نماز میں ایک رکن کی مقدار تاخیر کا مطلب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک رکن کی مقدار ترک واجب ہے، اس رکن سے مراد کیا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ جو مسئلہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص نماز میں بھول جائے اور ایک رکن کی مقدار سوچتا رہے اور اس سوچنے سے نمازکے فرض یا واجب کی ادائیگی میں تاخیر لازم آئے، تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہوگا، سجدہ سہو نہیں کیا، تو نماز واجب الاعادہ ہوگی، پوچھنا یہ تھا کہ یہاں ایک رکن سے مراد کیا ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔
سائل: عثمان عطاری (اوکاڑہ)
جواب
بنیادی طور پر شرعی مسئلہ یہ ہے کہ نماز کے فرائض و واجبات کو ان کے محل (جگہ) میں ادا کرنا واجب ہے، کسی بھی فرض یا واجب میں اتنی تاخیر کرنا کہ جس میں ایک رکن ادا کرلیا جائے، ترکِ واجب ہے، خواہ وہ تاخیر خاموش ہوکر سوچ و بچار کےسبب ہو یا کسی اجنبی فاصل کے سبب، بہر صورت بھول کر ایسا کرنے کی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اور جان بوجھ کر ایسا کرنے کی صورت میں نماز مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ اور نماز دوبارہ ادا کرنا واجب ہوتی ہے۔ یہاں ایک رکن کی مقدار تاخیر سے مراد یہ ہے کہ کسی فرض یا واجب کی ادائیگی میں اتنی تاخیر کرنا کہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ لیا جائے، کیونکہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کو رکن کا سب سے ادنی درجہ قراردیاگیا ہے، لہذا فقہائے کرام نے اسی مقدار کو اختیار فرمایا اور اسی کے مطابق اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے۔
بیان کردہ شرعی حکم کے ترتیب وار دلائل:
نماز کے فرائض و واجبات کو ان کے محل میں ادا کرنا واجب ہے، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
أن من الواجبات إتيان كل فرض أو واجب في محله
ترجمہ: ہر فرض اور واجب کو اس کے محل میں ادا کرنا نماز کے واجبات میں سے ہے۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 01، صفحہ 458، دار الفکر، بیروت)
فرائض و واجبات کو ان کے محل میں ادا کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کی ادائیگی میں ایک رکن کی مقدار تاخیر نہ ہو، ورنہ ترکِ واجب ہوگا، چنانچہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
قلت؛ و الحاصل أنه اختلف في التفكر الموجب للسهو، فقيل ما لزم منه تأخير الواجب أو الركن عن محله بأن قطع الاشتغال بالركن أو الواجب قدر أداء ركن وهو الأصح
ترجمہ: میں کہتا ہوں: حاصلِ کلام یہ ہے کہ اس سوچ و بچار میں اختلاف کیا گیا کہ جو سجدہ سہو کو واجب کردیتی ہے، تو کہا گیا کہ ایسی سوچ و بچار کہ جو واجب یا فرض کو اپنے محل سے مؤخر کردے، بایں معنی کہ واجب یا فرض کی ادائیگی میں مشغول ہونے کو ایک رکن کی ادائیگی کی مقدار منقطع کردے (یعنی مؤخر کردے، تو اس سے سجدہ سہو لازم ہوجائے گا) اور یہی اصح قول ہے۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 02، صفحہ 94، دار الفکر، بیروت)
سجدہ سہو کے واجب ہونے میں ایک رکن کی مقدار سے مراد تین مرتبہ سبحان اللہ کہنا ہے، چنانچہ علامہ اَحمد طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں:
و لم يبينوا قدر الركن و على قياس ما تقدم أن يعتبر الركن مع سنته و هو مقدر بثلاث تسبيحات
ترجمہ: علمائے کرام نے رکن کی مقدار بیان نہیں کی اور قیاس یہی ہے کہ اس میں سنت کے ساتھ رکن کا اعتبار کیا جائے اور یہ تین تسبیح کی مقدار ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی المراقی، صفحہ 474، دار الكتب العلمية بيروت)
ادائے رکن میں تین تسبیحات کا اعتبار کیوں کیا گیا؟ اس کے متعلق علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ شرح منیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
و ذلك قدر ثلاث تسبيحات، و كأنه قيد بذلك حملا للركن على القصير منه للاحتياط
ترجمہ: اور یہ مقدار تین مرتبہ تسبیح کے برابر ہے، گویا انہوں نے احتیاط کے طور پر رکن کو اس کے کم سے کم حصے پر محمول کرتے ہوئے یہ قید لگائی ہے۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 01، صفحہ 408، دار الفکر، بیروت)
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: سکوت اتنی دیر کیا کہ تین بار سبحان اللہ کہہ لیتا، تو یہ سکوت اگر بربنائے تفکر تھا کہ سوچتا رہا کہ کیا پڑھوں، تو سجدہ سہو واجب ہے، اگر نہ کیا تو اعادہ نماز کا واجب ہے اور اگر وہ سکوت عمداً بلاوجہ تھا، جب بھی اعادہ واجب۔ (فتاوی رضویہ جلد 8، صفحہ 192، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1434ھ / 2012ء) لکھتے ہیں: کسی رکن کی تاخیر پر سجدہ سہو ہوتا ہے مثلا کھڑا ہونا تھا بیٹھ گیا تو کھڑے ہونے میں تاخیر ہوئی، بیٹھنا تھا کھڑا ہوگیا اور پھر بیٹھا تو بیٹھنے میں تاخیر ہوئی یا بیٹھنا متروک ہوا ایسی صورت میں سجد سہو ہے اور تاخیر کا فیصلہ وہی تین تسبیح کی مقدار سے ہوگا، اس سے قبل اٹھ گیا تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوا۔ (فتاوی بحر العلوم، جلد 04، صفحہ 65، شبیر برادرز، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0204
تاریخ اجراء: 03 شعبان المعظم 1447 ھ / 23جنوری 2026 ء