بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوالکیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کونڈوں کا ختم شریف حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے لیے ہے یا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے؟ کیا یہ ختم دلانا، جائز ہے؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ 22 رجب کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا ہے، حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا نہیں ہوا، کونڈوں کا ختم دلانا بدمذہبوں کا طریقہ ہے۔ یعنی وہ اس کے ذریعے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کی خوشی مناتے ہیں، لہٰذا ہمیں اس سے بچنا چاہئے کہ ان سے مشابہت نہ ہو۔ جبکہ سنی بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ کونڈوں کا ختم دلانا، جائز ہے۔ اب آپ رہنمائی فرمادیں کہ صحیح کیا ہے؟
جوابمسلمان عام طور پر 22 رجب کو بالخصوص حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایصال ثواب کیلئے ہی کھانے وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں اور قرآن مجید و فاتحہ وغیرہ پڑھواتے ہیں، جس کو ”کونڈے“ کہا جاتا ہے۔ یہ شرعاً بالکل جائز ہے۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کونڈوں کے متعلق فرماتے ہیں: اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں، یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کر رکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے۔ (بهار شریعت ،جلد3،حصہ 16،صفحہ643، مکتبۃ المدینہ ،کراچی )
مزید فرماتے ہیں: امام جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کونڈے بھرنا اور اس پر فاتحہ وغیرہ پڑھ کر ایصال ثواب کرنا جائز ہے۔ اس کی اصل یہی ہے کہ ایصال ثواب جائز ہے۔ حدیث اور فقہ سے اس کا جواز ثابت ہے جب تک کسی خاص صورت میں ممانعت ثابت نہ ہو۔ اس کو ناجائز بتانا اللہ ورسول اور شریعت پر افترا کرنا ہے۔ (فتاوی امجدیہ ، جلد1، حصہ 1، صفحہ365، مکتبہ رضویہ، کراچی)
مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رجب کے کونڈوں کے بارے فرماتے ہیں: اس مہینہ کی۲۲تاریخ کو ہندو پاک میں کونڈے ہوتے ہیں یعنی نئے کونڈے منگائے جاتے ہیں اور سوا پاؤ میدہ، سوا پاؤشکر، سوا پاؤ گھی کی پوریاں بنا کر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرتے ہیں۔ (اسلامی زندگی، صفحہ76، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مزید فرماتے ہیں: رجب کے مہینہ میں۲۲ تاریخ کو کونڈوں کی رسم بہت اچھی اور برکت والی ہے۔ مگر اس میں سے یہ قید نکال دو کہ فاتحہ کی چیز باہر نہ جائے اور لکڑی والے کا قصّہ ضرور پڑھا جائے۔ (اسلامی زندگی، صفحہ80، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
محض اس بات کی وجہ سے اس ختمِ پاک کو ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا کہ 22 رجب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کا دن ہے۔ اس دن حضرت امام جعفر صاد ق رضی اللہ عنہ کا وصال نہیں ہوا، کیونکہ اولاً تو 22 رجب کو حضرت امیر معاویہ کی تاریخ وفات قرار دینا کوئی یقینی امر نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کی تاریخ وفات کے بارے منقول اقوال میں سے ایک قول ہے، کیونکہ مؤرخین کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال شریف ساٹھ ہجری میں ہوا، لیکن تاریخ کیا تھی؟ اس میں چار اقوال ہیں: (1) یکم رجب المرجب (2) 4 رجب المرجب (3) 15 رجب المرجب (4) 22 رجب المرجب۔
المحبر، جلد1، صفحہ21 پر آپ کی تاریخ وفات یکم رجب، مشاہیر علماء الامصار، جلد1، صفحہ86 پر 15 رجب اور تاریخ خلیفہ بن خیاط، جلد1، صفحہ 226 پر 22 رجب لکھی ہے جبکہ تاریخ طبری جلد5، صفحہ 324 پر مذکورہ تینوں اقوال اور البدایہ والنہایہ میں چارا قوال مذکور ہیں۔ البدایہ والنہایہ میں ہے:
لا خلاف أنہ رضی اللہ عنہ، توفی بدمشق فی رجب سنۃ ستین.فقال جماعۃ: لیلۃ الخمیس للنصف من رجب سنۃ ستین. وقیل:لیلۃ الخمیس لثمان بقین من رجب سنۃ ستین.قالہ ابن إسحاق وغیر واحد.وقیل:لأربع خلت من رجب.قالہ اللیث.وقال سعد بن إبراهیم:لمستهل رجب
ترجمہ: اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رجب 60 ہجری میں دمشق میں وصال فرمایا۔ ایک جماعت کا قول ہے کہ جمعرات کی رات 15 رجب 60 ہجری کو، ایک قول یہ ہے کہ جمعرات کی رات 22 رجب 60 ہجری کو، یہ ابن اسحاق اوردیگر کا قول ہے، ایک قول ہے کہ 4 رجب کو، یہ لیث کا قول ہے، سعد بن ابراہیم نے کہا: یکم رجب کو۔ (البدایہ والنهایہ، ترجمۃ معاویہ، جلد11، صفحہ458، دارهجر)
اگر بالفرض 22 رجب ہی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کا دن ہو، تب بھی اس وجہ سے اس دن حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ایصال ثواب کرنا ممنوع نہیں ہو سکتا کہ ایک دن میں کسی بزرگ کا انتقال ہونا، اس دن کسی دوسرے بزرگ کو ایصال ثواب کرنے کی ممانعت کی وجہ نہیں بن سکتا۔ اسی طرح اِس دن حضرت امام جعفر کا وصال نہ ہونے سے اس دن آپ کو ایصال ثواب کرنا تو ممنوع نہیں ہو جائے گا کہ ایصال ثواب احادیث سے مطلقا ثابت ہے۔ جب بھی کیا جائے درست ہے۔ چاہے وہ وصال کا دن ہو یا نہ ہو اور یہ بات بالکل واضح ہے۔
مزید یہ کہ کونڈوں کے ختم کو بد مذہبوں کا طریقہ کہہ کرممنوع قرار دینا اور اس سے بدمذہبوں سے تشبہ سمجھنا بھی باطل ہے، کیونکہ کفار و بدمذہبوں سے مشابہت کے ممنوع ہونے کے بارے قاعدہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ وہی تشبہ ممنوع ہے جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو یا وہ شے ان بد مذہبوں کا شعارخاص ہو یا اس چیز میں فی نفسہ شرعاً کوئی حرج ہو، بغیر ان صورتوں کے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں۔ درمختار اور بحرالرائق میں ہے:
(والنظم للثانی) التشبیہ بأھل الکتاب لا یکرہ فی کل شیء وإنا نأکل ونشرب کما یفعلون إنما الحرام ھو التشبہ فیما کان مذموما وفیما یقصد بہ التشبیہ کذا ذکرہ قاضی خان فی شرح الجامع الصغیر
ترجمہ: ہرچیز میں اہل کتاب سے مشابہت مکروہ نہیں جیسے ہمارے اور ان کے کھانے پینے کے طور طریقے۔ ان سے تشبہ اُن کاموں میں حرام ہے جو مذموم یعنی برے ہیں یا جن میں مشابہت کا ارادہ کیا جائے، امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر میں ایسے ہی ذکر فرمایا ہے۔ (البحرالرائق، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیها، جلد2، صفحہ11، دارالکتاب الاسلامی)
علامہ ملا علی قاری منح الروض میں فرماتے ہیں:
اناممنوعون من التشبیہ بالکفرۃ واھل البدعۃ المنکرۃ فی شعارھم لامنھیون عن کل بدعۃ ولوکانت مباحۃ سواء کانت من افعال اھل السنۃ اومن افعال الکفر واھل البدعۃ فالمدار علی الشعار
ترجمہ: ہمیں کافروں اورمنکر بدعات کے مرتکب لوگوں کے شعار کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے، ہر بدعت میں مشابہت سے منع نہیں کیا گیا ہاں اگر وہ بدعت جو مباح کا درجہ رکھتی ہو اس سے نہیں روکا گیا خواہ وہ اہل سنت کے افعال ہوں یا کفار اوراہل بدعت کے۔ لہٰذا مدارِ کار شعار ہونے پرہے۔ (منح الروض الازهر علی الفقہ الاکبر، فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ، التشبہ بغیر المسلمین، صفحہ496، دارالبشائر الاسلامیہ)
یہاں پر تشبہ کی نیت کا نہ ہونا تو ظاہر ہے اور مدعی نے اس کو وجہ ممانعت بھی نہیں قرار دیا اور فی نفسہ ایصال ثواب کرنے میں شرعی طور پر کوئی قباحت بھی نہیں۔ رہی یہ بات کہ کونڈوں کا ختم دلانا بدمذہبوں کا شعار خاص ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان کا شعارخاص نہیں ہے، بلکہ 22 رجب کو کونڈوں کا ختم دلانا بہت مقامات پر سنی مسلمانوں میں بھی رائج ہے۔ ہاں جو شخص اس کا دعوی کرے کہ کونڈوں کا ختم بدمذہبوں کا شعارخاص ہے، تو اس پر لازم ہے کہ ثبوت پیش کرے ورنہ بدمذہبوں کے ہر فعل سے مشابہت ممنوع نہیں۔ سیدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نماز عید کے بعد معانقہ کے عدم جواز پربطور دلیل پیش کی ہوئی ایک عبارت، جو اس بات پر مشتمل تھی کہ ’نمازکے بعد مصافحہ کرنا سنت ِروافض ہے‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یوں ہی مصافحہ بعد نماز فجر وعصر اگر کسی وقت کے روافض نے ایجاد کیا اور خاص ان کا شعار رہا ہو، اور بدیں وجہ اس وقت علماء نے اہلسنت کے لئے اسے ناپسند رکھا ہو تو معانقہ عید کا زبردستی اسی پر قیاس کیونکر ہو جائے گا، پہلے ثبوت دیجئے کہ یہ ’’رافضیوں کا نکالا اور انہیں کا شعار خاص ہے۔‘‘ ورنہ کوئی امر جائز کسی بدمذہب کے کرنے سے ناجائز یا مکروہ نہیں ہوسکتا۔ لاکھوں باتیں ہیں جن کے کرنے میں اہلسنت وروافض بلکہ مسلمین وکفار سب شریک ہیں۔ کیا وہ اس وجہ سے ممنوع ہو جائیں گی؟
بحرالرائق ودرمختار و ردالمحتار وغیرہا ملاحظہ ہوں کہ بد مذہبوں سے مشابہت اُسی امر میں ممنوع ہے جو فی نفسہٖ شرعا مذموم یا اس قوم کا شعار خاص یا خود فاعل کو ان سے مشابہت پیدا کرنا مقصود ہو ورنہ زنہار وجہ ممانعت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد8، صفحہ624، رضا فاؤنڈیشن،لاهور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب:مفتی ھاشم صاحب مدظلہ العالی
فتوی نمبر:Lar-3879
تاریخ اجراء:21رجب المرجب 1441ھ/17مارچ2020ء