ادارے کا ملازمین کو قسطوں پر سامان دے کر نفع لینا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کسی کی چیز کی قیمت ادا کر کے اس سے زائد رقم وصول کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ادارہ اپنے ملازمین کو یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ میں سے کسی نے اگر ضروریات وغیرہ کی کوئی جائز چیز خریدنی ہے جیسے لیپ ٹاپ، موبائل، بائیک وغیرہ منقولی اشیاء تو وہ دوکان سے اپنے لیے خرید لے، اس کی پیمنٹ ادارہ اس دوکاندار کو کردے گا پھر ملازم اس رقم سے اتنی مخصوص زائد رقم قسطوں میں ادا کردے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس طور پر یہ خریداری کرنا درست ہے یا نہیں ؟
جواب
سوال میں جو صورت ذکر کی گئی ہے کہ ملازم اپنے لیے خود چیز خریدے اور ادارہ اس کی پیمنٹ کرے اور پھر وہ قیمت زائد رقم کے ساتھ قسطوں میں ملازم سے وصول کرے یہ طریقہ شرعا درست نہیں، بلکہ ناجائز و حرام ہے کہ سود ہے، کیونکہ ایسی صورت میں ادارے نے جتنی رقم ادا کی ہوتی ہے، وہ ملازم پر قرض ہو جاتی ہے، اب ادارے کا اس سے زائد رقم لینے کی شرط لگانا، یہ قرض پر نفع کی شرط لگانا ہے اور قرض پر مشروط نفع سود ہے اور سود حرام ہے۔
جواز کی صورت:
جواز کی صورت یہ ہے کہ ادارہ وہ چیز اپنے لیے خود یا اپنے وکیل کے ذریعے خریدے اور خود اپنے یا اپنے وکیل کے قبضے کے بعد ملازم کو جتنی چاہے زائد قیمت پر باہمی رضامندی کے ساتھ بیچ دے کہ اب جو زائد رقم مقرر کی جائے گی، یہ چیز کی قیمت ہوگی، قرض پر مشروط نفع نہ ہوگا۔ اور اللہ تعالی نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔
نوٹ:
ہاں یہ یاد رہے کہ قسطوں کی ادائیگی میں کوئی ناجائز شرط مثلا قسط لیٹ ہونے پر جرمانہ وغیرہ نہیں ہونی چاہیے۔
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمہ: اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سُود۔ (سورۃ البقرۃ، پ 03، آیت 275)
حدیث پاک میں ہے ''قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا' 'ترجمہ: رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ قرض جو نفع کھینچے وہ سود ہے۔ (مسند الحارث، ج 01، ص 500، المدینۃ المنورۃ)
رد المحتار میں ہے "من قضى دين غيره بأمره له أن يرجع عليه بلا شرط الرجوع في الصحيح فيكون تمليكا من المديون على سبيل القرض" ترجمہ: جس نے دوسرے کا قرض اس کے حکم سے ادا کیا تو وہ رجوع کی شرط لگائے بغیر اس سے اتنی رقم لے سکتا ہے صحیح قول کے مطابق، پس یہ قرض ادا کرنا مقروض کو بطور قرض مالک کرنا ہوگا۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الزکاۃ، ج 03، ص 342، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے "في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا" ترجمہ: جواھر الفتاوی میں ہے: جب نفع مشروط ہو تو وہ ایسا قرض ہے جس میں نفع ہو اور وہ سود ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، فصل فی القرض، ج 07، ص 413، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار اور فتاوی ہندیہ میں صحت بیع کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرمایا: "ومنها القبض في بيع المشترى المنقول وفي الدين" ترجمہ: اور بیع صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ: منقولی خریدی ہوئی چیز کی بیع کرنے کی صورت میں اور دین کی بیع کرنے کی صورت میں اس پر اولا قبضہ کیا جائے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 03، ص 03، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10906
تاریخ اجراء: 07 ربیع الاول 1443ھ/14 اکتوبر 2021ء