
دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کثرتِ درود کی فضیلت کتنی تعداد میں درود شریف پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے؟
سائل: سید عبد اللہ الفت (گلشن اقبال، کراچی)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حُصولِ برَکت، ترقیٔ معرِفت اور حُضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و سلم کا قُرب پانے کے لیے دُرود و سلام ایک بہترین ذریعہ ہے۔ کَثْرتِ درود سے کیا مُراد ہے؟ اس بارےمیں عُلَمائے کرام کے مختلف اَقوال ہیں، مثلا 313، 350، 500، 700 یا 1000 مرتبہ۔
اللہ تبارَکَ و تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿ اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ- یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴾
ترجمۂ کنز الایمان: ”بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اِس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔“ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت 56)
اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ”درود شریف کی بہت برکتیں اور فضیلتیں ہیں۔ حدیث شریف میں ہے، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا کہ جب درود بھیجنے والا مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ مسلم کی حدیث شریف میں ہے، جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار بھیجتا ہے۔ ترمذی کی حدیث شریف میں ہے ، بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ درود نہ بھیجے۔“ اللہ تبارَکَ و تعالیٰ نے قرآن پاک میں جہاں مسلمان مَردوں اور عورتوں کی مختلف خوبیاں ذکر کیں، وہیں ان کی ایک خوبی کثرتِ ذکر ارشاد فرمائی۔ چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ- اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا﴾
ترجمۂ کنز الایمان: ”اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں۔“ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت 35)
اس آیتِ پاک کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام، ایمان اورطاعت میں، قول اور فعل کے سچا ہونے میں، صبر، عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں، روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں، تو ایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔۔۔ ذکر کی کثرت کی صورتیں مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں اور ا س کی سب سے کم صورت یہ ہے کہ اَصحابِ بدر رضی اللہ عنہم کی تعداد کے برابر یعنی 313مرتبہ تسبیح وغیرہ پڑھ لینا کثرت میں شمار ہوتا ہے۔ ملخصا“ (صراط الجنان، ج 8، ص 32،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
عارف باللّٰہ علامہ یوسف بن اسماعیل نَبہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ورد فی عدة احاديث قوله صلى اللہ عليه و سلم”اكثروا من الصلاة على“ و لاسيما فی يوم الجمعة و ليلتها، قال ابو طالب المكى: اقل الاكثار ثلاث مائة مرة، قال الحافظ السخاوى: و لم اقف على مستنده فی ذلك و يحتمل ان يكون تلقى ذلك عن احد من الصالحين، اما بالتجارب أو بغيره او يكون ممن يرى ان الكثرة اقل ما تحصل بثلاث مائة، كما حكوا فى المتواتر قولاً ان اقل ما يحصل التواتر بثلاث مائة و بضعة عشر، و يكون هنا قد الغى الكسر الزائد على المئين و العلم عند اللہ تعالٰى اهـ و قال الامام الشعرانی فی كشف الغمة و نقلته عنه فى كتابی افضل الصلوات: قال بعض العلماء رضى اللہ عنهم و اقل الاكثار من الصلاة عليه صلى اللہ عليه و سلم سبع مائة مرة كل يوم و سبع مائة مرة كل ليلة و قال غيره اقل الأكثار ثلاث مائة وخمسون كل يوم و ثلاث مائة و خمسون كل ليلة اهـ
ترجمہ: کثیر احادیثِ کریمہ میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا یہ ارشاد آیا ہے کہ ”مجھ پر کثرت سے درود پڑھو“۔ خاص طور پر جمعہ کے دن اور رات میں (کثرتِ درود کی ترغیب ہے)۔ شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کثرت کی کم سے کم تعداد تین سو (300) مرتبہ ہے۔ علامہ سخاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کی سند معلوم نہیں ہو سکی اور ممکن ہے کہ انہوں نے یہ قول کسی نیک بزرگ سے لیا ہو، ان کے تجربے کی بنیاد پریا اس کے بغیر یا وہ ان حضرات میں سے ہوں، جن کی رائے یہ ہے کہ کثرت کی کم سے کم حد تین سو سے حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ انہوں نے حدیثِ متواتر کے متعلق ایک قول یہ بیان کیا ہے کہ کم سے کم تعداد جس سے تواتر حاصل ہوتا ہے، تین سو دس سے کچھ اوپر ہے اور یہاں شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ نے سینکڑوں سے زائد کسر (یعنی 300 سے اگلی گنتی) کو حذف کر دیا ہے اور حقیقت کا علم اللہ پاک کو ہے۔ امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب کشف الغمہ میں فرمایا ، جسے میں نے اپنی کتاب افضل الصلوَات میں انہی کے حوالے سے نقل کیا ہےکہ بعض علماء رضی اللہ عنہم نے فرمایا : نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر درود پاک کی کثرت کی کم سے کم تعداد ہر دن میں سات سو (700) مرتبہ اور ہر رات میں سات سو (700) مرتبہ ہے، جبکہ دوسرے بعض علماء نے فرمایا کہ ہر دن میں ساڑھے تین سو (350) مر تبہ اور ہر رات میں ساڑھے تین سو (350) مر تبہ ہے۔ (سعادۃ الدارین فی الصلاۃ علی سیِّد الکَونَین، المسئلۃ السابعۃفی اقل الاکثار من الصلاة عليه صلى الله عليه و سلم، ص 29، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
خاتَم المحدثین علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی قادِری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود بھیجنے کے فضائل بے شمار ہیں، جو قلم و زبان سے ادا نہیں کیے جا سکتے۔۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر صلوٰۃ (یعنی درود) بھیجنا ذکرِ الٰہی اور شکرِ باری (یعنی اللہ پاک کا ذکر کرنے اور شکر ادا کرنے) کو بھی شامل ہے۔۔۔ اب مؤمنِ صادق اور مشتاق محب پر لازم آتا ہے کہ اس عبادت کی کثرت اور دوسرے اعمال (یعنی نفلی کاموں) پر فضیلت دینے میں کوتاہی نہ کرے۔ جتنا بھی ہو، ایک تعدادِ مخصوص میں (جس پر آسانی سے ہمیشگی ہو سکے) ہر روز کا وظیفہ کر لے۔ بہتر تو یہ ہے کہ ہزار (1000) سے کم نہ ہو۔ اگر نہ ہو سکے، تو پانچ سو (500) پر اکتفا کرے۔ یہ بھی نہ ہو سکے، تو سو (100) سے کبھی کم نہ کرے۔ بعضوں نے تین سو (300) کو پسند کیا ہے اور بعض حضرات نے دو سو (200) بعد نمازِ صبح و شام (یعنی دو سو نمازِ فجر کے بعد اور دو سو نمازِ مغرب کے بعد) مقرر کیا ہے۔ سوتے وقت بھی کچھ درود شریف کا وظیفہ مقرر کر لینا چاہیے۔ جب کوئی مؤمن کثرت سے درود شریف کی عادت کرتا ہے، تو پھر اس پر آسان بھی ہو جاتا ہے۔ بعض درود ایسے ہیں کہ ایک ہزار کی تعداد پوری کرنی بہت آسان ہے۔ جب درود شریف کی لذت و شیرینی طالب کی روح کو پہنچتی ہے، تو اس کی روح کا قِوام اور قوت قوی ہو جاتی ہے۔ اس مؤمن پر تعجب ہے، جو اپنے شب وروز میں سے ایک ساعت (یعنی تھوڑا سا وقت) بھی اس عبادت میں صَرف نہ کرے ، جو جملہ (یعنی تمام) انوار و برَکات کا سَر چشمہ ہے۔ ملخصا“ (جذب القلوب (مترجم) المعروف تاریخِ مدینہ، سترھواں باب، ص 306 ۔ 309، مطبوعہ اکبر بُک سیلرز، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2767
تاریخ اجراء: 19 شوال المکرم 1446ھ / 18 اپریل 2025ء