logo logo
AI Search

کیا کرسی پر نماز سنت کے خلاف ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

حالت عذرمیں کرسی پر نماز پڑھنے پر اعتراض کا جواب

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا معذور شخص کے لیے مسجد میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے؟ بعض حضرات کا موقف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی آخری بیماری میں، شدید علالت کے باوجود، زمین پر بیٹھ کر نماز ادا فرمائی اور کرسی استعمال نہیں فرمائی، لہٰذا مسجد میں کرسی پر نماز پڑھنا سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف اور آیتِ مبارکہ ﴿لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ﴾ کے منافی ہے۔ نیز ان کا کہنا ہے کہ مسجد میں کرسی پر نماز پڑھنے کی کوئی شرعی گنجائش نہیں۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ دعویٰ شرعاً کس حد تک درست ہے؟ کیا واقعی مسجد میں کرسی پر نماز پڑھنے کی کوئی جائز صورت نہیں ہے؟ اور اگر کوئی شخص کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

مذکورہ دعویٰ کہ: "مسجد میں کرسی پر نماز پڑھنے کی کوئی شرعی گنجائش نہیں۔" شرعاً درست نہیں۔ شریعت مطہرہ نے مریض اور معذور شرعی کو نماز میں حسبِ استطاعت (یعنی جس طرح نمازپڑھنے پر قدرت ہو اسی طرح) نماز پڑھنے کی رعایت دی ہے، لہذا جو شخص تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ خود کھڑا ہو سکتا ہے، اور نہ کسی چیزکے ساتھ ٹیک لگا کر ہی کھڑا ہو سکتا ہے، یا کھڑا تو ہو سکتا ہے لیکن زمین پر یازمین پر رکھی کسی اتنی اونچی چیزپرجوبارہ (12) انگل یعنی نو(9)انچ سے زیادہ اونچی نہ ہو، سجدہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا،وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ ہاں! جس قدر تعظیم اورعاجزی کے قریب طریقہ اختیار کیا جائے، اسی قدر بہتر ہے، لہذا اگر زمین پردوزانو بیٹھ کر پڑھنے میں مشکل نہیں، تو بہتر ہے کہ اسی طرح پڑھے، چار زانوں یا اکڑوں بیٹھ کرنہ پڑھے، اسی طرح کرسی پربھی نہ پڑھے۔ اور اگر زمین پردو زانو بیٹھ کر پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے، لیکن چار زانوں یا اکڑوں بیٹھ کر پڑھنے میں مشکل نہیں، تو اب کرسی پرپڑھنے کے مقابلے میں زمین پر چار زانوں یا اکڑوں بیٹھ کر، جس طرح آسانی ہو، اسی طرح پڑھنا بہتر ہے۔ ہاں! جب زمین پربیٹھنے میں مشکل ہو، تو اب کرسی پربیٹھ کر پڑھے، لیکن اس میں بھی حتی الامکان ٹیک لگانے سے بچے۔

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہما سے فرمایا: ”صَلِّ قَائِمًا، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب“ ترجمہ: کھڑے ہو کر نماز پڑھو، پھر اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو۔ (كنز العمال، الباب الثانى فى أحكام الصلاة و مفسداتها و مكملاتها، الفصل الثاني: في أركان الصلاة جلد 7، ص 434، مطبوعہ: بیروت)

مجمع الانہر میں ہے ”و إن تعذر الركوع أو السجود أومأ برأسه أي يشير إلى الركوع والسجود قاعدا إن قدر على القعود لأنه وسعه و جعل سجوده بالإيماء أخفض من ركوعه لأن نفس السجود أخفض من الركوع فكذا الإيماء به‘‘ ترجمہ: اور اگر رکوع یا سجدہ ممکن نہ ہو تو وہ بیٹھ کر سر کے اشارے سے رکوع اور سجدہ کرے، اگر بیٹھنے پر قادر ہو، کیونکہ یہی اس کی استطاعت ہے، اور سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ جھکاؤ والا کرے، کیونکہ حقیقی سجدہ، رکوع سے زیادہ پست ہوتا ہے، اسی طرح اس کا اشارہ بھی۔ (ملتقی الابحر مع مجمع الانھر، جلد 1، صفحہ 154، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

بہار شریعت میں ہے "جو شخص بوجہ بیماری کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر قادر نہیں کہ کھڑے ہو کر پڑھنے سے ضرر لاحق ہوگا یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہو گا یا چکر آتا ہے یا کھڑے ہو کر پڑھنے سے قطرہ آئے گا یا بہت شدید درد ناقابل برداشت پیدا ہو جائے گا تو ان سب صورتوں میں بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے۔ ۔ ۔ اگر کوئی اونچی چیز زمین پر رکھی ہوئی ہے اس پر سجدہ کیا اور رکوع کے لیے صرف اشارہ نہ ہوا بلکہ پیٹھ بھی جھکائی تو صحیح ہے بشرطیکہ سجدہ کے شرائط پائے جائیں، مثلاً اس چیز کا سخت ہونا جس پر سجدہ کیا کہ اس قدر پیشانی دب گئی ہو کہ پھر دبانے سے نہ دبے اور اس کی اونچائی بارہ انگل سے زیادہ نہ ہو۔ ۔ ۔ لہذا جو شخص زمین پر سجدہ نہیں کر سکتا مگر شرائط مذکورہ کے ساتھ کوئی چیز زمین پر رکھ کر سجدہ کر سکتا ہے، اس پر فرض ہے کہ اسی طرح سجدہ کرے اشارہ جائز نہیں۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 720، 722، مکتبۃ المدینہ)

عذر کی صورت میں جیسے آسانی ہو بیٹھا جا سکتا ہے، چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اقول: ینبغی ان یقال ان كان جلوسه كما يجلس للتشهد ايسر من غيره او مساويا لغيره كان اولى و الا اختار الايسر في جميع الحالات‘‘ ترجمہ: میں کہتا ہوں مناسب یہ ہے کہ اگر معذور کو تشہد میں بیٹھنے والے کی طرح بیٹھنا، دوسرے طریقوں سے بیٹھنے کے بنسبت آسان یا برابر ہو، تو تشہد میں بیٹھنے والے کی طرح بیٹھنا اولی ہے، وگرنہ جو طریقہ آسان ہو اسے اختیار کرے۔ (رد المحتار مع الدر المختارجلد 02، صفحه 683، مطبوعہ: کوئٹه)

فتاوی عالمگیری میں ہے "إذا لم يقدر على القعود مستويا و قدر متكئا أو مستندا إلى حائط أو إنسان يجب أن يصلي متكئا أو مستندا" ترجمہ: جو سیدھا نہیں بیٹھ سکتا، لیکن کسی دیوار یا انسان پر ٹیک یاان کا سہارا لے کر بیٹھ سکتا ہے تو اس صورت میں نمازی کے لئے کسی چیز کے سہارے یا اس پر ٹیک لگا کر بیٹھنا واجب ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 01، صفحه 136، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے ”بیٹھ کر پڑھنے میں کسی خاص طور پر بیٹھنا ضروری نہیں بلکہ مریض پر جس طرح آسانی ہو اس طرح بیٹھے۔ ہاں دو زانو بیٹھنا آسان ہو یا دوسری طرح بیٹھنے کے برابر ہو تو دو زانو بہتر ہے ورنہ جو آسان ہو اختیار کرے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 720، مکتبۃ المدینہ)

سوال میں مذکور آیت مبارکہ کی تفسیر:

اورآیتِ مبارکہ ﴿لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ﴾ کو معذور شخص کے لیے مسجد میں کرسی پر نماز پڑھنے کی مطلق ممانعت کی دلیل بنانا درست نہیں، اس آیت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ:" اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مقابلے میں اپنی طرف سے کوئی بات یا طریقہ اختیار کرکے پیش قدمی نہ کی جائے۔" لہٰذا، اگر کسی مسئلے میں قرآن و سنت سے شرعی رخصت ثابت ہو، تو اس رخصت پر عمل کرنا آیت کے خلاف نہیں، بلکہ اللہ اور رسول(عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم) کی اطاعت ہی ہے۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے "اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی اجازت کے بغیرکسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے بڑھنارسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کے ادب و احترام کے خلاف ہے جبکہ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام اَقوال و اَفعال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا تمہیں آگے بڑھنے سے روکے گا اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ تمہارے تمام اقوال کو سنتا اور تمام افعال کو جانتا ہے اور جس کی ایسی شان ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔

اس آیت کے شان نزول سے متعلق مختلف روایات ہیں، ان میں سے دو رِوایات درجِ ذیل ہیں:

(1) چند لوگوں نے عیدُالاضحی کے دِن سر کارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں۔

… (2) حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے،ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے آگے نہ بڑھو۔" (تفسیر صراط الجنان ،جلد 9،صفحہ394،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5420
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1445ھ / 07 اکتوبر 2023ء