سجدے میں دونوں گھٹنے زمین پر رکھنا واجب ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سجدے میں گھٹنے زمین پر رکھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
سجدے میں دونوں گھٹنے زمین پر رکھنا واجب ہے، کیونکہ حدیث پاک میں سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جن میں دونوں گھٹنے بھی شامل ہیں، اور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے بھی سجدے میں ہمیشہ دونوں مبارک گھٹنے زمین پر رکھے ہیں، جس کا تقاضا یہ ہے کہ سجدے میں دونوں گھٹنوں کا زمین پر رکھنا واجب ہو، اور محقق علی الاطلاق علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اختیار فرمایا ہے اور بحر میں اسے اصول کے موافق ہونے کی وجہ سے اعدل الاقوال قرار دیا ہے اور حلیہ میں اسے حسن قرار دیا ہے۔ اور کثیر مشائخ نے دونوں گھٹنوں کو زمین پر رکھنے کو اگرچہ سنت قرار دیا ہے، لیکن امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ان کا سنت قرار دینا، واجب والے قول کے مخالف نہیں کہ فقہائے کرام بسا اوقات واجب پر سنت کا اطلاق کرتے ہیں، جیسے وتر اور عیدین وغیرہ جو کہ واجب ہیں، ان پر سنت کا بھی اطلاق کیا گیا ہے، اور اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ ان کا وجوب سنت یعنی حدیث پاک سے ثابت ہے۔
بخاری شریف کی حدیث پاک میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: «أمرت أن أسجد على سبعة أعظم، على الجبهة – و أشار بيده على أنفه – و اليدين، و الركبتين، و أطراف القدمين، و لا نكفت الثياب و الشعر» ترجمہ: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا؛ پیشانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ فرمایا، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدموں کے کناروں پر اور یہ کہ ہم کپڑے اور بال نہ سمیٹیں۔ (صحیح البخاری، صفحہ 156، حدیث 812، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مسند ابی یعلی میں عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: «أمر العبد أن يسجد، على سبعة آراب منه: وجهه، و كفيه، و ركبتيه، و قدميه، أيها لم يضع فقد انتقص» ترجمہ: بندے کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: اس کی پیشانی، اس کی دونوں ہتھیلیاں، اس کے دونوں گھٹنے، اس کے دونوں پاؤں۔ ان میں سے کسی عضو کو اس نے نہ رکھا تو اس نے سجدے میں کمی کی۔ (مسند ابی یعلی، جلد 2، صفحہ 60، حدیث 702، مطبوعہ: دمشق)
بحر الرائق میں ہے و أما اليدان والركبتان فظاهر الرواية عدم افتراض وضعهما قال في التجنيس و الخلاصة و عليه فتوى مشايخنا، و في منية المصلي ليس بواجب عندنا و اختار الفقيه أبو الليث الافتراض و صححه في العيون و لا دليل عليه؛ لأن القطعي إنما أفاد وضع بعض الوجه على الأرض دون اليدين و الركبتين و الظني المتقدم لا يفيده، لكن مقتضاه و مقتضى المواظبة الوجوب، و قد اختاره المحقق في فتح القدير، و هو إن شاء اللہ تعالى أعدل الأقوال لموافقته الأصول، و إن صرح كثير من مشايخنا بالسنية و منهم صاحب الهداية
ترجمہ: رہا دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنوں کا معاملہ تو ظاہر الروایہ ہے کہ ان دونوں کا رکھنا فرض نہیں ہے، تجنیس اور خلاصہ میں فرمایا: اور اسی پر فتوی ہے، اور منیۃ المصلی میں ہے ہمارے نزدیک واجب نہیں ہے اور فقیہ ابو اللیث نے فرضیت کو اختیار کیا ہے اور عیون میں اس کی تصحیح کی ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ دلیل قطعی نے بعض چہرے کو زمین پر رکھنے کا فائدہ دیا ہے، نہ کہ دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں کے رکھنے کا، اور ظنی دلیل، جو پیچھے گزر گئی، وہ اس کا فائدہ نہیں دیتی، ہاں! اس کا تقاضا اور ہمیشگی کا تقاضا وجوب ہے، اور محقق نے فتح القدیر میں اس کو اختیار کیا ہے، اور وہ ان شاء اللہ تعالیٰ اصول کی موافقت کی بناء پر تمام اقوال میں سے سب سے زیادہ مناسب ہے، اگرچہ ہمارے کثیر مشائخ نے سنیت کی تصریح کی ہے اور انہی میں سے صاحب ہدایہ ہیں۔ ( البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 556، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ جد الممتار میں فرماتے ہیں: و ربما لا ينافیه ما ذكر كثير من المشائخ، فربما يطلقون السنة على الواجب كالوتر و صلاة العيدين و غيرهما" ترجمہ: اور بہت دفعہ اس کے منافی نہیں ہوتا وہ جو کثیر مشائخ نے ذکر فرمایا ہے کیونکہ بہت دفعہ وہ سنت کا واجب پر اطلاق پر اطلاق کرتے ہیں جیسے وتراور عیدین کی نماز وغیرہ۔ (جد الممتار على رد المحتار، جلد 3، صفحہ 180، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
امام اہلسنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: خوب تر یہ ہے کہ جب ہمارے مشائخِ عراق نے جماعت کو واجب اور مشائخِ خراسان نے سنت مؤکدہ فرمایا اور مفید میں یوں تطبیق دی کہ واجب ہے، اور اس کا ثبوت سنت سے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ ب، صفحہ 916، 917، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5206
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر 1448ھ / 21 جولائی 2026ء