logo logo
AI Search

رہن رکھوایا مکان خود کرائے پر لینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اپنا مکان رہن رکھوا کر پھر خود کرائے پر لینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بکر نے زید کے پاس اپنا مکان دو سال کے لیے رہن رکھا ،اس کے بعد بکر نے زید سے کہا کہ:" تم یہ گھر مجھے ہی کرایہ پر دے دو!" توکیا زید کے لئے مرہونہ مکان بکر کو کرائے پر دینا جائز ہے؟

جواب

زید کا مرہونہ مکان بکر کو کرائے پردینا درست نہیں، کیونکہ رہن رکھنے کے باوجود وہ مکان راہن (بکر) کی ملکیت پر باقی ہے، اور مالک کا اپنی ملکیت میں موجود چیز دوسرے سے کرائے پر لینا محض بےکار و بے معنی، اور شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے۔
نوٹ: مرتہن کے لئے جائز نہیں کہ وہ قرض کی بنیاد پر رہن سے کسی بھی طرح کا نفع حاصل کرے کہ یہ سود کے زمرے میں جاتا ہے اور سود ناجائز و حرام ہے۔ البتہ! اگر ایسا معاہدہ کسی غیر مسلم کے ساتھ ہو، تو اس کی تفصیل بتا کر جداگانہ رہنمائی حاصل کر لی جائے۔
مرتہن مرہونہ چیز راہن کو کرائے پر دے تو یہ اجارہ درست نہیں۔ چنانچہ مجمع الضمانات میں ہے ”لو أجر المرتهن الرهن من الراهن لا تصح الإجارة ويكون للمرتهن أن يعود في الرهن، ويأخذه“ ترجمہ: اگر مرتہن نے رہن والی چیز کا راہن سے اجارہ کیا، تو یہ اجارہ صحیح نہیں ہوگا اور مرتہن کو اختیار ہوگا کہ وہ رہن کی طرف لوٹ آئے اور وہ چیز واپس لے لے۔ (مجمع الضمانات، صفحہ 103، مطبوعہ: بيروت)
فتاوی رضویہ میں ہے ’’مرتہن سے راہن کاشیء مرہون کو کرایہ پر لینا اصلاً وجہ صحت نہیں رکھتا کہ مالک کا اپنی مِلک کو دوسرے سے کرایہ پر لینا محض بے معنی ہے ’’فی الھندیۃ آجرھا من الراھن لاتصح الاجارۃ‘‘ ہندیہ میں ہے مرتہن نے مرہون شیء راہن کو اجرت پردی تواجارہ صحیح نہیں ہوگا۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ، جلد 25، صفحہ 221، رضا فائونڈیشن، لاہور)
رہن سے نفع اٹھانے کے سود ہونے کے بارے میں مصنف عبد الرزاق میں ہے ”عن ابن سيرين قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إن رجلا رهنني فرسا فركبتها قال: ما أصبت من ظهرها فهو ربا“ ترجمہ: امام ابن سیرین کا بیان ہے کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ کسی بندے نے مجھے گھوڑا رہن کے طور پر دیا تھا، اس پر میں نے سواری کی، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ جو تم نے گھوڑے کی سواری سے نفع اٹھایا، وہ سود ہے۔ (مصنف عبد الرزاق، ج 08، ص 245، مطبوعہ: بیروت)
رد المحتار میں ہے ”عن عبد ﷲ بن محمد بن اسلم السمرقندی وکان من کبار علماء سمر قند أنہ لا یحل لہ ان ینتفع بشیء منہ بوجہ من الوجوہ وان اذن لہ الراھن لانہ اذن لہ فی الربا، لانہ یستوفی دینہ کاملا فتبقی لہ المنفعۃ فضلا فیکون ربا“ ترجمہ: عبد اللہ بن محمد بن اسلم سمرقندی سے منقول ہے، جو سمرقند کے بڑے علماء میں سے ایک تھے کہ مرتہن کو مرہون سے کسی طور پر بھی نفع اٹھانا، جائز نہیں، اگرچہ راہن نے اس کی اجازت دی ہو، کیونکہ یہ سُود کی اجازت ہے، اس لیے کہ مرتہن اپنا قرض پورا وصول کرتا ہے، اور منفعت اسے اضافی ملتی ہے، پس یہ منفعت سود ہے۔(رد المحتار، کتاب الرھن، ج 10، ص 86، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5373
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1448ھ/03 ستمبر 2026ء