logo logo
AI Search

ہر جگہ مغرب کی سمت منہ کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ہر جگہ مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا بندہ جہاں بھی ہو مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ سکتا ہے؟

جواب

نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہے، اور قبلہ کی سمت کا تعین کعبہ شریف کی جغرافیائی محل وقوع (Geographic Location) کے اعتبار سے کیا جاتا ہے، جو کہ جگہ کے مختلف ہونے سے مختلف ہو سکتا ہے، دنیا میں بہت ممالک اور مقامات ایسے ہیں، جہاں قبلہ مغرب کی طرف نہیں، مثلاً مدینہ شریف وغیرہ، لہذا مطلقاً یہ کہنا کہ آدمی جہاں بھی ہو مغرب کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے، یہ شرعاً درست نہیں ہے؛ تاہم !یہ ہے کہ پاک و ہند میں کعبہ شریف مغرب کی جہت میں واقع ہے، لہذا اگر کوئی وہاں مغرب کی طرف رخ کرے گا، تو اس کا رخ کعبہ شریف کی سمت ہو جائے گا۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:

﴿ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ﴾

ترجمہ کنز العرفان:  تو ابھی اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کر لو۔    (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 144)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت مبارکہ کے تحت ہے:  ”یعنی  اے مسلمانو! تم زمین کے جس حصے میں بھی ہو اور وہاں نماز پڑھنے لگو تو اپنا منہ خانہ کعبہ کی طرف کر لو۔ اس آیت میں مسلمانوں کو قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا، نما زمیں کعبہ شریف کی طرف منہ کرنا شرط ہے۔ کعبہ کی جہت کی طرف منہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ منہ کی سطح کا کوئی جز کعبہ کی سمت میں واقع ہو۔“ (صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 261 ملتقطاً، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بخار ی شریف میں ہے

”عن ابی ایوب الانصاری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا اتی احدکم الغائط فلا یستقبل القبلۃ ولا یولھا ظھرہ شرقوا او غربوا“

ترجمہ: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے آئے تو قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرے، مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرے۔ (صحیح بخاری، باب لاتستقبل القبلۃ، جلد 1، صفحہ 26، مطبوعہ:  کراچی )

مذکورہ بالا حدیث کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ  مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح میں فرماتے ہیں: ”یعنی پیشاب، پاخانہ کے وقت قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرناحرام ہے۔چونکہ مدینہ منورہ میں قبلہ جانبِ جنوب ہے اور شام یعنی بیت المقدس جانبِ شمال، وہاں کے لحاظ سے فرمایا گیا کہ شرق یا غرب کو منہ کر لو۔ چونکہ ہمارے ہاں قبلہ جانبِ مغرب ہے لہذا لوگ جنوب یا شمال کو منہ کریں گے، خیال رہے کہ اس حدیث میں جنگل یا آبادی کی کوئی قید نہیں۔“ (مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الطہارات ، جلد 1، صفحہ 258، مطبوعہ: ضیاء القرآن، لاہور)

فتاوی خیریہ میں ہے

”وعن ابی حنیفۃ المشرق قبلۃ اھل المغرب والمغرب قبلۃ اھل المشرق والجنوب قبلۃ اھل الشمال والشمال قبلۃ اھل الجنوب“

ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اہل مغرب کا قبلہ مشرق ہے اور اہل مشرق کا قبلہ مغرب ہے اور اہل شمال کا قبلہ جنوب اور اہل جنوب کا قبلہ شمال ہے۔ (فتاوی خیریہ مع العقود الدریۃ، ج 1، ص 13، مطبوعہ:  کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "در بلاد ما کہ قبلہ سوئے مغرب ست“یعنی  ہمارے علاقہ میں قبلہ مغرب میں ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 216، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4873
تاریخ اجراء:14 شوال المکرم 1447ھ/03 اپریل 2026ء