logo logo
AI Search

قبر پر عرقِ گلاب چھڑکنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قبر پر گلاب کا عرق چھڑکنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ قبروں پر عرق گلاب چھڑکنا کیسا ہے؟ کیا اس سے میت کو فائدہ پہنچتا ہے اور کیا اس سے عذاب قبر دور ہونے کی بھی کوئی فضیلت ہے؟

جواب

بلا مقصد قبروں پر عرقِ گلاب چھڑکنا فضول اور مال کا ضیاع ہے، جو شرعاً جائز نہیں، نیز اس کا میّت کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا اور نہ اس سے عذاب قبر دور ہونے کی کوئی فضیلت واردہے۔ البتہ میت دفن کرتے وقت قبر کے اندرعرقِ گلاب چھڑکنے میں حرج نہیں، اسی طرح قبر کے اوپر اس غرض سے چھڑکنا، کہ وہاں فاتحہ خوانی وغیرہ کے لیےموجود افراد کو خوشبو پہنچے گی، تو پھر یہ اسراف نہیں۔

یہ حکم تو عام قبروں کے حوالے سے تھا، جبکہ مزارات اولیاء پر بنیت تعظیم عرقِ گلاب چھڑکنا جائز و مستحسن ہے، کہ اولیائے کرام کی تعظیم شعائر اللہ کی تعظیم میں داخل ہے، نیز اس میں زائرین کے لئے بھی نفع ہے، کہ انہیں خوشبو پہنچے گی۔

قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالی ہے:

وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ

ترجمۂ کنز العرفان: اور فضول خرچی نہ کرو بیشک وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (پارہ8، الانعام، الآیۃ: 141)

حدیث پاک میں ہے:

ان اللہ کرہ لکم ثلاثا: قیل وقال واضاعۃ المال و کثرۃ السوال

ترجمہ: بیشک اللہ تعالی کو تمہارے لئے تین چیزیں ناپسند ہیں: فضول گفتگوکرنا اور مال کو ضائع کرنا اور کثرت سے سوال کرنا۔ (صحیح البخاری، ج 2، ص 124، حدیث 1477،دار طوق النجاۃ، بیروت)

قبر پر پانی چھڑکنے کے حوالے سے اعلی حضرت، امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:  بعدِ دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے اور اگر مرورِ زمان (زمانہ گزرنے کے سبب) سے اس کی خاک منتشر ہوگئی ہو اور نئی ڈالی گئی یا منتشر ہوجانے کا احتمال ہو، تو اب بھی پانی ڈالا جائے کہ نشانی باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے۔ اس کے لئے کوئی دن معین نہیں ہو سکتا ہے، جب حاجت ہو، اور بے حاجت پانی کا ڈالنا ضائع کرنا ہے اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں اور عاشورہ کی تخصیص محض بے اصل و بے معنی ہے۔  (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 373، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

قبر پر عرقِ گلاب چھڑکنے کے حوالے سے اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قبر میں گلاب وقتِ دفن کے چھڑکنے میں حرج نہیں اور اوپر چھڑکنا فضول اور مال ضائع کرنا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 613، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

قبر کے پاس فاتحہ خوانی کرنے والے موجود ہوں، تو ان کےلیے خوشبو سلگانے کے حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے: عود لوبان وغیرہ کوئی چیز نفسِ قبر پر رکھ کرجلانے سے احتراز چاہئے اگر چہ کسی برتن میں ہو۔۔۔ اور قریب قبر سلگا کر اگر وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوں نہ کوئی تالی یا ذاکر ہو بلکہ صرف قبر کے لیے جلا کر چلاآئے تو ظاہر منع ہے کہ اسراف و اضاعتِ مال ہے۔۔۔ اور اگر بغرض حاضرین وقت فاتحہ خوانی یا تلاوت قرآن مجید وذکر الہٰی سلگائیں، تو بہتر و مستحسن ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 482، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اولیائے کرام کی تعظیم شعائر اللہ کی تعظیم میں داخل ہے، چنانچہ علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

قال تعالى(وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ) و شعائر اللہ هي الأشياء التي تشعر أي تعلم به تعالى كالعلماء و الصالحين أحياء و أمواتا و نحوهم. ومن تعظيمهم بناء القباب على قبورهم

ترجمہ: اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا (اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔) اور اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ اشیاء ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالی کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ علماء اور صالحین، چاہے زندہ ہو ں یا وفات پا چکے ہوں اور انہی کی مثل۔ ان کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی قبور پر گنبد بنائے جائیں۔ “(کشف النور عن اصحاب القبور، ص 44،دار الآثارالاسلامیہ، بربلی، سری لانکا)

اولیائے کرام کے مزارات پر خوشبو استعمال کرنے میں ان کی تعظیم ہے۔ فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد الامجدی رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: حضرت خواجہ اجمیری رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے بزرگ کی چوکھٹ کو عطر کے ساتھ رومال سے صاف کرنا جائز ہے، کہ اس میں اس بزرگ کی تعظیم ہے اور ہر بزرگ کی تعظیم جائز و مستحسن ہے۔ (فتاوی فیض الرسول، ج 2، ص 552، شبیر برادرز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7686
تاریخ اجراء: 28 جمادی الاولی 1447ھ / 20 نومبر 2025ء