسلم فیہ کو فی الحال ادائیگی والی چیز یعنی راس المال کے بدلے میں بیچنا ہے۔ (الدر المختار مع رد المختار جلد 07 صفحہ 478 مطبوعہ دار المعرفہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ”ایک طرف عین ہو اور ایک طرف ثمن، اس کی دو صورتیں ہیں: اگر مبیع کا موجود ہونا ضروری ہو تو بیع مطلق ہے اور ثمن کا فورا دینا ضروری ہوتو بیع سلم ہے۔“

اسی میں چھٹی شرط بیان کی گئی ہے: ”اسی مجلس عقد میں راس المال پر مسلم الیہ کا قبضہ ہوجائے۔۔دو سو روپے کا سلم کیا ایک سو، اُسی مجلس میں دے دئیے اور ایک سو کے متعلق کہا کہ مسلم الیہ کے ذمہ میرا باقی ہے وہ اس میں محسوب کرلے تو ایک سو جو دئیے ہیں ان کا درست ہے اور ایک سو کا فاسد۔“ (بہار شریعت حصہ 11 صفحہ 795، 796مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )

اسی طرح بیع سلم میں اگر فورا دے دینا قرار پائے تو اس سے بھی بیع سلم جائز نہیں رہتی یعنی اس میں کم از کم ایک ماہ کی مدت کا مقرر ہونا ضروری ہے جبکہ بیع مطلق اس سے مختلف ہے، چنانچہ در مختار میں ہے: ”و اجل و اقلہ فی السلم شھر“ ترجمہ: اور مدت مقرر ہونا ضروری ہے اور سلم میں اس کی کم از کم مقدار ایک ماہ ہے۔ (الدر المختار مع رد المختار جلد07 صفحہ 486 مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ”مسلم فیہ دینے کی کوئی میعاد مقرر ہو اور وہ میعاد معلوم ہو فورا دے دینا قرار پایا تو یہ جائز نہیں، کم سے کم ایک ماہ کی میعاد مقرر کی جائے۔“ (بہار شریعت حصہ 11 صفحہ 797 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-310
تاریخ اجراء:18 شعبان المعظم 1445 ھ/29 فروری 2024ء