سجدہ سہو کے مسائل میں منافی نماز کام سے کیا مراد ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سجدہ سہو کے مسائل میں منافی نماز کی وضاحت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ فقہی مسئلہ بیان کیا جاتا ہے کہ: "اگر نماز میں سجده سہو واجب ہوا، اور بھولے سے سجدہ سہو نہ کیا، پھر بعد سلام یاد آیا، تو حکم یہ ہے کہ اگر منافی نماز کوئی کام نہیں کیا، تو اب سجده سہو کر لے۔" اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہاں منافی نماز سے کیا مراد ہے؟ براہ کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
منافی نماز کام سے مراد یہاں وہ کام ہے، جس کی وجہ سے بنا (یعنی نماز کو اسی جگہ سے دوبارہ جاری رکھنا) نہ ہو سکے، مثلاً: سلام پھیرنے کے بعد بات چیت کرنا، قہقہہ لگانا، جان بوجھ کر حدث طاری کرنا، مسجد سے نکل جانا اور سجدہ سہو یاد ہوتے ہوئے قبلہ سے چہرہ پھیر لینا وغیرہ۔ ردالمحتار میں ہے ”ان السجود لایسقط بالسلام ولو عمدا، الا اذا فعل فعلا یمنعہ من البناء بان تکلم او قھقھۃ او احدث عمدا او خرج من المسجد او صرف وجھہ عن القبلۃ وھو ذاکر لہ، لانہ فات محلہ وھو تحریمۃ الصلاۃ“ ترجمہ: سلام پھیرنے سے سجدہ سہو ساقط نہیں ہوتا، اگرچہ جان بوجھ کر سلام پھیرا ہو، ہاں جب سلام کے بعد ایسا کوئی فعل کیا جو نماز کی بنا کے منافی ہو مثلا بات چیت کر لی ہو، یا قہقہہ لگایا ہو یا جان بوجھ کر حدث طاری کیا ہو یا مسجد سے نکل گیا ہو یا سجدہ سہو یاد ہوتے ہوئے قبلہ سے چہرہ کو پھیر لیا ہو تو پھر سجدہ سہو نہیں کر سکتا، کیونکہ ان صورتوں میں سجدہ سہو کا محل فوت ہو گیا۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 674، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدرالشریعہ، بدرالطریقہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جس پر سجدہ سہو واجب ہے، اگر سہو ہونا یاد نہ تھا اور بہ نیت قطع سلام پھیر دیا تو ابھی نماز سے باہر نہ ہوا بشرطیکہ سجدہ سہو کرلے، لہٰذا جب تک کلام یا حدث عمد یا مسجد سے خروج یا اور کوئی فعل منافی نماز نہ کیا ہو اسے حکم ہے کہ سجدہ سہو کرلے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 717، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5332
تاریخ اجراء: 14 ربیع الاول 1448ھ/28 اگست 2026ء