logo logo
AI Search

مسلسل پیشاب کے قطرے آئیں تو نماز کیسے پڑھیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مسلسل قطرے آتے ہوں، تو نماز پڑھنے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مسلسل قطرے آتے ہیں، تو نماز کیسے پڑھوں؟

جواب

اگر آپ کی حالت ایسی ہے کہ پیشاپ کے قطرے مسلسل بہتے رہتے ہیں، اور آپ کو اتنا وقت نہیں ملتا کہ جس میں آپ وضو کر کے فرض ادا کر سکیں، تو نماز کا پورا ایک وقت شروع سے آخر تک اسی حالت میں گزر جانے پر آپ شرعی معذور ہیں، بشرطیکہ روئی وغیرہ کوئی چیز رکھ یا باندھ کر یا کسی اور طریقے سے قطرے روکنے والی صورت ممکن نہ ہو۔ اور پھر جب تک ہر وقت میں کم ازکم ایک باربھی عذر پایا جائے، آپ معذورہی رہیں گے، لہذاجب تک ایک پوراوقت شروع سے آخرتک اس عذرکے آئے بغیر نہ گزرے، اس وقت تک معذور ہی رہیں گے۔

اورجس صورت میں آپ معذورہیں، اس صورت میں آپ کے لیے حکم یہ ہے کہ آپ نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد ایک بار وضو کریں گے، اور پھر اس نماز کے وقت میں پیشاپ کے قطرے آنے سے آپ کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اور آپ اسی وضو سے نماز وغیرہ ادا کر سکیں گے۔

ہاں! اگر وقت کےدوران پیشاب کے قطروں کے علاوہ کوئی اور وضو توڑنے والی چیز پائی گئی، مثلا بہنے کی مقدار خون نکلا، یا گیس خارج ہوئی وغیرہ تو اسی وقت وضو ٹوٹ جائے گا۔ نیز جیسے ہی اس نماز کا وقت ختم ہوگا، تو وقت ختم ہوتے ہی آپ کا وضو ٹوٹ جائے گا اور اگلی نماز کے وقت میں دوبارہ وضو کرنا ہو گا، اگرچہ قطروں کے علاوہ کوئی اور وضو توڑنے والی چیز نہ پائی گئی ہو۔

نیز اس صورت میں اگر پیشاب کے قطرے اتنے نکلے کہ ایک درہم سے زِیادہ ناپاک ہو گیا، اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر یا بدل کرپاک کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا، تو دھو کر یا کپڑے بدل کر نماز پڑھنا فرض ہے، اور اگر جانتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی ناپاک ہو جائے گا ،تو دھونایابدلنا ضروری نہیں، اُسی حالت میں پڑھے کچھ حَرَج نہیں، اور اگر درہم کے برابرناپاک ہوا، تو پہلی صورت میں (یعنی جب پتاہے کہ اتناموقع مل جائے گاکہ دوبارہ درہم کی مقدارناپاک ہونے سے پہلے پہلے نمازمکمل کر لے گا، تو) دھونا واجب، اور درہم سے کم ہے، تو سنّت، اور دوسری صورت میں (یعنی جب معلوم ہوکہ دوبارہ پاک کرنے یاکپڑے بدلنے کی صورت میں نمازپوری ہونے سے پہلے پہلے پھر اتنا ہی ناپاک ہوجائے گا، تو) مطلقاً نہ دھونے میں کوئی حَرَج نہیں۔

اور اگر آپ کی حالت یہ ہے کہ آپ کو اتنی مہلت مل جاتی ہے کہ جس میں دوبارہ پیشاپ کا قطرہ نکلنے سے پہلے پہلے آپ وضو کر کے فرض ادا کر سکتے ہیں، تو اس صورت میں آپ شرعی معذور نہیں، اور اسی طرح اگرروئی وغیرہ رکھنےیاکسی چیزکے باندھنے سے قطرے رک جاتے ہیں، یا کسی اور طریقے سے رک جاتے ہیں، مثلاکھڑے ہوکرپڑھنے سے قطرے آتے لیکن بیٹھ کرپڑھنےسے نہیں آتے، تو پھر آپ پر لازم ہے کہ ایساکریں، اور اس صورت میں بھی آپ معذور نہیں، پس جس صورت میں آپ معذور نہیں، اس صورت میں آپ پر لازم ہو گا کہ وضو کر کے پیشاپ کے قطرے نکلنے سے پہلے پہلے فرض ادا کریں، فرضوں کے بعد اگر پیشاب کا قطرہ نکل جائے، تو سنتوں کے لیے نیاوضو کریں۔ نیز اگر روئی وغیرہ کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے قطرے بالکل تو نہیں روکے جاسکتے، ہاں ان میں کمی کی جاسکتی ہے، تو پھر اس طرح کرنا بھی ضروری ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے ’’و امااصحاب الاعذارکالمستحاضۃو صاحب الجرح السائل و المبطون و من بہ سلس البول ۔ ۔ ۔ ۔ و نحو ذلک ممن لا یمضی علیہ وقت صلاۃ الا و یوجد ما ابتلی بہ من الحدث فیہ فخروج النجاسۃمن ھؤلاء لایکون حدثافی الحال مادام وقت الصلاۃقائما‘‘ ترجمہ: اور بہرحال عذروں والے جیسے مستحاضہ اوروہ جس کازخم بہتاہو، اور وہ جسے دست آتے ہوں، اوروہ جسے مسلسل قطرے آتے ہوں، اور اسی طرح کے اور افراد کہ جن پر نماز کاوقت نہیں گزرتا مگر اس حالت میں کہ اس وقت میں وہ ناقض وضو پایا جاتا ہے، جس میں وہ مبتلا ہیں، پس جب تک نماز کا وقت رہے گا، ان حضرات سے نجاست کا نکلنا فی الحال ناقض وضو نہیں ہوگا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطھارۃ، فصل: نواقض الوضوء، جلد 1، صفحہ 126، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے "المستحاضة و من به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة و يصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض و النوافل" ترجمہ: مستحاضہ عورت، اور جسے مسلسل پیشاب کے قطرے آنے کی، یا مسلسل پیٹ خراب رہنے کی بیماری ہو، یا ہوا خارج ہونے پر قابو نہ ہو، یا مسلسل ناک سے خون بہتا ہو، یا ایسا زخم ہو جس سے خون بہنا بند نہ ہو، یہ سب لوگ ہر نماز کے وقت کے لیے نیا وضو کریں گے، اور اس وضو سے ایک نماز کے وقت میں جتنے فرائض و نوافل چاہیں ادا کرسکتے ہیں۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 41، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وُضو کر لے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وُضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وُضو نہیں جاتا۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 385، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

معذور کا عذر کب تک رہے گا اور اس کا وضو کیسے ٹوٹے گا:

بہار شریعت میں ہے ”ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے ۔ ۔ ۔ جب عذر ثابت ہو گیا تو جب تک ہر وقت میں ایک ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے معذور ہی رہے گا، مثلاً عورت کو ایک وقت تو اِستحاضہ نے طہارت کی مہلت نہیں دی اب اتنا موقع ملتا ہے کہ وُضو کرکے نماز پڑھ لے مگر اب بھی ایک آدھ دفعہ ہر وقت میں خون آجاتا ہے تو اب بھی معذور ہے۔ یوہیں تمام بیماریوں میں اور جب پورا وقت گزر گیا اور خون نہیں آیاتو اب معذورنہ رہی جب پھر کبھی پہلی حالت پیدا ہو جائے تو پھر معذور ہے اس کے بعد پھر اگر پورا وقت خالی گیا تو عذر جاتا رہا ۔ ۔ ۔ فرض نماز کا وقت جانے سے معذور کا وُضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ معذورکا وُضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے، ہاں اگر کوئی دوسری چیزوُضو توڑنے والی پائی گئی تو وُضو جاتا رہا۔ مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہے، ہوا نکلنے سے اس کا وُضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے، قطرے سے وُضو جاتا رہے گا۔"(بہار شریعت، ج 1، حصہ 2، ص 385 تا 387،مکتبۃ المدینہ)

عذر روکنا یا کم کرنا ممکن ہو، تو اس طرح کرنا ضروری ہونے پر جزئیات:

در مختار میں ہے ”يجب رد عذره أو تقليله بقدرقدرته و لو بصلاته موميا و برده لا يبقى ذا عذر بخلاف الحائض“ ترجمہ: شرعی معذور پر اپنی قدرت کے مطابق اپنے عذر کو ختم کرنا یا کم کرنا واجب ہے، اگرچہ یوں کہ اشارے سے نماز ادا کر لے اور جب کسی بھی طرح اس نے اپنا عذر ختم کر لیا، تو یہ معذور باقی نہیں رہے گا، بر خلاف حائضہ کے (کہ وہ خون روک بھی لے، تو حائضہ ہی رہے گی)۔

مذکورہ عبارت کے تحت ردالمحتار میں ہے”و متى قدر المعذور على رد السيلان برباط أو حشو أو كان لو جلس لا يسيل و لو قام سال وجب رده، و خرج برده عن أن يكون صاحب عذر، و يجب أن يصلي جالسا بإيماء إن سال بالميلان؛ لأن ترك السجود أهون من الصلاة مع الحدث۔"ترجمہ: اور جب شرعی معذور پٹی باندھ کر یا روئی وغیرہ رکھ کر خون وغیرہ بہنے کو روکنے کی قدرت رکھتا ہو یا اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو زخم نہیں بہے گا، کھڑا ہونے کی صورت میں بہے گا، تو اس کو روکنا اس پر واجب ہے اور اسے روک لینے کی صورت میں وہ معذور نہیں رہے گا۔ اور اگر (رکوع و سجدہ کی حالت میں) جھکنے میں بہتا ہو، تو اس پر بیٹھ کر اشارے کے ساتھ نماز پڑھنا، لازم ہے، کیونکہ سجدہ چھوڑ دینا حدث کے ساتھ نماز پڑھنے کے مقابلے میں آسان ہے۔ (درمختار مع ردالمحتار، جلد 1، صفحہ 558، 559، مطبوعہ: کوئٹہ(

امامِ اہلِ سنّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرعی معذور کے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: "اذا کان احتشاؤہ یردمابہ کما وصف فی السؤال فقدخرج عن حد العذر والتحق بالاصحاء یتوضأ لکل حدث ویغسل کل نجس و یؤم کل نفس و لایعذر فی ترک الاحتشاء بل ھو فریضۃ علیہ کفریضۃ الصلاۃ. . . و المسألہ ظاھرۃ و فی الزبر دائرۃ اما تعسرہ فی العجلۃ الدخانیۃ فضلا عن تعذرہ فلا یظھرلہ وجہ فان من سافر فحمل معہ زادہ لایثقل علیہ القطن ان زادہ وان کان یزعم انہ یخرج بصدمات الحرکۃ فلیطولہ و لیسفلہ و لیربط العضو الی فوق"

(ترجمہ: اگر رُوئی رکھنے سے اس کے قطرے ٹپکنے بند ہوجاتے ہیں، جیسا کہ سوال میں بیان کیا تو وہ عذر کی حد سے نکل گیا اور صحیح افراد کے ساتھ شامل ہوگا۔ ہر حدث (اصغر) کے بعد وضو کرے جہاں نجاست لگی ہو اسے دھوڈالے اور ہر ایک کی امامت کراسکتا ہے اس سے رُوئی نہ رکھنے کا عذر قبول نہ ہوگا، بلکہ نمازکی طرح روئی رکھنا بھی اس پر فرض ہے۔ ۔ ۔ مسئلہ ظاہر ہے اور (تمام) کتب میں موجود ہے بھاپ سے چلنے والی گاڑی میں مشکل پیش آنے، نہ کہ متعذر ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں، کیونکہ جو آدمی سفر کرتے ہوئے زادِ راہ لے جاتا ہے وہ اگر اس میں رُوئی کا اضافہ کرلے تو کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ اور اگر اس کا خیال یہ ہے کہ گاڑی کی بار بار حرکت سے رُوئی نکل جائیگی تو وہ اسے لمبا کرکے نیچے کی طرف کرے اوراوپر کی طرف سے عضو کو باندھ دے۔) (فتاوٰی رضویہ، جلد 4، صفحہ 368، 369، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

عذرکی حالت میں کپڑے پاک کرنے وغیرہ سے متعلق جزئیات:

فتاوی عالمگیری میں ہے:اذا کان بہ جرح سائل۔ ۔ ۔ ان کان بحال لو غسلہ یتنجس ثانیا قبل الفراغ من الصلاۃ جاز ان لا یغسلہ و صلی قبل ان یغسلہ والا فلا ھذا ھو المختار“ترجمہ: جب بہنے والا زخم ہو، اور حالت یہ ہو کہ اگر وہ کپڑوں کو پاک کرے، تو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی دوبارہ کپڑے ناپاک ہو جائیں گے، تو جائز ہے ان کپڑوں کو پاک نہ کرے اور انہیں پاک کرنے سے پہلے ہی نماز پڑھ لے، اور اگر ایسا نہ ہو (بلکہ پاک کپڑوں میں نماز پڑھی جاسکتی ہو) تو اب رخصت نہیں ہوگی، یہی مختار ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، باب النجاسۃ و احکامھا، جلد 1، صفحہ 46، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "رہا کپڑا اگر سمجھتا ہے کہ پاک کپڑا بدل کر فرض پڑھے گا تو اُس کے ایک درم سے زائد بھرنے سے پیشتر فرض ادا کرلے گا جب تو اُس پر لازم ہے کہ ہر وقت پاک کپڑا بدلے اور اگر جانتا ہے کہ فرض پڑھنے کی مہلت نہ ملے گی اور کپڑا پھر اُتنا ہی ناپاک ہوجائیگا تو اُسے معافی ہے اُسی کپڑے سے پڑھے،لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً اِلَّا وُسْعَھَا، (اللہ تعالٰی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔)" (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 375، رضافا ؤنڈیشن، لاھور)

بہار شریعت میں ہے"معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب کپڑے نجس ہو جاتے ہیں تو اگر ایک درم سے زِیادہ نجس ہو گیا اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر پاک کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا تو دھو کر نماز پڑھنا فرض ہے اوراگر جانتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس ہو جائے گا تو دھونا ضروری نہیں اُسی سے پڑھے اگرچہ مصلیٰ بھی آلودہ ہو جائے کچھ حَرَج نہیں اور اگر درہم کے برابر ہے تو پہلی صورت میں دھونا واجب اور درہم سے کم ہے تو سنّت اور دوسری صورت (یعنی نماز پڑھنے تک پھر سے بقدر مانع ناپاک ہونے ) میں مطلقاً نہ دھونے میں کوئی حَرَج نہیں۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 387،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5418
تاریخ اجراء: 03 ربیع الآخر 1448ھ / 15 ستمبر 2026ء