logo logo
AI Search

ادھار سامان کی رقم وقت سے پہلے مانگنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ادھار بیچے ہوئے مال کی رقم وقت سے پہلے طلب کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے ثمن (Price) کی ادائیگی کے لیے اپنے دوست کو معین مدت یعنی چھ ماہ کی مہلت دی اور اس نے بھی اس مہلت کو قبول کرلیا، تو یہ دَین (واجب الاداء رقم) ’’میعادی‘‘ ہوگیا۔ اب اس میعاد کے مکمل ہونے سے پہلے آپ اپنی ادھار رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتے، کہ فقہائے کرام کی صراحت کے مطابق جب کسی دَین کے لیے باہمی رضامندی سے کوئی مدت طے کرلی جائے تو وہ مدت لازم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد دائن (جس کا دَین ہے) کو یہ حق حاصل نہیں رہتا کہ مقررہ مدت پوری ہونے سے پہلے دَین کی ادائیگی کا مطالبہ کرے، کیونکہ یہ مہلت مدیون (جس کے ذمہ دَین لازم ہے اس) کا حق بن چکی ہوتی ہے،اور مدیون کا حق کوئی دوسرا ساقط نہیں کر سکتا۔ البتہ سامنے والا راضی ہو تو وہ رقم پہلے دے سکتا ہے۔

بہارِ شریعت میں ہے: بائع نے اگر عقد بیع کے بعد مشتری کو ادائے ثمن کے لیے مہلت دی یعنی اُس کے لیے میعاد مقرر کردی اور مشتری نے بھی قبول کر لی تو یہ دَین میعادی ہوگیا یعنی بائع پر وہ معیاد لازم ہوگئی اُس سے قبل مطالبہ نہیں کر سکتا۔ ہر دَین کا یہی حکم ہے کہ میعادی نہ ہواور بعد میں میعاد مقرر ہوجائے تو میعادی ہوجاتا ہے مگر مدیون کا قبول کرنا شرط ہے اگر اُس نے انکار کردیا تو میعادی نہیں ہوگا فوراً اُس کا ادا کرنا واجب ہوگا اور دائن جب چاہے گا مطالبہ کرسکے گا۔ (بہارِ شریعت، 2 / 752)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2026ء