کیا واجب الاعادہ نوافل میں قیام فرض ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
واجب الاعادہ نوافل میں قیام کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سائل: حاجی محمد عمر عطاری (فیصل آباد)
جواب
وه نوافل جن کو شروع کر کے توڑ دیا یا کسی بھی سبب سے واجب الاعادہ ہو گئے، انہیں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں، البتہ افضل یہ ہے کہ جب تک کوئی عذر نہ ہو کھڑے ہو کر پڑھے جائیں کہ بلاعذر بیٹھ کر نوافل پڑھنے سے ان کا ثواب آدھا رہ جاتا ہے۔
مسئلہ کی تفصیل:
(1) بلا شبہ فرض، واجب اور سنتِ فجر میں قیام فرض ہے، مگر واجب کی دو قسمیں ہیں: (1) واجب لعینہٖ: وہ جو اللہ تعالیٰ کے واجب کرنے سے واجب ہو، اس میں بندے کا اپنا کوئی دخل نہ ہو، جیسے نمازِ وتر اور عید ین۔ (2) واجب لغیرہٖ: وہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب نہ ہو، بندے نے خود اپنے اوپرواجب کیا ہو، جیسے منت اور طواف کے نفل اور ایسی نفل نماز جسے شروع کر کے فاسد کر دیا ہو اور اس کا اعادہ واجب ہو۔
وہ نمازیں جو واجب لعینہٖ ہیں، ان میں قیام فرض ہے، لیکن وہ نفل نماز جسے شروع کرنے کے بعد فاسد کر دیا یا کسی بھی سبب سے اس کااعادہ واجب ہو گیا ، تو اگرچہ اس کی ادائیگی واجب ہے، مگر یہ واجب لعینہٖ نہیں کہ اس میں قیام فرض ہو، بلکہ یہ واجب لغیرہ ہے اورایسی نماز کے متعلق فقہائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ یہ اپنی اصل کے اعتبار سے نفل ہی ہے، تاہم ذمہ پر لازم ہونے کے لحاظ سے واجب ہوجاتی ہے، یعنی قیام فرض نہ ہونے اور فجر و عصر کے بعد ادائیگی ممنوع ہونے وغیرہ میں نفل نماز کے حکم میں باقی رہتی ہے اور چونکہ نفل نماز میں قیام فرض نہیں، بلکہ ایک زائد وصف ہے، تو اس نماز میں بھی قیام فرض نہیں ہوگا، بلکہ اسے بیٹھ کر ادا کرنا بھی درست ہے۔
(2) اس مسئلہ کے فقہی نظائر طواف اور منت کے نوافل ہیں۔ منت کے نوافل کے متعلق فقہائے کرام نے صراحت فرمائی کہ اگر کسی نے منت مان کر اپنے اوپر نوافل واجب کر لیے، تب بھی ان میں قیام فرض نہیں ، بلکہ بیٹھ کر بھی پڑھ سکتا ہے کہ فقط نوافل کے لزوم سے اس کا وصفِ زائد از خود لازم نہیں ہوگا۔ ہاں! اگر کھڑے ہو کر ہی پڑھنے کی منت مانی ، توقیام بھی لازم ہوگا۔
(3) مسئلہ ما نحن فیہا کی قریب ترین صورت کی صراحت خود امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، وہ یہ کہ اگر کسی نے نفل نماز شروع کی اور دورانِ نماز بلا عذر قیام چھوڑ دیا اور بیٹھ کرپڑھنے لگا، تو یہ شرعاً کیسا ہے؟ اس کے متعلق ائمہ ثلاثہ کا اختلاف ہے، صاحبین علیہما الرحمۃ فرماتے ہیں کہ چونکہ اس نے نفل شروع کر کے واجب کر لیے اور شروع قیام کے ساتھ کیے، اس لیے اس پر قیام کے ساتھ ہی مکمل کرنا ضروری ہے، بلا عذر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا، جس طرح کوئی شخص قیام کے ساتھ نفل پڑھنے کی منت مانے، تو اس پر قیام کے ساتھ ہی ادائیگی واجب ہوتی ہے، یہی حکم یہاں بھی ہوگا، جبکہ امام اعظم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ شروع کرنے کے سبب نوافل کا واجب ہو جانا ضرورت کی وجہ سے ہے اور وہ یہ کہ انہیں باطل ہونے سے بچایا جا ئے اور یہ ضرورت قیام پر موقوف نہیں ، بیٹھ کر پڑھنے سے بھی پوری ہو جاتی ہے، تو قیام کو لازم قرار دینا، بلا ضرورت ہے، جب کہ اصول ہے کہ "الضرورات تتقدر بقدرھا" یعنی جو کام ضرورت کی وجہ سے روا ہو، وہ ضرورت تک ہی محدود رہتا ہے۔ مفتیٰ بہٖ اور اصح قول بھی یہی ہے۔
معلوم ہوا کہ جس طرح نفل شروع کرنے کے سبب اگرچہ واجب ہو چکے، پھر بھی دورانِ نماز بلا عذر بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں، تو کسی سبب سے واجب الاعادہ ہونے کی صورت میں بھی بیٹھ کر ادا کیے جا سکتے ہیں، قیام کو فرض قرار دینا، بلا ضرورت ہے۔
(4) واجب الاعادہ نوافل میں قیام کے فرض نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ فقہائے کرام نے ان کو فجر و عصر کے بعد پڑھنے سے منع کیا ہے، تو اگر ان کا حکم وتر اور دیگر واجب لعینہٖ نمازوں والا ہوتا، تو پھر وترکی قضا اور سجدۂ تلاوت کی طرح ان نوافل کو بھی فجر و عصر کےبعد ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، حالانکہ فقہانے بالتصریح اس کی ممانعت فرمائی ہے، بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی پڑھے گا ، تو بھی ادا نہیں ہوں گے اور دوبارہ ادا کرنے ہوں گے۔
خلاصہ یہ کہ واجب الاعادہ نفل نماز چونکہ واجب لغیرہ ہے، اس لیے اس میں قیام وصفِ زائد ہے، فرض نہیں۔
اشکال: علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ نے حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں واجب الاعادہ نوافل میں قیام کی فرضیت کو بیان کیا ہے، جس کی عبارت یہ ہے: و يفترض القيام و هو ركن متفق عليه في الفرائض والواجبات(قوله: و الواجبات ظاهره شمول قضاء النفل الذي أفسده)۔ معلوم ہوا کہ واجب الاعادہ نوافل میں بھی قیام فرض ہوگا۔
جواب: اشکال میں حاشیۃ الطحطاوی کی بیان کردہ عبارت نا مکمل ہے، لہٰذا اوّلاً مکمل عبارت ملاحظہ فرمائیں تاکہ مفہوم بالکل واضح ہو جائے۔ عبارت یہ ہے: و يفترض القيام وهو ركن متفق عليه في الفرائض والواجبات (قوله: و الواجبات (ظاهره شمول قضاء النفل الذي أفسده وکذا المنذور وان لم ینص علی القیام فیہ علی احد قولین“یعنی: فرض اور واجب نمازوں میں قیام جو کہ بالاتفاق رکن ہے ، یہ فرض ہے۔مصنف علیہ الرحمۃ کا قول : واجب نمازیں : اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس میں وہ نوافل بھی شامل ہیں جو کسی وجہ سے فاسد ہو گئے اور ان کی قضا واجب ہو، یہی حکم نذر کے نوافل کا بھی ہوگا، اگرچہ نذر ماننے والے نے نذر میں قیام کی صراحت نہ کی ہو، دو اقوال میں سے ایک قول کے مطابق۔ (یہاں دو اقوال سے مراد یہ ہے: (1) نذر مانتے ہوئے قیام کا التزام کیا ہو یا نہ کیا ہو ،بہر صورت قیام فرض ہے۔ (2) قیام کا التزام نہیں کیا تھا تو قیام کرنے، نہ کرنے کا اختیار ہے۔
مذکورہ عبارت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ جزماً قیام کی فرضیت کو بیان نہیں کر رہے، بلکہ محض ایک قول یا اپنی ایک رائے دے رہے ہیں کہ مصنف علیہ الرحمۃ کا مطلقاً واجبات کہنا واجب الاعادہ نوافل اور نذر کے نوافل کو بھی شامل ہوگا کہ ان میں بھی قیام فرض ہے، اگرچہ مصنف علیہ الرحمۃ نےصراحت نہیں کی، لیکن بظاہر حکم یہی ہونا چاہیے۔ لہٰذا یہ الفاظ جزمی حکم بیان کرنے کا فائدہ نہیں دے رہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اس معاملے میں توقف اختیار کیا ہے، جس پر درج ذیل باتیں دلیل ہیں:
(۱) علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ نے حاشیۃ الطحطاوی علی الدر میں جب اس مسئلہ پر کلام کیا، تو اس میں مطلقاًدو قول ذکر کیےکہ ایک قول میں قیام فرض ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اختیار ہے اور کسی قول کو راجح قرار نہیں دیا، چنانچہ تنویر الابصار اوردرمختار کے ان الفاظ (منھا القیام فی فرض) و ملحق بہ كنذر“ کے تحت لکھتے ہیں: أطلقه فشمل النذر المطلق و هو الذي لم يعين فيه القيام و لا القعود، و هذا أحد قولين والثاني التخيير۔ معلوم ہوا کہ علامہ طحطاوی کا اپنا موقف اس مسئلہ میں قیام کی فرضیت نہیں، بلکہ محض توقف ہے۔
(۲) اس پر مزیدصریح دلیل یہ کہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے ردالمحتار میں تنویر و در کی اسی عبارت کے تحت کلام کرتے ہوئے اولاً علامہ طحطاوی کے دو اقوال والی عبارت نقل کی، پھر فرمایا کہ اس مسئلہ میں علامہ طحطاوی اور علامہ رحمتی نے توقف کیا ہے ۔ اور خود علامہ شامی نے بھی اسی پر اکتفا کیا یعنی کوئی راجح قول بیان نہیں کیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: قوله: (في فرض) و ملحق به كنذر): أطلقه فشمل النذر المطلق و هو الذي لم يعين فيه القيام و لا القعود، و هذا أحد قولين و الثاني التخيير ط و أبدل النذر في الخزائن بالواجب، و يدخل فيه قضاء ما أفسده من النوافل فهل يفترض فيه القيام لوجوبه أم لا إلحاقا له بأصله؟ توقف فيه ط و الرحمتي۔ معلوم ہوا کہ علامہ طحطاوی کا اپنا موقف قیام کی فرضیت نہیں، ورنہ علامہ شامی ان کی طرف توقف کی نسبت نہ کرتے۔
(۳( اور اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃنے جزماً قیام کی فرضیت کاحکم بیان کیا ہے، تو جواب یہ ہے کہ یہ ان کی ایک بحث یا قول ضعیف کو اختیار کرنا ہے ، اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے واجب الاعادہ اور نذر کے نوافل کا ایک ہی حکم بیان کیا کہ ان دونوں میں قیام فرض ہے۔جبکہ اس کے برخلاف فقہائے کرام نے بالتصریح فرمایا کہ صحیح اور راجح قول یہ ہے جب تک قیام کی شرط کے ساتھ نذر نہ مانی جائے، نذر کے نوافل میں قیام لازم نہیں ہوتا، جیسا کہ محیط رضوی اور غنیۃ المتملی کے جزئیات فتویٰ میں مذکور ہیں ۔اور یہی ہمارا مفتیٰ بہ قول بھی ہے۔ تو حاصل یہ کہ علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ نے مذکورہ عبارت میں توقف کیا ہے اور راجح و مفتیٰ بہ قول وہی ہے جو متعدد دلائل و وجوہ کے ذریعے فتویٰ میں بیان کر دیا گیا ۔یا یہ ان کی ایک بحث یا قول ضعیف کو اختیار کرنا ہے۔
بالترتیب جزئیات ملاحظہ کیجیے:
واجب کی اقسام اور واجب الاعادہ نوافل کے واجب لغیرہ ہونے کے متعلق تبیین الحقائق میں ہے: كل ما كان واجبا لغيره كالمنذور و ركعتي الطواف و الذي شرع فيه، ثم أفسده ملحق بالنفل حتى لا يصليها في هذين الوقتين، لان وجوبھا بسب من جھۃ فلا یخرج من ان یکون نفلاً فی حق الوقت أو لأن وجوبها لغيرها وهو صيانة المؤدى عن البطلان و ختم الطواف و إيفاء النذر فلا يكون كالواجب لعينه في القوۃ‘‘ ترجمہ: ہر واجب لغیرہ، جیسے منت اور طواف کی رکعات اور وہ نفل جسے شروع کر کے فاسد کر دیا، یہ نفل سے ملحق ہے، حتی کہ اسے ان دو اوقات (بعد طلوعِ فجر و نماز عصر) میں نہیں پڑھیں گے، کیونکہ ان نوافل کا وجوب کسی عارض کے سبب ہے، لہٰذا یہ وقت کے حق میں نفل ہونے سے نہیں نکلیں گے یا اس لیے کہ ان کا وجوب غیر کی وجہ سےہے اور وہ ادا کی گئی عبادت کو باطل ہونے سے بچانا، طواف کو مکمل کرنا اور منت کو پورا کرنا ہے، تو یہ قوت میں واجبِ لعینہ کی مثل نہیں ہوں گے۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 87، مطبوعہ ملتان)
در مختار میں ہے: (و کرہ نفل) قصداً و لو تحیۃ المسجد (و کل ما کان واجباً لغیرہ) و ھو ما یتوقف وجوبہ علی فعلہ (کمنذور و رکعتی طواف و سجدتی سھو و الذی شرع فیہ ثم افسد و) لو سنۃ الفجر (بعد صلاۃ فجر و عصر، لا) یکرہ (قضاء فائتۃ و) لو وتراً او (سجدۃ تلاوۃ و صلاۃ جنازۃ، و کذا) الحکم من کراھۃ نفل و واجب لغیرہ لا فرض و واجب لعینہ (بعد طلوع فجر سوی سنتہ) ترجمہ: فجر و عصر کے بعد قصداً نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے، اگرچہ تحیۃ المسجد ہو، یونہی ہر واجب لغیرہ کہ جس کا وجوب بندےکے فعل پر موقوف ہو، جیسے منت، طواف کی رکعات ، سجدہ سہو اور ایسی نفل نماز جسے شروع کر کے فاسد کر دیا ہو، اگرچہ سنت فجر ہو ، لیکن طلوعِ فجر کے بعد سنت فجراورفوت شدہ نمازوں کی قضا مکروہ نہیں، اگرچہ وتر ہو یا سجدہ تلاوت اور نماز جنازہ اورکراہت کا یہ حکم نوافل اور واجب لغیرہ میں ہے، نہ کہ فرض اور واجب لعینہ میں۔
مذكوره عبارت کے تحت رد المحتار میں ہے: (و کل ما کان واجباً) ای: ما کان ملحقاً بالنفل، بان ثبت وجوبہ بعارض بعد ما کان نفلاً. . . مثلاً المنذور یتوقف علی النذر ورکعتا الطواف علی الطواف وسجدتا السھو علی ترک الواجب الذی ھو من جھتہ‘‘ ترجمہ: ہر واجب لغیرہ نماز جو ملحق بالنفل ہوتی ہے، اس طرح کہ درحقیقت وہ نماز نفل تھی، لیکن عارض کی بنا پر اس کا وجوب ثابت ہو گیا،مثلاً منت کے نوافل جو منت ماننے پر، طواف کے نوافل طواف کرنے پراور سجدہ سہو انسان کی طرف سے واجب ترک کرنے پر موقوف ہوتا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 44، مطبوعہ كوئٹہ)
یہی مفہوم حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں بھی مذکور ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 188، مطبوعہ بیروت)
اور واجب لغیرہ نوافل اپنی اصل کے اعتبار سے نفل ہی ہیں، فقط ذمہ پر لازم ہونے کے اعتبار سے واجب ہوتے ہیں، لہٰذا ان نوافل پر چند چیزوں کے علاوہ بقیہ احکام نفل والے ہی لاگو ہوں گے، چنانچہ واجب لغیرہ کی ایک صورت نذر کے نوافل کے متعلق ردالمحتار میں ہے: أنه نفل عرض عليه الافتراض أو الوجوب، افادہ ط“ ترجمہ: منت کی نماز درحقیقت نفل نماز ہی ہے ، فرض یا واجب کا حکم منت ماننے کی وجہ سے اس پر طاری ہوا ہے،اس کا افادہ علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ نے کیا ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 552، مطبوعہ کوئٹہ)
اور نوافل میں قیام فرض نہیں ہوتا، چنانچہ ہدایہ میں ہے: و يصلي النافلة قاعدا مع القدرة على القيام . . . و ان افتتحها قائماً ثم قعد من غير عذر جاز عند ابی حنيفة رحمه اللہ وهذا استحسان“ ترجمہ: اور قیام پر قدرت کے باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا درست ہے، اگر كسی نے کھڑے ہوکر نفل شروع کیے، پھر بغیر کسی عذر کے بیٹھ گیا، تو امام اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیک جائز ہے اور یہی استحسان ہے۔ (الھدایۃ، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 156، مطبوعہ لاھور)
واجب الاعادہ نوافل کی نظیر منت کے نفل ہیں اور منت کے نوافل کے متعلق بالتصریح حکم ہے کہ ان میں قیام وصفِ زائد ہے، فرض نہیں، چنانچہ محیط رضوی میں ہے: لو نذر ان یصلی مطلقاً لم یلزمہ القیام وھو الصحیح، لان القیام زیادۃ صفۃ فی التطوع فلا یلتزم الا بالشرط“ ترجمہ: اگر کسی نے مطلق نماز کی منت مانی ،تو اس پر قیام لازم نہیں ہوگا،یہی قول صحیح ہے،کیونکہ قیام نفل نماز میں ایک زائد وصف ہے، لہٰذا بغیر مشروط کیے لازم نہیں ہوگا۔ (المحیط الرضوی، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 271، مطبوعہ بیروت)
غنیۃ المتملی میں ہے: اذا نذر ولم یلتزم فی نذرہ صفۃ القیام وقال فی الکافی: لم یلزمہ القیام فی الصحیح، لان القیام وراء ما یتم بہ التطوع، فلا یلزمہ الا بالتنصیص علیہ‘‘ ترجمہ: جب کسی شخص نے نماز کی منت مانی اور اس میں قیام کو ذکر نہیں کیا، توکافی میں ہے کہ صحیح قول کے مطابق قیام لازم نہیں ہو گا، کیونکہ نفل نماز کی تکمیل میں جو چیزیں لازم ہیں، ان میں قیام ایک اضافی چیز ہے اور یہ نفل میں تب ہی لازم ہو گا جب اس کی صراحت مذکور ہو۔ (غنیۃ المتملی، فصل فی النوافل، صفحہ 396، مطبوعہ کوئٹہ)
کھڑے ہو کر نفل شروع کیے تو درمیانِ نماز بیٹھ سکتا ہے، کیونکہ ان میں قیام ضروری نہیں، چنانچہ حلبی کبیر میں ہے: اما القعود بغیر عذر بعد الافتتاح قائما فیجوز عند ابی حنیفۃ لکن مع الکراھۃ علی ما اختارہ صاحب الھدایۃ و بلا کراھۃ علی ما اختارہ فخر الاسلام وهو الاصح . . . و اما عندھمافلا یجوز اتمامھا مع القعود بلا عذر بعد الافتتاح قائما اصلا لان الشروع معتبر بالنذر ومن نذر صلوٰۃ رکعتین قائما لا یجوز لہ ان یصلیھما قاعدا من غیر عذر فکذا اذا شرع فیھما و لابی حنیفۃعلیہ الرحمۃ ان اللزوم بالشروع لضرورۃ صیانۃ المؤدی عن البطلان و صیانتہ عنہ لیست موقوفۃ علی القیام لصحتہ بدونہ و الضرورۃ تتقدر بقدرھا
ترجمہ: بہرحال کھڑے ہو کر نماز شروع کرنے کے بعد بلا عذر بیٹھ جانا، توامام اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیک جائز ہے ، صاحبِ ہدایہ کے مختار قول کے مطابق کراہت کے ساتھ حکمِ جواز ہے، لیکن فخر الاسلام علیہ الرحمۃ کے مختار قول کے مطابق بلا کراہت جائز ہے اور یہی اصح قول ہے۔ اور صاحبین علیہما الرحمۃ کے نزدیک جب کھڑے ہو کر شروع کر لیے، تو بلا عذر بیٹھ کر نوافل مکمل کرنا، بالکل جائز نہیں، کیونکہ قیام کے ساتھ شروع کر لینا ، اسے نذر کی طرح کر دیتا ہے اور نذر کے متعلق حکم یہ ہے کہ جب کوئی کھڑے ہو کر نفل پڑھنے کی منت مانے ، تو بلا عذر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا، تو یہاں بھی یہی حکم ہوگا اور امام اعظم علیہ الرحمۃ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ شروع کرنے کے سبب لازم ہونا باطل ہونے سے بچانے کی ضرورت کے پیشِ نظر ہے اور یہ بچانا قیام پر موقوف نہیں، کیونکہ قیام کے بغیر بھی نفل صحیح ہو جاتے ہیں، جب کہ ضرورت اپنی حد تک محدود ہوتی ہے۔ (حلبی کبیر، جلد 2، صفحہ 90، مطبوعہ ھند)
اسی کو مجمع الانہر میں بھی بیان کیا ہے۔ ( مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر، جلد 1، صفحہ 201، مطبوعہ بیروت)
واجب الاعادہ نوافل کو فجر و عصر کے بعد ادا نہیں كر سكتے، جب کہ وتر و دیگر واجب لعینہ نمازیں پڑھ سکتے ہیں، چنانچہ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے: و يكره التنفل بعد طلوع الفجراي قصدا . . . و مثل النافلة في هذا الحكم ما وجب بايجاب العبد ويقال له الواجب لغيره كالمنذور و ركعتي الطواف و قضاء نفل افسده، اما الواجب لعينه وهو ما كان بايجاب اللہ تعالى ولا مدخل للعبد فيه . . . كقضاء حق الميت في صلاة الجنازة فلا كراهة فيه‘‘ ترجمہ: طلوعِ فجر کے بعد قصداً نوافل شروع کرنا مکروہ ہے اور اس حکم میں وہ واجب بھی نفل کی مثل ہے جو بندے کے خود پر واجب کرنے سے واجب ہوا ہو، اسے واجب لغیرہ کہتے ہیں، جیسے منت، طواف کی دو رکعات اور نفل کی قضا، جسے فاسد کر دیا تھا، بہرحال واجب لعینہ، تو وہ جسے اللہ تعالیٰ نے واجب کیا ہو، اس میں بندے کا دخل نہ ہو، اس کی ادائیگی میں کوئی کراہت نہیں۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 188، مطبوعہ بیروت)
اگر ان نوافل کو فجر و عصر کے بعد پڑھ لیا، تو ادا نہیں ہوں گے، جیساکہ بہارِ شریعت میں ہے: نمازِ عصر سے آفتاب زرد ہونے تک نفل منع ہے، نفل نمازشروع کرکے توڑ دی تھی اس کی قضا بھی اس وقت میں منع ہے اور پڑھ لی تو ناکافی ہے، قضا اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہوئی۔ (بہارِ شریعت، ج 01، ص 456، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نفل نما زکھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے، بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے سے ثواب آدھا رہ جاتا ہے، چنانچہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سألت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم عن صلاة الرجل قاعدا، فقال: إن صلى قائما فهو أفضل ومن صلى قاعدا، فله نصف أجر القائم“ ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سےآدمی کے بیٹھ کر (نفل) نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو افضل ہے اور جس نے بیٹھ کر نماز پڑھی اسے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے کی بنسبت آدھا ثواب ملے گا۔ (صحیح البخاری، ابواب تقصیر الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 150، مطبوعہ کراچی)
نور الایضاح میں ہے: يجوز النفل قاعدا مع القدرة على القيام لكن له نصف أجر القائم إلا من عذر“ ترجمہ:قیام پر قدرت کے باوجود بیٹھ کر نوافل ادا کرنا، جائز ہے، لیکن بیٹھ کر نوافل ادا کرنے والے کو، کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنے والے کی بنسبت آدھا ثواب ملے گا، مگر کوئی عذر ہو (تو بیٹھ کر بھی نوافل ادا کرنے میں مکمل ثواب ملے گا)۔ (نور الایضاح، کتاب الصلاۃ، فصل فی الصلاۃ جالسا الخ، ص 81، المكتبة العصرية)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10009
تاریخ اجراء: 06 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 23 مئی 2026ء