logo logo
AI Search

کیا 14 شعبان روحیں گھر آتی ہیں اور فوت شدہ افراد کی عید ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا 14شعبان مرحومین کی عید ہوتی ہے اور اس دن روحیں گھروں میں آتی ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ 14شعبان المعظم فوت شدہ افراد کی عید ہوتی ہے اور اس کو مردہ عید کہتے ہیں، اور روحیں اپنے گھروالوں کے پاس آتی ہیں اسی وجہ سے مختلف انواع کے کھانے بنا کر لوگ فاتحہ وغیرہ کا اہتما م بھی کرتے ہیں اس بارے میں آپ رہنمائی فرمائیں

سائل:حافظ شہزاد(ریگل صدر،کراچی)

جواب

14 شعبان المعظم کو فوت شدہ افراد کے لئے عیدکا دن کہنے کی شرعاً کوئی اصل نہیں اور روحوں کا گھروں پر آنے کے بارے میں بعض روایات میں منقول ہے کہ شب براءت، عید کے دن، جمعہ اور عاشور وغیرہ ایام میں روحیں اپنے گھروں کی طرف آتی ہے اور ان سے ایصال ثواب کا تقاضا کرتی ہیں، لہذا اس دن فاتحہ کا اہتما م کرکے ایصال ثواب کرنا بھی جائز ومستحسن عمل ہے۔

یاد رہے کہ ایصال ثواب کے لئے مختلف کھانوں کا اہتمام کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ صدقہ خیرات، اسی طرح غریبوں کی مدد یا کسی بھی طرح کے نیک اعمال (تلاوت قرآن پاک، نوافل، درود شریف، ذکراللہ وغیرہ) کرکے بھی ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے اور جو کھانے کا انتظام کر کے فاتحہ دلاتے ہیں وہ بھی جائز و مستحب ہے اور اس میں کوئی ممانعت نہیں۔

اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں فتاویٰ امام نسفی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

ارواح المومنین یاتون فی کل لیلۃالجمعۃ و یوم الجمعۃ۔۔۔

یعنی بے شک مسلمانو ں کی روحیں ہر جمعہ کی رات اور دن کو اپنے گھر آتی ہیں۔ آگے  خزانۃ الروایات کے حوالے سے لکھتے ہیں:

عن ابن عباس اذا کان یوم عید او یوم جمعۃ او یوم عاشوراءو لیلۃ النصف من الشعبان تاتی ارواح الاموات یقومون علی ابواب بیوتھم  فقولون ھل من احد یذکرنا ھل من احدیترحم علینا ھل من احد یذکر غربتنا

یعنی ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے جب عید، جمعہ یا عاشور کا دن یا شب براءت آتی ہے تو میتوں کی روحیں اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہوتی ہیں اور کہتی ہیں کہ کیا کوئی ایسا ہے جو ہمیں یاد کرے، ہم پر رحم کھائے اور ہماری بے آسودگی یاد کرے۔ (فتاوی رضویہ، جلد09، صفحہ653، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نوٹ! فتاویٰ رضویہ،ج9 میں امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اس موضوع پر مکمل رسالہ بنام اتیان الارواح لدیارھم بعدالرواح تحریر فرمایا ہے، اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔

مجیب: مولانا شفیق صاحب زید مجدہ
مصدق: مفتی قاسم صاحب مدظلہ العالی
فتویٰ نمبر: Aqs-723
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1437ھ/18مئی2016ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم