فرض نماز کے بعد دعا نہ مانگنا کیسا؟
فرض نماز کے بعد دعا نہ مانگنا
فتوی نمبر:WAT-404
تاریخ اجراء:15 جمادی الاخری 1443ھ/19جنوری 2022
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی فرض نماز کے بعد دعانہ مانگنےکی عادت بنالے تو وہ گنہگار ہوگا یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
فرض نماز کے بعد دعا مانگنا مستحب ہے اور اس وقت دعا زیادہ قبول ہوتی ہے جیسا کہ ترمذی شریف میں روایت ہے: پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت کی دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے؟ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات کے اخیر حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد۔ البتہ فرض نماز کے بعد دعانہ مانگنا اور اس کی عادت بنانا گناہ تو نہیں ہے مگر ایک بڑی سعادت سے محرومی ضرور ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ
المتخصص فی الفقہ الاسلامی
ابو احمد محمد انس رضا عطاری مدنی