Cement Ka Farsh Sookhne Se Pak Hoga Ya Nahi?

سیمنٹ کافرش سوکھنے سے پاک ہوگایانہیں؟

مجیب:مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر:WAT-3524

تاریخ اجراء:29رجب المرجب1446ھ/30جنوری 2025ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

   اگر سیمنٹ کے فرش پر بچہ چھوٹا پیشاب کر دے تو تھوڑی دیر بعد ہی پیشاب سوکھ جاتا ہے، تو کیا پیشاب سوکھ جانے کے بعد جگہ پاک ہو جائے گی یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

   پوچھی گئی صورت میں  اگرتوپیشاب کے سوکھ جانے کے بعداس کااثر(رنگ وبو)ختم ہوگیاتووہ جگہ سوکھنے کے بعد پاک ہو گئی، کیونکہ زمین ناپاک ہو جائے اور ہوا وغیرہ سے سوکھ جائے اور اس پر نجاست کا کوئی اثر مثلا رنگ، بو باقی نہ رہے، تو وہ پاک ہو جاتی ہے اور وہاں نماز جائز ہوتی ہے، البتہ! جب تک اسے دھویا نہ جائے، تب تک وہاں سے تیمم نہیں ہو سکتا۔

   فتاوی ہندیہ میں ہے: ”الارض تطهر باليبس وذهاب الاثر للصلاة لا للتیمم“ ترجمہ: زمین سوکھ جانے اور نجاست کا اثر ختم ہو جانے سے نماز پڑھنے کے لیے پاک ہو جاتی ہے ، تیمم کرنے کے لیے نہیں۔(الفتاوی الھندیۃ، ج1، ص44، دارالفکر، بیروت)

   بہارِ شریعت میں ہے: ”ناپاک زمین اگر خشک ہوجائے اور نجاست کا اثر یعنی رنگ و بو جاتا رہے ، پاک ہوگئی، خواہ وہ ہوا سے سوکھی ہو یا دھوپ یا آگ سے مگر اس سے تیمم کرنا، جائز نہیں، نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں۔“(بہار شریعت، ج01، حصہ2، ص401، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم