logo logo
AI Search

گفٹ دیتے ہوئے "ضرورت پر بیچنے" کی شرط لگانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گفٹ کرتے ہوئے کہنا کہ ضرورت پڑی تو یہ چیز میں بیچ دوں گا تو اس گفٹ اور اس چیز کی زکوٰۃ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو سونے کی چین گفٹ کی تھی اور اس کے قبضہ میں بھی دے دی تھی، لیکن ساتھ میں یہ بھی شرط رکھی تھی کہ اگر مجھے پیسوں کی ضرورت ہوئی تو میں اس کو بیچ دوں گا، تو مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ مذکورہ چین میری ملکیت میں ہی ہے یا بیوی کی ملکیت ہو چکی ہے؟ نیز اس کی زکوۃ کس کے ذمہ لازم ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔

نوٹ: سائل نے اس بات کی وضاحت دی ہے کہ مذکورہ چین بیوی کو مالک کرنے کے طور پر ہی دی ہے، استعمال کے طور پر عاریۃً نہیں دی، اس نے کئی مرتبہ شادی وغیرہ کے موقع پر پہننا بھی ہے اور اسی کے لاکر میں رکھی ہوئی ہے، میرے پاس نہیں ہے۔ سائل: طیّب (لطیف آباد نمبر 02، حیدر آباد)

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے اپنی بیوی کو سونے کی چین ہبہ (گفٹ) کی اور اس نے اس پر قبضہ بھی کر لیا تو وہ اس چین کی مالک ہو گئی، اس کے بعد آپ کا یہ شرط رکھنا کہ "جب مجھے ضرورت ہوگی تو میں اس کو بیچ دوں گا" باطل و کالعدم ہے، اس شرط کی وجہ سے ہبہ (گفٹ) پر کوئی اثر نہیں ہوگا، کیونکہ وقتِ ہبہ، واہب (گفٹ کرنے والا) کوئی ایسی شرط رکھے جو کہ عقدِ ہبہ کے خلاف ہو تو اس شرط کی وجہ سے ہبہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا، بلکہ وہ شرط ہی باطل و بے اثر ہو جاتی ہے اور ہبہ درست قرار پاتا ہے۔ نیز جب مذکورہ سونے کی چین آپ کی بیوی کی ملک ہو گئی تو اس کی زکوۃ آپ پر لازم نہیں، بلکہ آپ کی بیوی پر ہی لازم ہوگی، جبکہ زکوۃ کے دیگر شرائط بھی پائے جائیں ۔ہاں! آپ ان کی اجازت سے، ان کی زکوۃ، اپنے مال سے ادا کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔

ہبہ قبضہ کاملہ سے ہی تام و مکمل ہوتا ہے چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: "ولا یتم حکم الھبۃ الا مقبوضۃ۔" اور ہبہ کا حکم بغیر قبضہ کے پورا نہیں ہوتا۔ (فتاوی عالمگیری، ج 4، ص 377، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے: "اما حکمھا فثبوت الملک للموھوب لہ۔" رہا ہبہ کا حکم تو وہ موہوب لہ کے لئے ملک ثابت ہو جانا ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 4، ص 374، مطبوعہ: کوئٹہ)

ہبہ شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا، چنانچہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے: "(و) حکمھا (انھا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ) فھبۃ عبد علی ان یعتقہ تصح وتبطل الشرط ۔" ہبہ کا حکم یہ ہے کہ وہ فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتا تو غلام کو ہبہ کرتے ہوئے شرط لگانا کہ موہوب لہ اسے آزاد کرے گا، تو ہبہ صحیح ہوگا اور شرط باطل ہوگی۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، ج 8، ص 570، مطبوعہ: کوئٹہ)

یونہی تنقیح فتاوی حامدیہ میں ہے: "(سئل) فيما اذا وهب زيد المريض قطعة أرض وحمارا من عمرو الأجنبي وسلمه ذلك على أن يهب ذلك من هند بعد موته وذلك يخرج من ثلث ماله فهل تصح الهبة ويبطل الشرط؟

(الجواب): حيث كانت الهبة تخرج من ثلث ماله فهي صحيحة دون الشرط قال في الدر المختار من أول كتاب الهبة وحكمها أنها لا تبطل بالشروط الفاسدة فهبة عبد على أن يعتقه تصح ويبطل الشرط۔"

سوال کیا گیا اس مسئلہ کے بارے میں جب زید مریض نے عمرو اجنبی کو ایک ٹکڑا زمین اور ایک گدھا ہبہ کیا اور اس کے سپرد کر دیا اس شرط پر کہ یہ چیزیں اس کی موت کے بعد ہندہ کو ہبہ کرے گا، اور یہ چیزیں اس کے تہائی مال سے خارج ہیں تو کیا یہ ہبہ درست ہوجائے گا اور شرط باطل ہو جائے گی؟

(جواب): چونکہ یہ ہبہ اس کے تہائی مال سے خارج ہے، اس لیے یہ ہبہ صحیح ہے نہ کہ شرط۔ "الدر المختار" میں کتابِ ہبہ کے شروع میں ہے کہ اس کا حکم ہے کہ ہبہ فاسد شرطوں سے باطل نہیں ہوتا تو غلام کو ہبہ کرتے ہوئے شرط لگانا کہ موہوب لہ اسے آزاد کرے گا، تو ہبہ صحیح ہوگا اور شرط باطل ہوگی ۔" (تنقیح فتاوی حامدیہ، ج 02، ص 157، مطبوعہ: کراچی)

واہب ہبہ میں یہ شرط رکھے کہ ایک مہینے کے بعد مجھے موہوبہ چیز واپس کر دینا، یہ شرط باطل ہے، اس کی وجہ سے ہبہ پر کوئی اثر نہیں ہوگا، ہبہ ہو جائے گا، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں "نہ یہ کہ زید (واہب) اپنی مصلحت ذکر کرے تو سرے سے تملیك ہی اڑادیں اور اسی ذکر مصلحت کو اس کے بطلان کا قرینہ ٹھہرا دیں۔ یوں ہوتا تو یہ کہنا کہ میں نے زید کو اس غلام کا مالك کیا اس شرط پر کہ مہینہ بھر بعد مجھے واپس کر دے ہبہ نہ ہوتا عاریت قرار پاتا حالانکہ یہ باجماع ائمہ حنفیہ باطل ہے۔ عالمگیریہ میں ہے: قال اصحابنا جمیعا رحمھم ﷲ تعالٰی اذا وھب ھبۃ وشرط فیھا شرطا فاسدا فالھبۃ جائزۃ والشرط باطل کمن وھب لرجل أمۃ فاشترط علیہ ان یردھا علیہ بعد شھر کذا فی السراج الوھاج۔ ہمارے تمام اصحاب رحمہم ﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ جب کسی نے ہبہ کیا اور اس میں کوئی فاسد شرط لگا دی تو ہبہ جائز اور شرط باطل ہے۔ جیسے کسی نے لونڈی اس شرط پر ہبہ کی کہ ایك ماہ بعد موہوب لہ، وہ لونڈی واہب کو لوٹادے گا، سراج وہاج میں یوں ہی ہے۔ ملخصاً (فتاوٰی رضویہ، ج 25، ص 546 تا 547 مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاہور)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کو مکان ہبہ کیا اور ساتھ میں یہ شرط رکھی کہ اپنی زندگی تک بطور مالکانہ سکونت رکھوں گا اور اس کی مرمت میرے ذمہ ہوگی۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: "اور سکونت و مرمت کی شرطیں اگرچہ بیجا ہیں مگر ہبہ شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرطیں فاسد و بے اثر ٹھہرتی ہیں۔" (فتاوٰی رضویہ، ج 19، ص 230، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاہور)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن درمیانِ سال ہبہ کے ذریعے ملے ہوئے مالِ تجارت سے متعلق فرماتے ہیں: ’’جو شخص مالک ِ نصاب ہے اور ہنوز حولان حول نہ ہو ا کہ سال کے اندر ہی کچھ اور مال اسی نصاب کی جنس سے، خواہ بذریعہ ہبہ یا میراث یا شرا یا وصیّت یا کسی طرح اس کی ملک میں آیا، تو وہ مال بھی اصل نصاب میں شامل کر کے اصل پر سال گزرنا، اُ س سب پر حولان حول قرار پائے گا اور یہاں سونا چاندی تو مطلقاً ایک ہی جنس ہیں، خواہ ان کی کوئی چیز ہو اور مال تجارت بھی انہی کی جنس سے گِنا جائے گا اگرچہ کسی قسم کا ہو کہ آخر اس پر زکوٰۃ یوں ہی آتی ہے کہ اس کی قیمت سونے یا چاندی سے لگا کر انھیں کی نصاب دیکھی جاتی ہے، تو یہ سب مال زر و سیم ہی کی جنس سے ہیں اور وسط سال میں حاصل ہوئے، تو ذہب و فضّہ کے ساتھ شامل کر دئے جائیں گے ۔ " (فتاویٰ رضویہ، ج 10، ص 86، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ دوسرے کی طرف سے فرض یا واجب مالی ادا کرنے کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: دوسرے کی طرف سے کوئی فرض و واجب مالی ادا کرنے کے لیے اس کی اجازت کی حاجت ہے، اگر بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر یا اس کی زکوٰۃ ماں باپ نے اپنے مال سے ادا کردی یا ماں باپ کی طرف سے اولاد نے اور اصل جس پر حکم ہے اس کی اجازت نہ ہوئی تو ادا نہ ہوگی۔ (فتاویٰ رضویہ ج 10، ص 139، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاھور)

تنبیہ: یاد رہے کسی کو گفٹ دیکر واپس لے لینا مکروہ تحریمی و گناہ ہے، حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایسے شخص کی مثال اس طرح بیان فرمائی ہے جیسے کتا قے (یعنی الٹی) کر کے چاٹ لیتا ہے۔ مگر ہبہ کرنے والے کو مکروہ تحریمی ہونے کے باوجود رجوع یعنی واپس لینے کا اختیار حاصل ہے لیکن یہ اختیار صرف اسی صورت میں ہے کہ جب رجوع سے مانع کوئی چیز موجود نہ ہو اور دوسرا فریق بھی رجوع پر راضی ہو یا اگر وہ راضی نہیں تو قاضی یا حاکم اسلام نے واپس لینے پر فیصلہ کر دیا ہو، دوسرے فریق کی رضامندی یا حاکم اسلام کے فیصلہ کے بغیر، جبراً خود سے واپس لے لینا درست نہیں ہے۔ نیز موانع رجوع میں سے ایک مانع یہ بھی ہے کہ وقتِ ہبہ عاقدین میں زوجیت یعنی میاں بیوی کا رشتہ نہ ہو، اگر وقتِ ہبہ رشتہ زوجیت ہو تو اس ہبہ سے رجوع نہیں کر سکتا، ورنہ رجوع کر سکتا ہے۔ اس تفصیل کے مطابق آپ گفٹ کی ہوئی سونے کی چین بیوی سے واپس نہیں لے سکتے کہ گفٹ کے رجوع سے مانع (یعنی وقت ہبہ زوجیت کا پایا جانا) موجود ہے۔ البتہ آپ کی بیوی خود اپنی رضا مندی سے بغیر کسی جبر و اکراہ کے، آپ کو بطور گفٹ سونے کی چین دے دیتی ہے تو ان کی طرف سے جدید ہبہ یعنی نیا گفٹ ہوگا، وہ آپ لے سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ۔

بخاری شریف میں ہے "نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "العائد في هبته كالعائد في قيئه۔" اپنے ہبہ سے رجوع کرنے والا اپنی قے میں لوٹنے والے کی طرح ہے۔ (صحیح بخاری، ج 1، ص 459، مطبوعہ: لاہور)

ہبہ سے رجوع کرنا مکروہ تحریمی ہے چنانچہ مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے: "(ویکرہ) ای الرجوع تحریما۔" اور ہبہ میں رجوع کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر، ج 3، ص 499، مطبوعہ: کوئٹہ)

ہبہ سے رجوع کب ہو سکتا ہے اس کو بیان کرتے ہوئے تنویر الابصار میں ہے: "(صح الرجوع فیھا بعد القبض مع انتفاع مانعہ)۔" موانع کے مفقود ہونے کی صورت میں قبضہ کے بعد ہبہ میں رجوع درست ہے۔ (تنویر الابصار مع رد المحتار، ج 8، ص 586، مطبوعہ: کوئٹہ)

رجوع میں حکمِ حاکم یا فریق ثانی کی رضا ضروری ہے اس کے متعلق تنویر الابصار میں ہے: "(ولایصح الرجوع الا بتراضیھما او بحکم الحاکم۔") اور رجوع صحیح نہیں ہے مگر دونوں فریقوں کی رضامندی کے ساتھ یا حاکم کے حکم کے ساتھ۔ (تنویر الابصار مع رد المحتار، ج 8، ص 597، مطبوعہ: کوئٹہ)

موانعِ رجوع میں سے کوئی نہ ہو تو موہوب لہ کی رضا یا قضائے قاضی سے ہبہ میں رجوع ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں میں ہے: "اگر وہ شخص اس کا ذی رحم محرم نہیں یعنی نسب کے رو سے ان میں باہم وہ رشتہ نہیں جو ہمیشہ ہمیشہ حرمت نکاح کا موجب ہوتا ہے جیسے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، بھائی، بہن، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، نہ یہ واھب و موہوب لہ وقت ھبہ باہم زوج و زوجہ تھے، نہ موہوب لہ وقت ہبہ فقیر تھا، نہ اب تک موہوب لہ اس ھبہ کے عوض میں کوئی چیز یہ جتا کر واہب کودے چکا ہے کہ یہ تیرے ہبہ کا معاوضہ ہے، نہ اس عین شیئ موہوب میں کوئی ایسی زیادت موہوب لہ کے پاس حاصل ہوئی اور اب تک باقی ہے جس سے قیمت بڑھ جائے جیسے زمین میں عمارت یا پیڑ یا کپڑے میں رنگ یا جاندار میں فربہی یا کنیز میں حُسن یا اسے کوئی صنعت یا علم آ جانا تو ان سب شرائط کے ساتھ جب تک وہ شے موہوب اس موھوب لہ کی ملک میں باقی و قائم اور واہب و موہوب لہ دونوں زندہ ہیں اگرچہ ھبہ کو سو برس گزر چکے ہوں واپس لینے کا اختیار ہے بایں معنی کہ یا تو موہوب لہ خود واپسی پر راضی ہو جائے یا یہ بحکم حاکم شرع واپس کرالے ورنہ آپ جبرا لے لینے کا یا کسی غیر حاکم شرعی کے حکم سے واپس کرانے کا اصلا اختیار نہیں یونہی اگر ان آٹھ شرطوں میں سے کوئی بھی کم ہے تو واپسی کا مطلقا اختیار نہ ہوگا، پھر یہاں اختیار کا صرف اتنا حاصل کہ واپسی صحیح ہو جائے گی لیکن گناہ ہر طرح ہوگا کہ دے کر پھیرنا شرعا منع ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی مثال ایسی فرمائی جیسے کتا قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 198، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

عاقدین وقت ہبہ میاں بیوی ہوں تو ہبہ سے رجوع نہیں ہو سکتا، چنانچہ تنویر الابصار و در مختارمیں ہے: "(یمنع الرجوع فیھا) حروف (دمع خزقہ۔۔۔ والز ای الزوجیۃ وقت الھبۃ)" ہبہ میں رجوع سے مانع یہ حروف ہیں: دمع خزقہ، اور (ان سات حروف میں سے زا سے مراد ہے زوجیت ہے جو بوقتِ ہبہ موجود ہو۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، ج 08، ص 587 تا 596، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "زوجیت سے مراد وہ ہے جو وقت ہبہ موجود ہو ۔" (بہار شریعت، ج 03، ص 93، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)

موہوب لہ، واہب کو اس کے مطالبہ کے بعد، اپنی خوشی سے کوئی چیز ہبہ کرے تو وہ اس کا مالک ہو جائے گا، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں میں ہے: "ہاں اگر اس گمان سے نہ دیا بلکہ دیدہ دانستہ اپنی خوشی سے اپنا زیور اس کے عوض میں ہبہ کر دیا اگرچہ یہ ہبہ اسی بنا پر واقع ہوا ہو کہ ایسے اوچھے کا احسان نہ رکھنا چاہئے تو اس صور ت میں مرید اس زیور کا مالک ہوگیا۔" (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 269، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: har-7338
تاریخ اجراء: 08 شوال المکرم 1447ھ/28 مارچ 2026ء